Skip to main content

سات کا چکر زندگی، کائنات اور ہندسوں کا طلسم

 


---روما محمود---



​انسان کی تاریخ گواہ ہے کہ وہ ہمیشہ سے قدرت کے پوشیدہ رازوں کو سمجھنے اور کائنات کے ضابطوں کو ہندسوں میں ڈھالنے کا متلاشی رہا ہے۔ جب ہم کائنات کے نظام کو دیکھتے ہیں، تو ایک عدد بار بار ہمارے سامنے ابھر کر آتا ہے—وہ عدد ہے 'سات'۔ کیا یہ محض ایک اتفاق ہے، یا اس کے پیچھے کوئی گہرا کائناتی فلسفہ کارفرما ہے؟ مذہبی عقائد سے لے کر سائنسی حقائق تک، 'سات کا چکر' انسانی تہذیب کی بنیادوں میں رچا بسا نظر آتا ہے۔



​اگر ہم آسمان کی طرف نظر اٹھائیں تو قدیم ماہرینِ فلکیات نے سات سیاروں (چاند، عطارد، زہرہ، سورج، مریخ، مشتری اور زحل) کو دریافت کیا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ دنیا بھر کی قدیم تہذیبوں نے ہفتے کو سات دنوں پر تقسیم کیا۔ یہ سات دن، دراصل سات سیاروں کی گردش کی عکاسی کرتے ہیں۔

​صرف آسمان ہی نہیں، بلکہ زمین پر بھی سات کا راج ہے۔ دنیا میں سات براعظم ہیں اور سمندروں کی تعداد بھی روایتی طور پر سات ہی مانی جاتی ہے۔ ایسا لگتا ہے جیسے قدرت نے اپنی تخلیق کے خانے سات کی اکائی پر ترتیب دیے ہیں۔

​مذہب اور روحانیت میں سات کی اہمیت

مذہبی کتب میں سات کا عدد ایک مقدس اور کامل عدد کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ اسلام میں سات آسمانوں کا ذکر بار بار آتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے کائنات کو چھ دنوں میں تخلیق کیا اور پھر عرش پر مستوی ہوا، جبکہ انسانی زندگی کے مراحل اور کعبہ کے گرد سات چکر (طواف) اس عدد کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہیں۔ سورہ فاتحہ کی سات آیات، جہنم کے سات دروازے، اور سات زمینیں—یہ سب اس بات کی غمازی کرتے ہیں کہ سات ایک ایسی کلید ہے جو تخلیق کے اسرار کو کھولتی ہے۔

​مسیحیت اور یہودیت میں بھی 'سات' کا تذکرہ نمایاں ہے۔ خدا نے چھ دن میں دنیا بنائی اور ساتویں دن آرام کیا، جس سے 'سبت' (Sabbath) کا تصور پیدا ہوا۔ بدھ مت میں، کہا جاتا ہے کہ گوتم بدھ نے اپنی پیدائش کے بعد سات قدم اٹھائے تھے، جو سات جہتوں کی علامت تھے۔


​سائنس کی دنیا میں 'سات' کا چکر صرف توہم پرستی نہیں بلکہ ایک نفسیاتی حقیقت بھی ہے۔ نفسیات دانوں کے مطابق، انسانی یادداشت کا 'ورکنگ میموری' (Working Memory) کا گنجائش کا تخمینہ عام طور پر 7 (+/- 2) کے درمیان ہوتا ہے۔ یعنی ایک عام انسان ایک وقت میں سات معلومات کے ٹکڑوں کو آسانی سے ذہن میں رکھ سکتا ہے۔

​طبیعیات (Physics) میں روشنی کے طیف (Spectrum) کو دیکھیں تو 'قوسِ قزح' کے سات رنگ ہی ہمیں دکھائی دیتے ہیں: سرخ، نارنجی، پیلا، سبز، نیلا، جامنی اور بنفشی۔ موسیقی کے سروں کو دیکھیں تو بنیادی سر بھی سات ہی ہیں: سا، رے، گا، ما، پا، دھا، نی۔ گویا کہ کائنات کی بصارت اور سماعت دونوں سات کے محور پر گھومتی ہیں۔


​ہمارے نظامِ اوقات کی بنیاد 'ہفتہ' ہے۔ سات دنوں کا یہ چکر ایک دائمی دہرائی ہے۔ یہ انسان کی کام کرنے کی صلاحیت اور آرام کی ضرورت کے درمیان ایک بہترین توازن قائم کرتا ہے۔ اگر ہفتہ آٹھ یا نو دن کا ہوتا، تو شاید ہماری حیاتیاتی گھڑی (Biological Clock) اس کے ساتھ ہم آہنگ نہ ہو پاتی۔ سات دن کا وقفہ ہماری نفسیاتی صحت کے لیے ایک ناگزیر ضرورت بن چکا ہے۔


​کچھ لوگ اسے 'نیومرولوجی' (Numerology) یا ہندسوں کا علم کہتے ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ سات کا عدد تجسس، روحانی بیداری اور تلاشِ حقیقت کی علامت ہے۔ جو لوگ اپنی زندگی میں سات کے عدد کو بار بار دیکھتے ہیں، وہ اسے کسی بڑی تبدیلی یا روحانی سفر کا اشارہ سمجھتے ہیں۔

