Skip to main content

گرمیوں کا تحفہ فالسہ

 





---روما محمود---



جہاں گرمیوں میں بے تحاشہ پھلوں کی ورائٹی ہوتی ہے وہاں فالسہ بھی ان میں سے ایک ہے۔
میرے والد صاحب  نے زمینوں پر  باغ میں 3 سے چار درخت لگائے تھے ۔

دو سے تین سالوں میں وہ تناور درخت بن کر پھل دینے لگ گے تھے ۔

فالسے کا شربت ہم لازمی گرمی کے موسم میں پیتے ہیں۔




​گرمیوں کی شدید تپش اور لو کے تھپیڑوں کے درمیان قدرت نے ہمیں ایسے تحائف عطا کیے ہیں جو نہ صرف پیاس بجھاتے ہیں بلکہ جسم کو تروتازہ بھی رکھتے ہیں۔ انہی تحائف میں ایک چھوٹا سا، سیاہی مائل جامنی رنگ کا پھل "فالسہ" ہے۔ یہ محض ایک پھل نہیں، بلکہ گرمیوں کے موسم کا ایک ایسا میڈیکل سٹور ہے جو ہمیں قدرتی طور پر بیماریوں سے لڑنے کی طاقت دیتا ہے۔

​فالسے کی سب سے بڑی خوبی اس کا "کھٹا میٹھا" ذائقہ ہے۔ جیسے ہی گرمیوں کا موسم شروع ہوتا ہے، بازاروں میں فالسے کی چھوٹی چھوٹی ٹوکریاں سج جاتی ہیں۔ اگرچہ اسے کھانے کا اپنا ہی لطف ہے، لیکن اس کا شربت برصغیر پاک و ہند میں بے حد مقبول ہے۔ شدید گرمی کے عالم میں ایک گلاس ٹھنڈا فالسے کا شربت نہ صرف روح کو تسکین پہنچاتا ہے بلکہ جسم میں پانی کی کمی کو بھی پورا کرتا ہے۔

​طبِ یونانی اور جدید سائنس، دونوں ہی فالسے کو انسانی صحت کے لیے انتہائی مفید قرار دیتے ہیں۔ اس کے چند نمایاں فوائد درج ذیل ہیں۔

فالسہ تاثیر میں ٹھنڈا ہوتا ہے، اس لیے یہ گرمی کے اثرات، لو لگنے اور پیاس کی شدت کو کم کرنے میں لاثانی ہے۔

یہ خون کو صاف کرنے اور جسم سے زہریلے مادوں کو خارج کرنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔

فالسہ دل کو طاقت دیتا ہے اور جگر کی کارکردگی کو بہتر بنانے میں مدد کرتا ہے۔

یہ ہاضمے کو درست رکھتا ہے اور معدے کی جلن کو دور کرنے میں مدد دیتا ہے۔

فالسے میں وٹامن سی اور اینٹی آکسیڈنٹس کی بڑی مقدار پائی جاتی ہے، جو جلد کو تروتازہ رکھتی ہے اور قوت مدافعت کو بڑھاتی ہے۔

​ہر چیز کی طرح فالسے کا استعمال بھی اعتدال میں ہی بہتر ہے۔

شوگر کے مریضوں کو اس کے استعمال میں ڈاکٹر سے مشورہ کرنا چاہیے، کیونکہ قدرتی مٹھاس کے باوجود اس کا زیادہ استعمال بلڈ شوگر پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔

بہت زیادہ مقدار میں کھانے سے گلے میں خراش یا پیٹ میں گڑبڑ ہو سکتی ہے۔

​فالسے کی ایک خاص بات اس کا مختصر ترین موسم ہے۔ یہ پھل بہت کم وقت کے لیے مارکیٹ میں آتا ہے، شاید اسی لیے اسے "موسمِ گرما کا مہمان" کہا جاتا ہے۔

اس کی نازک طبیعت کی وجہ سے اسے زیادہ دیر تک ذخیرہ کرنا بھی ممکن نہیں ہوتا، اسی لیے جو لوگ اسے پسند کرتے ہیں، وہ اس کے موسم میں اس کا بھرپور فائدہ اٹھاتے ہیں۔

فالسہ قدرت کا ایک ایسا چھوٹا سا کرشمہ ہے جو اپنی افادیت اور ذائقے کی بدولت گرمیوں کے سوکھے موسم میں ایک ٹھنڈی نوید کی طرح ہے۔ جب بھی کڑی دھوپ آپ کے حوصلے پست کرے، تو ایک گلاس فالسے کا شربت نہ صرف آپ کو جسمانی طور پر بحال کرے گا بلکہ آپ کی طبیعت میں بھی ایک فرحت پیدا کر دے گا۔

Comments

Popular posts from this blog

کالاباغ ڈیم پر اعتراض کا جواب۔​کالا باغ ڈیم چشمِ دید گواہی اور قومی ضرورت کا پکارتا سچ ​

