Skip to main content

​کامیابی، لفظ کا طلسم اور "کام" کا فلسفہ ​

 



--- روما محمود---



​زندگی کی شطرنج پر ہر کوئی ایک ہی چال چلنا چاہتا ہے—فتح کی چال۔ ہر شخص، ہر محفل، ہر درسگاہ میں سوال ایک ہی گونجتا ہے: "کامیابی کا اصول کیا ہے؟" ہم نے کامیابی کے لیے ایسی ایسی کتب لکھ ڈالیں، ایسے ایسے سیمینار ترتیب دیے اور ایسے ایسے شارٹ کٹ تراش لیے کہ اب کامیابی ایک "ٹیکنالوجی" لگتی ہے۔ لیکن کیا کبھی ہم نے اس لفظ کی چھال کو چھیل کر اس کے اندر موجود گودے کو دیکھا ہے؟ کیا کبھی غور کیا ہے کہ کامیابی کا سب سے بڑا راز خود اس کے نام میں پوشیدہ ہے؟




​کامیابی کا لفظ دو اجزاء سے مل کر بنا ہے: "کام" اور "یابی"۔ اور اگر ہم اس کے متضاد کو دیکھیں، یعنی "ناکامی"، تو وہاں بھی وہی بنیادی اکائی موجود ہے، مگر اس کے ساتھ ایک "نا" کا لاحقہ جڑا ہے۔ یعنی، کامیابی اور ناکامی کے درمیان کا فرق کسی طلسماتی فارمولے کا محتاج نہیں، بلکہ یہ صرف ایک عمل کے ہونے یا نہ ہونے کا نام ہے۔


​جب ہم کامیابی کی بات کرتے ہیں، تو ہماری نظریں اکثر اس کے نتیجے (Outcome) پر جمی ہوتی ہیں۔ ہمیں وہ گاڑی، وہ عہدہ، وہ شہرت اور وہ بینک بیلنس نظر آتا ہے جو کامیابی کے بعد ملتا ہے۔ لیکن کامیابی کی روح اس نتیجے میں نہیں، بلکہ اس "کام" میں ہے جو اس کے پیچھے چھپا ہے۔

​اکثر لوگ کامیابی کو ایک منزل سمجھتے ہیں، حالانکہ کامیابی ایک فعل ہے، ایک سفر ہے، اور ایک مسلسل عمل ہے۔ جب میں کسی سے کہتی ہوں کہ کامیابی کا اصول اس لفظ کے اندر ہی ہے، تو میرا اشارہ اسی "کام" کی طرف ہوتا ہے۔ "کام" کا مطلب صرف حرکت کرنا نہیں ہے۔ کائنات میں ہر چیز حرکت کر رہی ہے، لیکن کیا ہر حرکت کامیابی ہے؟ ہرگز نہیں۔ کامیابی وہ "کام" ہے جس میں سمت (Direction)، تسلسل (Consistency) اور مقصد (Purpose) شامل ہو۔

​بہت سے لوگ اپنی توانائیاں ضائع کرتے ہیں کیونکہ وہ "کام" تو کرتے ہیں، مگر وہ کام ان کے بنیادی مقصد سے ہم آہنگ نہیں ہوتا۔ کامیابی کا پہلا اصول یہ ہے کہ آپ کا کام آپ کے ضمیر اور آپ کے وژن کی آواز ہو۔ جب کام، آپ کی ذات کا حصہ بن جاتا ہے، تو پھر وہ "مشقت" نہیں رہتا، بلکہ وہ "عبادت" کی سطح اختیار کر لیتا ہے۔


​کامیابی کے لفظ پر غور کرتے ہوئے، اس کے برعکس لفظ "ناکامی" کو سمجھنا بھی اتنا ہی اہم ہے۔ ہم نے ناکامی کو ایک خوفناک بلا بنا رکھا ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ناکامی کا مطلب ہے "ختم ہو جانا"۔ لیکن ذرا غور کریں، لفظ ناکامی کے شروع میں کیا ہے؟ وہی "کام"۔

