---روما محمود---
انسانی تاریخ کا اگر گہرا مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ انسان نے شعور کی پہلی آنکھ اس وقت کھولی جب اس نے اپنے ارد گرد پھیلی کائنات کو دیکھنا، سمجھنا اور اس پر غور کرنا شروع کیا۔ غاروں کی دیواروں پر بنے لکیروں کے جال سے لے کر آج کے ڈیجیٹل دور کے سکرینوں پر چمکتے الفاظ تک، انسان کا سفرِ علم جاری و ساری ہے۔ اس سفر میں 'کتاب' کو ہمیشہ ایک مقدس، محترم اور ناگزیر حیثیت حاصل رہی ہے۔ کتاب کو علم کا منبع، عقل کا سرچشمہ اور اندھیروں میں روشنی کا مینار کہا گیا ہے۔ لیکن اکیسویں صدی کے اس پُرآشوب اور تیز رفتار دور میں، جہاں معلومات کا سیلاب ہر طرف بہہ رہا ہے، ایک بنیادی، فلسفیانہ اور گہرا سوال ہمارے سامنے سر اٹھائے کھڑا ہے: "کیا صرف کتابیں پڑھنے سے علم آ جاتا ہے؟"
ظاہری طور پر اس کا جواب شاید بہت سے لوگ 'ہاں' میں دیں، لیکن اگر ہم علم کی گہرائی، اس کی روح اور انسانی معاشرے پر اس کے اثرات کا باریک بینی سے جائزہ لیں، تو یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح عیاں ہو جاتی ہے کہ محض کتابیں پڑھ لینا علم کے حصول کا ایک ذریعہ تو ہو سکتا ہے، خود 'علم' نہیں۔ کتاب معلومات کا ذخیرہ ہے، جبکہ علم اس معلومات کو زندگی میں ڈھالنے، سچ اور جھوٹ میں تمیز کرنے اور کائنات کے حقائق کو سمجھنے کا نام ہے۔
معلومات اور علم کا فرق (Information vs. Knowledge)
آج کے دور کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ ہم نے 'معلومات' (Information) کو 'علم' (Knowledge) سمجھ لیا ہے۔ ایک شخص مارکیٹ سے دس کتابیں خریدتا ہے، انہیں رات دن جاگ کر پڑھتا ہے، تاریخیں، نام، اعداد و شمار اور نظریات یاد کر لیتا ہے۔ اب وہ محفلوں میں بیٹھ کر حوالے دینے کے قابل ہو جاتا ہے۔ ہمارے روایتی معیار کے مطابق وہ ایک 'عالم' یا 'دانشور' بن چکا ہے۔ لیکن فلسفے کی نظر میں وہ صرف ایک "چلتا پھرتا انسائیکلوپیڈیا" ہے، عالم نہیں۔
معلومات پکی پکائی خوراک کی طرح ہوتی ہے جو کسی دوسرے کے دماغ کی پیداوار ہوتی ہے۔ کتاب لکھنے والا اپنے تجربات، اپنے مشاہدات اور اپنے دور کے حالات کے مطابق ایک نتیجہ اخذ کرتا ہے اور اسے صفحات پر بکھیر دیتا ہے۔ جب کوئی دوسرا شخص اسے پڑھتا ہے، تو وہ صرف اس مصنف کے دماغ کا سفر کر رہا ہوتا ہے۔ علم اس وقت پیدا ہوتا ہے جب وہ قاری اس معلومات کو اپنے نظامِ فکر (Intellectual Filter) سے گزارتا ہے، اس پر سوال اٹھاتا ہے، اس کا موازنہ اپنی زندگی سے کرتا ہے اور پھر کسی نتیجے پر پہنچتا ہے۔