جن لوگوں کو کالا باغ ڈیم بنانے پر اعتراض ہے وہ لوگ جا کر کالا باغ دیکھ کر آئیں ۔ کالا باغ میں جہاں سے دریائے سندھ گزرتا ہے وہاں دونوں طرف سنگلاخ چٹانیں ہیں پہاڑ ہیں اور دریائے سندھ ایک ندی کی صورت میں وہاں سے گزرتا ہے اور گہرائی حد درجہ زیادہ ہے۔   اس کے اوپر انگریزوں کے زمانے کا بنایا ہوا ایک پل ہے۔  2005 میں جب ہم لوگ کالا باغ ڈیم گئے تو ہم نے یہ دیکھا کہ وہاں پر کالا باغ  کے علاقے  میں دریا سندھ ایک ندی کی صورت میں بہہ رہا تھا اور دونوں طرف سنگلاخ چٹانیں تھیں۔   کالا باغ بازار میں ابھی تک سائیکل رکشے چل رہے تھے اور وہاںسے میں نے ایک دوپٹہ بھی خریدا تھا جو کہ سات رنگ میں تھا ۔ اسلام اباد سے جب ہم میانوالی کی طرف گئے ۔فتح جنگ کے راستے سے  دو سڑکیں جاتی تھیں ایک کوہاٹ کو  ۔ اور ایک میانوالی کو اس دفعہ ہم نے روٹ پکڑا تھا۔  وہ میانوالی  ابو سے ضد  کر کے گے تھے ۔ جب رستے پر چلتے گئے تو ہمیں راستے میں میانوالی کے قریب نمل جھیل نظر آئی یہ ہمارے لئے ایک نیا تجربہ تھا کیونکہ ہم اس وقت نمل یونیورسٹی میں پڑھ رہے تھے تو وہاں پر نمل جھیل دیکھ کر ہم...

ادھا چمچ ہلدئ کے فوائد۔

 ہلدی (Turmeric) ایک مشہور مصالحہ ہے جو صدیوں سے کھانوں اور جڑی بوٹیوں کے علاج میں استعمال ہو رہی ہے۔ اس میں کرکومن (Curcumin) نامی جز پایا جاتا ہے جو اس کے زیادہ تر فوائد کا سبب ہے۔ ہلدی کے اہم فوائد: 1. سوزش کم کرتی ہے جوڑوں کے درد، گٹھیا اور سوجن میں مفید ہے۔ 2. مدافعتی نظام مضبوط کرتی ہے جسم کو بیماریوں سے لڑنے کی طاقت دیتی ہے۔ 3. اینٹی آکسیڈینٹ خصوصیات بڑھاپے کی رفتار کم کرتی ہے اور خلیات کو نقصان سے بچاتی ہے۔ 4. ہاضمے میں مددگار بدہضمی، گیس اور پیٹ کی تکالیف کم کرنے میں فائدہ مند ہے۔ 5. دل کی صحت کولیسٹرول کم کرنے اور بلڈ پریشر کو متوازن رکھنے میں کردار ادا کر سکتی ہے۔ 6. ذہنی صحت دماغی کمزوری (الزائمر وغیرہ) سے بچاؤ میں معاون مانی جاتی ہے۔ 7. زخم اور انفیکشن جراثیم کش خصوصیات کی وجہ سے زخموں پر لگانے سے شفا میں مدد ملتی ہے۔ 8. جلد کے لیے فائدہ مند دانوں، جھائیوں اور رنگت نکھارنے میں استعمال ہوتی ہے۔ 🔸 البتہ، ہلدی کا زیادہ استعمال معدے پر بوجھ ڈال سکتا ہے، اس لیے مناسب مقدار میں استعمال کرنا بہتر ہے۔ ،تحریر  ،روما محمود  ۔اسلام آباد 

​روٹی: پیٹ کا ایندھن یا ایمان کی بنیاد؟

  ---روما محمود--- انسانی تاریخ گواہ ہے کہ تہذیبوں کے عروج و زوال، جنگوں کے پیچھے چھپے اسباب اور ہجرتوں کی داستانوں میں اگر کوئی ایک قدر مشترک ہے، تو وہ "روٹی" ہے۔ کہنے کو تو یہ گندم کے آٹے کا ایک گول پیڑا ہے جسے آگ پر سینکا جاتا ہے، لیکن حقیقت میں یہ وہ زنجیر ہے جس نے پوری انسانیت کو تگ و دو کے شکنجے میں جکڑ رکھا ہے۔ ایک مزدور کی صبح سورج نکلنے سے پہلے ہوتی ہے اور وہ دن بھر تپتی دھوپ میں اپنا پسینہ صرف اس لیے بہاتا ہے کہ شام کو گھر جاتے ہوئے اس کے ہاتھ میں چند گرم روٹیاں ہوں۔ یہ صرف پیٹ بھرنے کا سامان نہیں، بلکہ ایک باپ کی اپنے بچوں سے محبت کا ثبوت ہے۔ ​تندور سے اٹھتی تازہ روٹی کی خوشبو دنیا کی مہنگی ترین پرفیوم سے زیادہ دلکش ہوتی ہے، خاص کر اس شخص کے لیے جس نے سارا دن فاقہ کیا ہو۔ لیکن افسوس! یہی روٹی جب دسترخوان پر وافر ہو جائے تو اس کی قدر کم ہو جاتی ہے، اور جب نایاب ہو جائے تو انسان کو غیرت اور ضمیر تک بیچنے پر مجبور کر دیتی ہے۔ کے دور میں جہاں ٹیکنالوجی آسمانوں کو چھو رہی ہے، وہیں خطِ غربت سے نیچے رہنے والوں کے لیے دو وقت کی روٹی کا حصول ایک خواب بنتا جا رہا ہے۔ آٹے کے ...