​ناکامی کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ کام کی اہمیت ختم ہو گئی، بلکہ ناکامی ہمیں یہ بتاتی ہے کہ اس خاص سمت میں، اس خاص طریقے سے کیا گیا کام، مطلوبہ نتائج نہیں دے سکا۔ ناکامی، کامیابی کا ہی ایک ابتدائی ورژن ہے، بشرطیکہ آپ اس میں سے 'نا' کو ہٹانے کے لیے سیکھنے کا عمل جاری رکھیں۔ جو شخص ناکامی سے گھبرا کر کام چھوڑ دیتا ہے، وہ دراصل کامیابی کی سیڑھی سے ہی اتر جاتا ہے۔ ناکامی کا مطلب صرف یہ ہے: "یہاں نہیں، تو کہیں اور؛ ایسے نہیں، تو ویسے!"

​ اصل جنگ تو اپنے آپ سے ہے

​جب ہم کامیابی کی بات کرتے ہیں تو اکثر لوگ بیرونی دباؤ (Social Pressure) کا ذکر کرتے ہیں۔ لیکن ایک سچی اور پائیدار کامیابی کا تعلق بیرونی دنیا سے کم اور "اندرونی دباؤ" (Internal Pressure) سے زیادہ ہوتا ہے۔ یہ وہ دباؤ ہے جو آپ کا اپنا معیار آپ پر ڈالتا ہے۔

​دنیا آپ کو کیا کہتی ہے، یہ ثانوی ہے۔ اہم یہ ہے کہ آپ اپنی ذات کی عدالت میں کیا کھڑے ہوتے ہیں۔ کیا آپ اپنے کام کے ساتھ مخلص ہیں؟ کیا آپ نے اپنی صلاحیتوں کا پورا انصاف کیا؟ یہ داخلی جنگ ہی انسان کو عظیم بناتی ہے۔ اپنی ذات کے معیارات پر پورا اترنا ہی اصل کامیابی ہے۔ جو شخص اپنی انا کے غبارے کو نہیں پھاڑ سکتا، وہ اپنی ذات کے اندر چھپے ہوئے فاتح کو کبھی نہیں دیکھ سکتا۔

​ہم اکثر اپنی ذات کی حدود میں قید رہتے ہیں، جسے ہم "کمفرٹ زون" کہتے ہیں۔ کامیابی کا اصول اس زون کو توڑنے میں ہے۔ یہ زون آپ کے اپنے ہی بنائے ہوئے عقائد کی دیواریں ہیں۔ جب تک آپ ان دیواروں کو گرا کر باہر نہیں نکلتے، تب تک آپ کامیابی کے مفہوم تک نہیں پہنچ سکتے۔

​کامیابی کا لسانی اور عملی اصول کو ایک مساوات (Equation) میں لکھا جائے تو یہ کچھ یوں ہوگی۔

++=_


یہاں کام تو بنیادی ایندھن ہے۔ استقلال (Consistency) وہ انجن ہے جو آپ کو چلتا رکھتا ہے۔ اور مقصد کو جب خوف (ناکامی کا خوف) سے تفریق کر دیا جاتا ہے، تو جو نتیجہ نکلتا ہے وہ کامیابی ہے۔

​کامیاب لوگ کوئی دوسرے سیارے سے نہیں آتے۔ وہ صرف اپنے کام کے ساتھ ایک خاص قسم کا "عشق" رکھتے ہیں۔ وہ یہ نہیں دیکھتے کہ گھڑی کیا کہہ رہی ہے، بلکہ وہ یہ دیکھتے ہیں کہ ان کا ضمیر کیا کہہ رہا ہے۔ کامیابی کے لفظ میں "یابی" کا مطلب ہے "پانا"۔ اور آپ تبھی کچھ پا سکتے ہیں جب آپ پہلے کچھ بوئیں۔ کام بوئیں گے تو کامیابی کاٹنے کو ملے گی۔

