Skip to main content

کامیاب لوگ مختلف کام نہیں کرتے، بلکہ کام مختلف انداز سے کرتے ہیں

 



---روما محمود---





زندگی کی دوڑ میں اکثر لوگ یہ سوچتے رہتے ہیں کہ کامیابی کا راز کوئی نیا، مختلف اور انوکھا کام کرنے میں ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ اگر وہ کوئی الگ راستہ اختیار کر لیں، کوئی نئی ایجاد کر لیں یا بالکل نیا شعبہ منتخب کر لیں تو کامیابی ان کے قدم چومے گی۔ مگر حقیقت اس سے بالکل مختلف ہے۔ دنیا کے کامیاب ترین افراد  چاہے وہ کاروباری، سائنسدان، فنکار، سیاستدان یا کھلاڑی ہوں ۔




عام طور پر وہی کام کرتے ہیں جو لاکھوں دوسرے لوگ بھی کر رہے ہوتے ہیں۔ فرق صرف یہ ہوتا ہے کہ وہ اس کام کو مختلف انداز سے کرتے ہیں۔

یہ جملہ "کامیاب لوگ مختلف کام نہیں کرتے، بلکہ کام مختلف انداز سے کرتے ہیں" نہ صرف ایک محض نصیحت ہے بلکہ کامیابی کی ایک بنیادی حکمت ہے۔ آج میں اسی موضوع پر تفصیل سے بات کروں گا، کیونکہ یہ اصول میرے اپنے سفرِ زندگی، اور دنیا بھر کے عظیم کامیاب لوگوں کے مشاہدے سے اخذ کیا گیا ہے۔


سوچیں تو سہی۔ سٹیو جابز نے کوئی نیا فون ایجاد نہیں کیا تھا۔ ٹیلی فون تو پہلے سے موجود تھا، موبائل فون بھی مارکیٹ میں تھے۔ انہوں نے صرف اسے مختلف انداز سے بنایا سادہ، خوبصورت، صارف دوست اور ایک تجربہ (experience)۔ ایپل کا آئی فون دراصل وہی کام کرتا تھا جو دوسرے فون کرتے تھے، مگر اس کا انداز، ڈیزائن، سافٹ ویئر اور مارکیٹنگ بالکل نیا تھا۔

اسی طرح، ایلون مسک راکٹ بنانے والے پہلے شخص نہیں ہیں۔ NASA اور روس کی اسپیس ایجنسیاں دہائیوں سے راکٹ بنا رہی ہیں۔ مسک نے SpaceX کے ذریعے راکٹ کو دو بار استعمال کرنے والا (reusable) بنایا، لاگت کم کی، رفتار بڑھائی اور خواب کو حقیقت بنایا۔ کام وہی، انداز مختلف۔

پاکستان کے تناظر میں دیکھیں تو حاجی امداد اللہ، عبدالستار ایدھی، جیسے لوگوں نے بھی یہی کیا۔ ایدھی صاحب نے سماجی کام کیا، جو ہزاروں دوسرے لوگ بھی کرتے ہیں، مگر ان کا انداز شفافیت، سادگی، 24/7 دستیاب ہونا اور ہر مذہب و قوم کے لیے کھلا دل — بالکل منفرد تھا۔ نتیجہ؟ ایک عالمی ادارہ جو آج بھی لاکھوں لوگوں کی خدمت کر رہا ہے۔


کیوں لوگ "مختلف کام" کی تلاش میں رہ جاتے ہیں؟


ہمارا معاشرہ ہمیں بتاتا ہے کہ "نیا کچھ کرو"۔ سوشل میڈیا پر "out of the box thinking" کی باتیں چلتی رہتی ہیں۔ نوجوان سوچتے ہیں کہ اگر وہ کوئی سٹارٹ اپ شروع کریں جو پہلے کسی نے نہ کیا ہو، تو وہ امیر ہو جائیں گے۔ مگر اعداد و شمار کچھ اور کہتے ہیں۔ 90% سے زیادہ سٹارٹ اپس ناکام ہو جاتے ہیں، اور زیادہ تر کامیاب کمپنیاں بالکل روایتی شعبوں میں کام کرتی ہیں — خوراک، تعلیم، صحت، ٹیکنالوجی کی بہتری، لوجسٹکس وغیرہ۔