کتابیں آپ کو یہ بتا سکتی ہیں کہ "شہد میٹھا ہوتا ہے" اور اس کے کیمیائی اجزا کیا ہیں، یہ معلومات ہے۔ لیکن جب تک آپ شہد کی ایک بوند اپنی زبان پر نہیں رکھتے، اس کی مٹھاس کا احساس اور اس کا حقیقی تجربہ آپ کو حاصل نہیں ہو سکتا۔ یہی فرق کتابی معلومات اور حقیقی علم میں ہے۔
عمل علم کی معراج
علم کی سب سے بڑی دلیل اور اس کا حتمی مقصد 'عمل' ہے۔ دنیا کی تمام مقدس کتابیں، فلسفے کے ضخیم دیوان اور سائنس کے قوانین اس وقت تک بے معنی ہیں جب تک وہ انسانی رویے اور عمل میں تبدیل نہ ہوں۔
عربی کا ایک مشہور مقولہ ہے: "العلم بلا عمل کالشجر بلا ثمر" (وہ علم جس پر عمل نہ کیا جائے، اس درخت کی مانند ہے جس کا کوئی پھل نہ ہو)۔ ایک شخص نے اخلاقیات پر سو کتابیں پڑھ رکھی ہیں، اسے معلوم ہے کہ سچ بولنا کتنا اہم ہے، امانت داری کیا ہوتی ہے اور دوسروں کے حقوق کا تحفظ کیسے کیا جاتا ہے۔ لیکن اگر عملی زندگی میں وہ جھوٹ بولتا ہے، ملاوٹ کرتا ہے اور اپنے ماتحتوں پر ظلم کرتا ہے، تو کیا اس کی پڑھی ہوئی سو کتابیں اسے عالم بنا سکیں؟ ہرگز نہیں۔ اس کے برعکس، ایک ان پڑھ کسان جو کتاب کا نام تک نہیں جانتا، لیکن وہ اپنی محنت کی کمائی کھاتا ہے، کسی کو دھوکہ نہیں دیتا اور سچائی پر قائم رہتا ہے، وہ اس کتابی دانشور سے ہزار درجہ زیادہ 'صاحبِ علم' ہے۔
مغربی فلسفے میں بھی 'عملیت پسندی' (Pragmatism) پر بہت زور دیا گیا ہے۔ جان ڈیوی (John Dewey)، جو ایک عظیم ماہرِ تعلیم گزرے ہیں، ان کا مشہور نظریہ ہے "Learning by Doing" یعنی 'کام کر کے سیکھنا'۔ کتابیں صرف اصول سکھاتی ہیں، لیکن ان اصولوں کی درستی اور افادیت صرف عمل کے میدان میں ہی ثابت ہوتی ہے۔
مشاہدہ، تدبر اور کائنات کی کھلی کتاب
کتابیں انسان کی بنائی ہوئی ہیں، جبکہ یہ کائنات، یہ زمین، یہ آسمان، بدلتے ہوئے موسم، انسانوں کے رویے اور خود انسانی وجود قدرت کی لکھی ہوئی وہ کھلی کتابیں ہیں جن کا مطالعہ کیے بغیر کوئی شخص حقیقی علم تک نہیں پہنچ سکتا۔
اگر علم صرف کتابوں تک محدود ہوتا تو دنیا کے پہلے انسان کے پاس تو کوئی کتاب نہیں تھی۔ پھر علم کہاں سے آیا؟ علم مشاہدے (Observation) سے آیا۔ نیوٹن نے جب سیب کو درخت سے گرتے دیکھا، تو اس وقت اس کے پاس جاذبیت (Gravity) پر لکھی ہوئی کوئی کتاب نہیں تھی۔ اس کا علم اس کے اپنے مشاہدے اور تدبر (Reflection) کا نتیجہ تھا۔ اس نے قدرت کی خاموش زبان کو سمجھا اور دنیا کو ایک نیا قانون دیا۔
قرآنِ پاک، جو مسلمانوں کے لیے علم اور ہدایت کا سب سے بڑا سرچشمہ ہے، اس میں جگہ جگہ انسان کو کتاب پڑھنے کے ساتھ ساتھ کائنات میں غور و فکر کرنے کی دعوت دی گئی ہے۔ ارشاد ہوتا ہے:
"کیا انہوں نے اپنے اوپر آسمان کی طرف نہیں دیکھا کہ ہم نے اسے کیسے بنایا اور اسے کیسے سجایا..."