​معاشرتی رویے اور کامیابی کا غلط تصور

​آج کل کامیابی کا پیمانہ صرف مادی نمود و نمائش بن چکا ہے۔ ہم نے کامیابی کو سوشل میڈیا کی لائیکس اور فالوورز سے جوڑ دیا ہے۔ یہ کامیابی نہیں، یہ صرف ایک عارضی طلسم ہے۔ سچی کامیابی تو وہ ہے جو آپ کو سکونِ قلب دے۔ جو آپ کو اپنے کام میں اتنا محو کر دے کہ آپ کو دنیا کی پرواہ ہی نہ رہے۔

​حقیقی کامیابی یہ ہے کہ آپ کے کام سے معاشرے میں کوئی بہتری آئے۔ اگر آپ کا کام صرف آپ کے اپنے لیے ہے تو وہ شاید "ذاتی نمود" ہو سکتی ہے، لیکن اگر اس میں انسانیت یا معاشرے کا درد شامل ہے، تو وہ "عظمت" ہے۔

​اختتامیہ: جڑ کو پکڑنا ہوگا

​آخر میں، میں اتنا ہی کہوں گی کہ لوگ جب مجھ سے کامیابی کے اصول پوچھتے ہیں، تو میں انہیں لفظ "کامیابی" کی طرف متوجہ کرتی ہوں۔ اس لفظ کی ساخت میں ہی کائنات کا سب سے بڑا فلسفہ چھپا ہے۔ کام کریں، کام میں جان ڈالیں، اور کام میں اخلاص پیدا کریں۔ "نا" کامیابی سے ڈریں نہیں بلکہ اس "نا" کو مٹا کر کام کا تسلسل برقرار رکھیں۔

​یاد رکھیں، کامیابی کوئی منزل نہیں ہے جہاں آپ پہنچ کر تھم جائیں گے۔ کامیابی تو ہر صبح اٹھ کر اپنے مقصد کے لیے دوبارہ کام شروع کرنے کا نام ہے۔ اس لفظ کو اپنی روح میں اتار لیں، اور پھر دیکھیں کہ کامیابی آپ کے پیچھے کیسے بھاگتی ہے۔

​جڑ کو پکڑنا ہوگا، اور جڑ کام ہے، محنت ہے، اور اپنے آپ سے سچائی ہے۔ باقی سب تو محض شاخیں ہیں جو وقت کے ساتھ خود بخود پھل دینے لگیں گی۔


Comments

Popular posts from this blog

کالاباغ ڈیم پر اعتراض کا جواب۔​کالا باغ ڈیم چشمِ دید گواہی اور قومی ضرورت کا پکارتا سچ ​

جن لوگوں کو کالا باغ ڈیم بنانے پر اعتراض ہے وہ لوگ جا کر کالا باغ دیکھ کر آئیں ۔ کالا باغ میں جہاں سے دریائے سندھ گزرتا ہے وہاں دونوں طرف سنگلاخ چٹانیں ہیں پہاڑ ہیں اور دریائے سندھ ایک ندی کی صورت میں وہاں سے گزرتا ہے اور گہرائی حد درجہ زیادہ ہے۔   اس کے اوپر انگریزوں کے زمانے کا بنایا ہوا ایک پل ہے۔  2005 میں جب ہم لوگ کالا باغ ڈیم گئے تو ہم نے یہ دیکھا کہ وہاں پر کالا باغ  کے علاقے  میں دریا سندھ ایک ندی کی صورت میں بہہ رہا تھا اور دونوں طرف سنگلاخ چٹانیں تھیں۔   کالا باغ بازار میں ابھی تک سائیکل رکشے چل رہے تھے اور وہاںسے میں نے ایک دوپٹہ بھی خریدا تھا جو کہ سات رنگ میں تھا ۔ اسلام اباد سے جب ہم میانوالی کی طرف گئے ۔فتح جنگ کے راستے سے  دو سڑکیں جاتی تھیں ایک کوہاٹ کو  ۔ اور ایک میانوالی کو اس دفعہ ہم نے روٹ پکڑا تھا۔  وہ میانوالی  ابو سے ضد  کر کے گے تھے ۔ جب رستے پر چلتے گئے تو ہمیں راستے میں میانوالی کے قریب نمل جھیل نظر آئی یہ ہمارے لئے ایک نیا تجربہ تھا کیونکہ ہم اس وقت نمل یونیورسٹی میں پڑھ رہے تھے تو وہاں پر نمل جھیل دیکھ کر ہم...