فرق انداز کا ہے۔ ایک عام شخص دکان کھولتا ہے اور شام کو بند کر دیتا ہے۔ ایک کامیاب تاجر اسی دکان کو برانڈ بناتا ہے، آن لائن موجودگی پیدا کرتا ہے، کسٹمر سروس کو بہترین بناتا ہے، اور مسلسل بہتری (continuous improvement) کا عمل جاری رکھتا ہے۔

 کچھ تاریخی مثالیں انداز بدلنے والے عظیم لوگ 

1. تھامس ایڈیسن اور بلب

ایڈیسن نے بلب ایجاد نہیں کیا۔ بلکہ انہوں نے اسے عملی اور قابلِ استعمال بنایا۔ ان سے پہلے بھی کئی سائنسدانوں نے بلب کے خیال پر کام کیا تھا۔ ایڈیسن نے ہزاروں تجربات کیے، مواد بدلے، اور آخرکار ایک ایسا نظام بنایا جو گھروں تک بجلی پہنچا سکے۔ کام وہی (روشنی پیدا کرنا)، انداز مختلف (پائیدار، سستی اور بڑے پیمانے پر)۔

2. مائیکل اردن اور باسکٹ بال

اردن دنیا کے بہترین کھلاڑی تھے، مگر انہوں نے باسکٹ بال کا کھیل نہیں بدلا۔ انہوں نے اسے اپنے انداز سے کھیلا — سخت محنت، ذہنی طاقت، ٹیم ورک اور مسلسل سیکھنے کی صلاحیت۔ ان کی مشہور بات ہے: "میں اپنے کیریئر میں 9000 سے زیادہ شاٹس مس کر چکا ہوں... لیکن اسی وجہ سے میں کامیاب ہوا۔"

3. پاکستان سے مثالیں

علامہ اقبال نے شاعری کی، جو لاکھوں کرتے ہیں، مگر ان کے الفاظ نے قوم کو جگانا، خواب دکھانا اور خود اعتمادی پیدا کرنا شروع کیا۔ قائد اعظم نے سیاست کی، مگر ان کا انداز — اصول پرستی، ایمانداری اور وژن — نے ایک نئی ریاست وجود میں لا دی۔

آج کے دور میں، پاکستان کے نوجوان کاروباری حضرات جیسے جو لوگ آن لائن ای کامرس کر رہے ہیں، وہ وہی سامان بیچ رہے ہیں جو بازار میں ملتا ہے، مگر وہ اسے گھر بیٹھے، بہتر پیکنگ، تیز ڈیلیوری اور بھروسہ مند سروس کے ساتھ بیچتے ہیں۔ نتیجہ؟ لاکھوں روپے کا کاروبار۔

مختلف انداز کیسے اپنائیں؟ عملی رہنمائی

کامیابی کا یہ اصول صرف نظریاتی نہیں، بلکہ عملی بھی ہے۔ یہاں چند اہم نکات ہیں جو 2000 الفاظ کے اس کالم میں تفصیل سے بیان کرنا چاہتا ہوں:

1. گہرائی میں جاؤ (Mastery over mediocrity)

عام لوگ سطحی کام کرتے ہیں۔ کامیاب لوگ ایک کام میں مہارت حاصل کرتے ہیں۔ اگر آپ ٹیچر ہیں تو صرف سبق پڑھانے کے بجائے طلباء کی زندگی بدلنے والا انداز اپنائیں۔ اگر سیلز پرسن ہیں تو صرف پروڈکٹ بیچنے کے بجائے کسٹمر کے مسئلے حل کریں۔

2. بہتری کا لوپ (Kaizen Philosophy)

جاپانی فلسفہ "کائزن" — چھوٹی چھوٹی بہتریاں۔ ٹویوٹا نے کار بنانے کا کام وہی کیا، مگر روزانہ بہتری سے وہ دنیا کی بہترین کار کمپنی بنی۔ آپ اپنے کام میں روزانہ 1% بہتری لائیں تو ایک سال میں آپ 37 گنا بہتر ہو جائیں گے۔

3. جدت (Innovation) بمقابلہ ایجاد (Invention)

جدت کا مطلب ہے موجودہ چیز کو بہتر بنانا۔ ایمیزون نے کتابوں کی دکان نہیں بنائی، بلکہ آن لائن خریداری کا انداز تبدیل کر دیا۔