یہ آیت انسان کو متحرک کرتی ہے کہ وہ کمرے سے باہر نکلے، اپنی آنکھیں کھولے اور کائنات کے اسرار و رموز کو خود دریافت کرے۔ جو علم مشاہدے اور تجربے سے حاصل ہوتا ہے، وہ انسان کے خون میں شامل ہو جاتا ہے، جبکہ کتابی علم صرف یادداشت کی اوپری سطح پر تیرتا رہتا ہے۔
اساتذہ، مرشد اور صحبتِ صالح کا کردار
کتاب ایک خاموش ساتھی ہے۔ وہ آپ کو معلومات تو دے دے گی، لیکن اگر آپ کسی نکتے کو غلط سمجھ رہے ہیں، تو کتاب آپ کا ہاتھ پکڑ کر آپ کی اصلاح نہیں کرے گی۔ وہ آپ کے جذبات کی تربیت نہیں کر سکتی۔ یہیں سے 'استاد' یا 'مرشد' کی ضرورت کا احساس ہوتا ہے۔
مشرقی تہذیب میں 'صحبت' کو مطالعے پر فوقیت دی گئی ہے۔ صوفیائے کرام کا ماننا ہے کہ علم کتابوں کے صفحات سے نہیں، بلکہ سینوں سے سینوں میں منتقل ہوتا ہے۔ مولانا جلال الدین رومیؒ، جو اپنے وقت کے بہت بڑے عالم، مفتی اور مدرس تھے، ان کے پاس کتابوں کا ایک بہت بڑا ذخیرہ رہتا تھا۔ لیکن جب ان کی ملاقات شمس تبریزؒ سے ہوئی، تو ان کی کایا پلٹ گئی۔ رومیؒ نے خود فرمایا تھا:
"کتابوں سے کبھی کوئی رومیؒ نہیں بنتا، جب تک اسے کسی شمس کی صحبت میسر نہ ہو۔"
استاد صرف کتاب نہیں پڑھاتا، وہ اپنے کردار، اپنے لہجے، اپنی زندگی کے تجربات اور اپنی دانش سے طالبِ علم کی شخصیت کو تراشتا ہے۔ کتاب پڑھنے سے عقل تیز ہو سکتی ہے، لیکن دل کو زندہ رکھنے اور روح کو جلا بخشنے کے لیے کسی کامل انسان کی صحبت ناگزیر ہے۔
تنقیدی سوچ (Critical Thinking) کا فقدان
صرف کتابیں پڑھنے کا ایک بہت بڑا نقصان یہ ہوتا ہے کہ اگر انسان میں تنقیدی سوچ (Critical Thinking) نہ ہو، تو وہ ذہنی غلامی کا شکار ہو جاتا ہے۔ وہ کتاب میں لکھی ہوئی ہر بات کو حرفِ آخر سمجھ لیتا ہے۔ وہ یہ بھول جاتا ہے کہ کتاب لکھنے والا بھی ایک انسان تھا، جس کے اپنے تعصبات، اپنی حدود، اپنے خوف اور اپنے دور کے مخصوص نظریات تھے۔
جب کوئی معاشرہ صرف کتابوں کا حافظ بن جاتا ہے اور اپنی عقل کو تالا لگا دیتا ہے، تو وہاں جمود (Stagnation) پیدا ہو جاتا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی دنیا میں کوئی بڑا انقلاب آیا، کوئی نئی سائنسی دریافت ہوئی یا کوئی نیا سماجی نظریہ سامنے آیا، تو وہ ان لوگوں کی بدولت آیا جنہوں نے مروجہ کتابوں کے نظریات کو چیلنج کیا۔ اگر گلیلیو، کوپرنیکس اور آئن سٹائن صرف پرانی کتابوں کو سچ مان کر بیٹھ جاتے، تو آج سائنس اس مقام پر نہ ہوتی۔
سچا علم انسان کو 'سوال' کرنا سکھاتا ہے۔ وہ اسے یہ آزادی دیتا ہے کہ وہ پڑھے، سمجھے، لیکن اندھی تقلید نہ کرے۔ بقول علامہ اقبال:
گلا تو گھونٹ دیا اہل مدرسة نے تیرا
کہاں سے آئے صدا لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہ
اقبال کا اشارہ اسی کتابی اور روایتی علم کی طرف تھا جو انسان کو لکیر کا فقیر بنا دیتا ہے اور اس کی اپنی تخلیقی صلاحیتوں کو قتل کر دیتا ہے۔
ڈیجیٹل دور اور "گوگل انفارمیشن" کا سراب
آج ہم جس دور میں جی رہے ہیں، اسے معلومات کا دھماکہ (Information Explosion) کہا جاتا ہے۔ انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا نے دنیا بھر کی کتابیں، مقالے اور لائبریریاں ہماری انگلیوں کی پوروں پر لا کر رکھ دی ہیں۔ کسی بھی موضوع پر چند سیکنڈز میں لاکھوں صفحات کا مواد حاصل کیا جا سکتا ہے۔ لیکن کیا اس سہولت نے ہمارے معاشرے کو زیادہ پڑھا لکھا، مہذب اور صاحبِ علم بنا دیا ہے؟