ادھا چمچ ہلدئ کے فوائد۔

 ہلدی (Turmeric) ایک مشہور مصالحہ ہے جو صدیوں سے کھانوں اور جڑی بوٹیوں کے علاج میں استعمال ہو رہی ہے۔ اس میں کرکومن (Curcumin) نامی جز پایا جاتا ہے جو اس کے زیادہ تر فوائد کا سبب ہے۔ ہلدی کے اہم فوائد: 1. سوزش کم کرتی ہے جوڑوں کے درد، گٹھیا اور سوجن میں مفید ہے۔ 2. مدافعتی نظام مضبوط کرتی ہے جسم کو بیماریوں سے لڑنے کی طاقت دیتی ہے۔ 3. اینٹی آکسیڈینٹ خصوصیات بڑھاپے کی رفتار کم کرتی ہے اور خلیات کو نقصان سے بچاتی ہے۔ 4. ہاضمے میں مددگار بدہضمی، گیس اور پیٹ کی تکالیف کم کرنے میں فائدہ مند ہے۔ 5. دل کی صحت کولیسٹرول کم کرنے اور بلڈ پریشر کو متوازن رکھنے میں کردار ادا کر سکتی ہے۔ 6. ذہنی صحت دماغی کمزوری (الزائمر وغیرہ) سے بچاؤ میں معاون مانی جاتی ہے۔ 7. زخم اور انفیکشن جراثیم کش خصوصیات کی وجہ سے زخموں پر لگانے سے شفا میں مدد ملتی ہے۔ 8. جلد کے لیے فائدہ مند دانوں، جھائیوں اور رنگت نکھارنے میں استعمال ہوتی ہے۔ 🔸 البتہ، ہلدی کا زیادہ استعمال معدے پر بوجھ ڈال سکتا ہے، اس لیے مناسب مقدار میں استعمال کرنا بہتر ہے۔ ،تحریر  ،روما محمود  ۔اسلام آباد 

​روٹی: پیٹ کا ایندھن یا ایمان کی بنیاد؟

  ---روما محمود--- انسانی تاریخ گواہ ہے کہ تہذیبوں کے عروج و زوال، جنگوں کے پیچھے چھپے اسباب اور ہجرتوں کی داستانوں میں اگر کوئی ایک قدر مشترک ہے، تو وہ "روٹی" ہے۔ کہنے کو تو یہ گندم کے آٹے کا ایک گول پیڑا ہے جسے آگ پر سینکا جاتا ہے، لیکن حقیقت میں یہ وہ زنجیر ہے جس نے پوری انسانیت کو تگ و دو کے شکنجے میں جکڑ رکھا ہے۔ ایک مزدور کی صبح سورج نکلنے سے پہلے ہوتی ہے اور وہ دن بھر تپتی دھوپ میں اپنا پسینہ صرف اس لیے بہاتا ہے کہ شام کو گھر جاتے ہوئے اس کے ہاتھ میں چند گرم روٹیاں ہوں۔ یہ صرف پیٹ بھرنے کا سامان نہیں، بلکہ ایک باپ کی اپنے بچوں سے محبت کا ثبوت ہے۔ ​تندور سے اٹھتی تازہ روٹی کی خوشبو دنیا کی مہنگی ترین پرفیوم سے زیادہ دلکش ہوتی ہے، خاص کر اس شخص کے لیے جس نے سارا دن فاقہ کیا ہو۔ لیکن افسوس! یہی روٹی جب دسترخوان پر وافر ہو جائے تو اس کی قدر کم ہو جاتی ہے، اور جب نایاب ہو جائے تو انسان کو غیرت اور ضمیر تک بیچنے پر مجبور کر دیتی ہے۔ کے دور میں جہاں ٹیکنالوجی آسمانوں کو چھو رہی ہے، وہیں خطِ غربت سے نیچے رہنے والوں کے لیے دو وقت کی روٹی کا حصول ایک خواب بنتا جا رہا ہے۔ آٹے کے ...