4. ذہنی رویہ (Mindset)

کارول ڈویک کی "Growth Mindset" — ناکامی کو سیکھنے کا موقع سمجھنا۔ کامیاب لوگ ناکامی سے ڈرتے نہیں، بلکہ اسے ایندھن بناتے ہیں۔

5. توجہ کا مرکز (Focus)

ایک وقت میں ایک کام۔ ملٹی ٹاسکنگ عام لوگوں کی عادت ہے، کامیاب لوگ Deep Work کرتے ہیں۔

چیلنجز اور حل

پاکستان جیسے ملک میں جہاں وسائل محدود ہیں، لوگ سوچتے ہیں کہ "ہمارے پاس تو کچھ نہیں"۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ انداز بدلنے کے لیے وسائل کی ضرورت نہیں، سوچ کی ضرورت ہے۔ ایک چھوٹا سا کسان بھی اگر جدید طریقے سے کاشتکاری کرے۔ ڈرپ ایریگیشن، اچھی قسم کے بیج، مارکیٹنگ  تو وہ امیر بن سکتا ہے۔

تعلیم کے شعبے میں بھی یہی۔ ہمارے سکول وہی نصاب پڑھاتے ہیں، مگر کچھ ادارے اسے تخلیقی انداز سے پڑھاتے ہیں  پروجیکٹ بیسڈ لرننگ، سکل ڈویلپمنٹ  اور ان کے طلباء کامیاب ہوتے ہیں۔

 انداز بدلیں، کامیابی خود بخود آئے گی

یہ اصول ہر شعبے میں ہوتا ہے ۔

تعلیم، صحت، سیاست، فن، کھیل۔ کامیاب لوگ خواب نہیں دیکھتے کہ "کچھ نیا کروں"، بلکہ وہ سوچتے ہیں "جو کر رہا ہوں اسے کیسے بہتر کروں"۔آج سے شروع کریں۔ اپنے موجودہ کام دیکھیں 

میں اسے کیسے زیادہ موثر بنا سکتا ہوں؟

کسٹمر/طالب علم/مریض کو بہتر تجربہ کیسے دے سکتا ہوں؟

چھوٹی چھوٹی بہتریاں کیا کیا سکتا ہوں؟

جب آپ انداز بدلیں گے تو نہ صرف کامیابی ملے گی بلکہ اطمینان بھی ملے گا۔ کیونکہ کامیابی کوئی اتفاق نہیں، بلکہ ایک خاص اندازِ زندگی ہے۔

 کام وہی، مگر انداز بدل دیں — کامیابی یقینی ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

کالاباغ ڈیم پر اعتراض کا جواب۔​کالا باغ ڈیم چشمِ دید گواہی اور قومی ضرورت کا پکارتا سچ ​

جن لوگوں کو کالا باغ ڈیم بنانے پر اعتراض ہے وہ لوگ جا کر کالا باغ دیکھ کر آئیں ۔ کالا باغ میں جہاں سے دریائے سندھ گزرتا ہے وہاں دونوں طرف سنگلاخ چٹانیں ہیں پہاڑ ہیں اور دریائے سندھ ایک ندی کی صورت میں وہاں سے گزرتا ہے اور گہرائی حد درجہ زیادہ ہے۔   اس کے اوپر انگریزوں کے زمانے کا بنایا ہوا ایک پل ہے۔  2005 میں جب ہم لوگ کالا باغ ڈیم گئے تو ہم نے یہ دیکھا کہ وہاں پر کالا باغ  کے علاقے  میں دریا سندھ ایک ندی کی صورت میں بہہ رہا تھا اور دونوں طرف سنگلاخ چٹانیں تھیں۔   کالا باغ بازار میں ابھی تک سائیکل رکشے چل رہے تھے اور وہاںسے میں نے ایک دوپٹہ بھی خریدا تھا جو کہ سات رنگ میں تھا ۔ اسلام اباد سے جب ہم میانوالی کی طرف گئے ۔فتح جنگ کے راستے سے  دو سڑکیں جاتی تھیں ایک کوہاٹ کو  ۔ اور ایک میانوالی کو اس دفعہ ہم نے روٹ پکڑا تھا۔  وہ میانوالی  ابو سے ضد  کر کے گے تھے ۔ جب رستے پر چلتے گئے تو ہمیں راستے میں میانوالی کے قریب نمل جھیل نظر آئی یہ ہمارے لئے ایک نیا تجربہ تھا کیونکہ ہم اس وقت نمل یونیورسٹی میں پڑھ رہے تھے تو وہاں پر نمل جھیل دیکھ کر ہم...