جواب انتہائی مایوس کن ہے۔ ہم معلومات کے سمندر میں ڈوب رہے ہیں لیکن علم کے پیاسے ہیں۔ آج کا نوجوان گوگل سے کسی بھی فلسفے کا خلاصہ پڑھ کر خود کو اس کا ماہر سمجھنے لگتا ہے۔ یہ 'سطحی علم' (Superficial Knowledge) ہے، جو گہرے مطالعے، غور و فکر اور وقت دینے سے محروم ہے۔ کتابیں پڑھنا یقیناً ایک اچھی عادت ہے، لیکن ڈیجیٹل اسکرینوں پر بکھرے ہوئے اقتباسات (Quotes) پڑھ کر سچی دانش حاصل نہیں ہو سکتی۔ اس نے انسان کو بے صبرا اور کم علم بنا دیا ہے جو ہر معاملے پر فوری رائے قائم کر لیتا ہے، بغیر یہ جانے کہ حقیقت کی تہہ کتنی گہری ہے۔
علم کی اقسام اور حقیقی علم کا معیار
فلسفہِ علم (Epistemology) میں علم کو مختلف اقسام میں تقسیم کیا گیا ہے۔ ایک علم وہ ہے جو مادی دنیا کو چلانے کے لیے ضروری ہے، جیسے سائنس، معاشیات، قانون اور انجینئرنگ۔ یہ علوم کتابوں، لیبارٹریوں اور یونیورسٹیوں سے حاصل ہوتے ہیں اور ان کی اپنی ایک افادیت ہے۔
لیکن ایک دوسرا علم ہے، جسے 'حقیقی علم'، 'عرفان' یا 'حکمت' کہا جاتا ہے۔ یہ وہ علم ہے جو انسان کو اپنی ذات کی پہچان (Self-Realization) کرواتا ہے۔ یہ انسان کو سکھاتا ہے کہ تکبر کیا ہے اور عاجزی کیا ہے؟ محبت کیا ہے اور نفرت کیا ہے؟ زندگی کا مقصد کیا ہے اور موت کے بعد کیا ہوگا؟
یہ علم صرف کتاب کے حروف کالے کرنے سے نہیں ملتا۔ یہ اس وقت ملتا ہے جب انسان اپنے اندر جھانکتا ہے۔ بابا بلھے شاہؒ نے اسی حقیقت کو اپنے خوبصورت انداز میں یوں بیان کیا تھا:
پڑھ پڑھ علم ہزار کتاباں، کدے اپنے آپ نوں پڑھیا ای نہیں
جا جا وڑدے مندر مسیتاں، کدے اپنے اندر وڑیا ای نہیں
اگر ہزار کتابیں پڑھنے کے بعد بھی انسان کے اندر کا انسان بیدار نہ ہو، اس کے دل سے دوسروں کے لیے نفرت اور حسد ختم نہ ہو، تو وہ علم اس کے لیے ایک ذہنی بوجھ ہے، اس سے زیادہ کچھ نہیں۔
کتاب اور زندگی کا توازن: حل کیا ہے؟
اس تمام بحث کا مقصد ہرگز یہ نہیں کہ کتابوں کی اہمیت کو کم کیا جائے یا مطالعے سے دور بھاگا جائے۔ کتابیں انسانی تہذیب کا سب سے قیمتی اثاثہ ہیں اور ان کے بغیر ہم اندھیرے میں بھٹک جائیں گے۔ اصل مقصد اس 'توازن' کو سمجھنا ہے جو کتاب اور زندگی کے درمیان ہونا چاہیے۔
کتاب ایک نقشہ (Map) کی مانند ہے، اور علم اس نقشے پر چل کر منزل تک پہنچنے کا نام ہے۔ نقشہ کتنا ہی خوبصورت، تفصیلی اور قیمتی کیوں نہ ہو، اگر آپ کمرے میں بیٹھ کر صرف اس نقشے کو دیکھتے رہیں گے، تو آپ کبھی اپنی منزل مقصود تک نہیں پہنچ سکتے۔ منزل تک پہنچنے کے لیے آپ کو اپنے آرام دہ کمرے سے نکلنا ہوگا، راستے کی دھول پھانکنی ہوگی، موسموں کی سختی جھیلنی ہوگی اور اپنے قدموں کو حرکت دینی ہوگی۔
صرف کتابیں پڑھنے سے معلومات آ سکتی ہے، ڈگریاں مل سکتی ہیں، نوکری حاصل کی جا سکتی ہے اور معاشرے میں ایک معزز مقام بھی پایا جا سکتا ہے۔ لیکن 'علم'—جو انسان کو انسان بناتا ہے، جو روح کو بینائی دیتا ہے، جو دلوں کو نرم کرتا ہے اور جو کائنات کے خالق سے جوڑتا ہے—وہ کتابوں کی سطروں سے ماورا ہے۔ وہ انسان کے اپنے اخلاص، اس کے عمل، اس کے مشاہدے اور اس کی تڑپ کا نتیجہ ہوتا ہے۔
کتاب ضرور پڑھیے، لیکن یاد رکھیے کہ زندگی کی کتاب، جو آپ کے ارد گرد کھلی پڑی ہے، اس کے صفحات کو پڑھے بغیر آپ کی ڈگری تو مکمل ہو سکتی ہے، آپ کا علم کبھی مکمل نہیں ہو سکتا۔

Comments