ادھا چمچ ہلدئ کے فوائد۔

 ہلدی (Turmeric) ایک مشہور مصالحہ ہے جو صدیوں سے کھانوں اور جڑی بوٹیوں کے علاج میں استعمال ہو رہی ہے۔ اس میں کرکومن (Curcumin) نامی جز پایا جاتا ہے جو اس کے زیادہ تر فوائد کا سبب ہے۔ ہلدی کے اہم فوائد: 1. سوزش کم کرتی ہے جوڑوں کے درد، گٹھیا اور سوجن میں مفید ہے۔ 2. مدافعتی نظام مضبوط کرتی ہے جسم کو بیماریوں سے لڑنے کی طاقت دیتی ہے۔ 3. اینٹی آکسیڈینٹ خصوصیات بڑھاپے کی رفتار کم کرتی ہے اور خلیات کو نقصان سے بچاتی ہے۔ 4. ہاضمے میں مددگار بدہضمی، گیس اور پیٹ کی تکالیف کم کرنے میں فائدہ مند ہے۔ 5. دل کی صحت کولیسٹرول کم کرنے اور بلڈ پریشر کو متوازن رکھنے میں کردار ادا کر سکتی ہے۔ 6. ذہنی صحت دماغی کمزوری (الزائمر وغیرہ) سے بچاؤ میں معاون مانی جاتی ہے۔ 7. زخم اور انفیکشن جراثیم کش خصوصیات کی وجہ سے زخموں پر لگانے سے شفا میں مدد ملتی ہے۔ 8. جلد کے لیے فائدہ مند دانوں، جھائیوں اور رنگت نکھارنے میں استعمال ہوتی ہے۔ 🔸 البتہ، ہلدی کا زیادہ استعمال معدے پر بوجھ ڈال سکتا ہے، اس لیے مناسب مقدار میں استعمال کرنا بہتر ہے۔ ،تحریر  ،روما محمود  ۔اسلام آباد 

​روٹی: پیٹ کا ایندھن یا ایمان کی بنیاد؟

  ---روما محمود--- انسانی تاریخ گواہ ہے کہ تہذیبوں کے عروج و زوال، جنگوں کے پیچھے چھپے اسباب اور ہجرتوں کی داستانوں میں اگر کوئی ایک قدر مشترک ہے، تو وہ "روٹی" ہے۔ کہنے کو تو یہ گندم کے آٹے کا ایک گول پیڑا ہے جسے آگ پر سینکا جاتا ہے، لیکن حقیقت میں یہ وہ زنجیر ہے جس نے پوری انسانیت کو تگ و دو کے شکنجے میں جکڑ رکھا ہے۔ ایک مزدور کی صبح سورج نکلنے سے پہلے ہوتی ہے اور وہ دن بھر تپتی دھوپ میں اپنا پسینہ صرف اس لیے بہاتا ہے کہ شام کو گھر جاتے ہوئے اس کے ہاتھ میں چند گرم روٹیاں ہوں۔ یہ صرف پیٹ بھرنے کا سامان نہیں، بلکہ ایک باپ کی اپنے بچوں سے محبت کا ثبوت ہے۔ ​تندور سے اٹھتی تازہ روٹی کی خوشبو دنیا کی مہنگی ترین پرفیوم سے زیادہ دلکش ہوتی ہے، خاص کر اس شخص کے لیے جس نے سارا دن فاقہ کیا ہو۔ لیکن افسوس! یہی روٹی جب دسترخوان پر وافر ہو جائے تو اس کی قدر کم ہو جاتی ہے، اور جب نایاب ہو جائے تو انسان کو غیرت اور ضمیر تک بیچنے پر مجبور کر دیتی ہے۔ کے دور میں جہاں ٹیکنالوجی آسمانوں کو چھو رہی ہے، وہیں خطِ غربت سے نیچے رہنے والوں کے لیے دو وقت کی روٹی کا حصول ایک خواب بنتا جا رہا ہے۔ آٹے کے ...