​تاہم، ایک حقیقت پسندانہ نقطہ نظر سے دیکھیں تو 'سات' ایک ایسا پیمانہ ہے جسے انسان نے کائنات کے نظم و ضبط کو سمجھنے کے لیے خود منتخب کیا ہے۔ کائنات خود بے کراں ہے، لیکن انسانی ذہن کو چیزوں کو ترتیب دینے کے لیے ایک فریم ورک کی ضرورت ہوتی ہے۔ سات کا عدد وہ فریم ورک ہے جو ہمیں بکھری ہوئی حقیقتوں کو ایک لڑی میں پرونے کا موقع دیتا ہے۔


​زندگی بذات خود ایک چکر ہے۔ ہم پیدا ہوتے ہیں، بڑھتے ہیں، سیکھتے ہیں، اور پھر وہی سفر مکمل کرتے ہیں۔ اس سفر میں 'سات' ایک پڑاؤ کی طرح ہے۔ ہم نے اکثر سنا ہے کہ سات سال بعد انسان کی شخصیت مکمل طور پر تبدیل ہو جاتی ہے—اس کے خلیات تبدیل ہو جاتے ہیں، خیالات بدل جاتے ہیں، اور تجربات کی بنیاد پر وہ ایک نیا انسان بن جاتا ہے۔

​یہ 'سات کا چکر' ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ تبدیلی ہی زندگی کا دوسرا نام ہے۔ ہر سات سال بعد ایک نیا دور شروع ہوتا ہے، ہر سات دن بعد ایک نیا ہفتہ طلوع ہوتا ہے، اور ہر سات سر مل کر ایک موسیقی تخلیق کرتے ہیں۔

​سات کا چکر کائنات کا ایک ایسا ان دیکھا دھاگہ ہے جس نے ستاروں، زمین، مذہب، سائنس اور انسانی نفسیات کو آپس میں جوڑ رکھا ہے۔ چاہے ہم اسے اتفاق کہیں یا قدرت کا کوئی ضابطہ، یہ بات مسلمہ ہے کہ 'سات' انسانی شعور کا ایک اٹوٹ حصہ ہے۔ یہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ زندگی صرف بے ترتیب واقعات کا مجموعہ نہیں، بلکہ اس کے پیچھے ایک گہرا نظام اور توازن موجود ہے۔

​اگلی بار جب آپ آسمان پر قوسِ قزح دیکھیں، موسیقی سنیں، یا کیلنڈر پر ہفتہ وار چھٹی کا دن گزاریں، تو یاد رکھیے گا کہ آپ صرف ایک لمحے میں نہیں، بلکہ ایک قدیم اور کائناتی چکر کا حصہ ہیں۔ سات کا یہ طلسم ہمیشہ سے تھا، اور ہمیشہ رہے گا، کیونکہ زندگی کا پہیہ اسی عدد کے گرد گھومتا ہے۔

جہاں کائنات باہر سات کے محور پر گھومتی ہے، وہیں انسان کے اندر بھی سات مراکز کا ایک طلسماتی نظام موجود ہے۔ ہندو یوگک فلسفے میں انسانی جسم کو 'سات چکروں' کا مجموعہ قرار دیا گیا ہے، جو ریڑھ کی ہڈی کے ساتھ واقع ہیں۔ یہ محض جسمانی نقاط نہیں، بلکہ شعور کے ارتقائی زینے ہیں۔

  1. مولادھارا: یہ جڑ ہے، بقا کا مرکز۔
  2. سوادھیستھان: تخلیق اور جذبات کا منبع۔
  3. منی پورہ: قوتِ ارادی اور آگ کا مرکز۔
  4. اناہتا: دل، محبت اور ہمدردی کا مرکز۔
  5. وشودھا: اظہار اور سچائی کا مرکز۔
  6. آجنا: بصیرت اور تیسری آنکھ۔
  7. سہسرار: کائناتی شعور کا نقطۂ عروج۔

​جب ہم ان چکروں کا مطالعہ کرتے ہیں، تو پتہ چلتا ہے کہ روحانی ارتقا کا مطلب ہی 'درون' کے ان سات دروں کو وا کرنا ہے۔ جو انسان ان سات مراکز کو متوازن کر لیتا ہے، وہ کائنات کے ساتھ ہم آہنگ ہو جاتا ہے۔ یہ سفر باہر کی دنیا سے کٹ کر اپنی ذات کے اندر گہرائیوں میں اترنے کا نام ہے۔

​شادی کے سات پھیرے: ایک سماجی اور روحانی عہد

​انسانی زندگی کا سب سے بڑا چکر 'شادی' ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ یہاں بھی سات کا عدد ہی محور بنتا ہے۔ ہندو معاشرت میں شادی کے سات پھیرے (سپت پدی) محض ایک رسم نہیں، بلکہ دو روحوں کے ملن کا ایک ایسا عہد ہے جو زندگی کے ہر پہلو کا احاطہ کرتا ہے۔

  • پہلا پھیرا: رزق اور تحفظ کا عہد۔
  • دوسرا پھیرا: جسمانی و ذہنی تندرستی۔
  • تیسرا پھیرا: دولت اور کامیابی میں شراکت داری۔
  • چوتھا پھیرا: خوشی اور روحانی سکون۔
  • پانچواں پھیرا: خاندان اور نسل کی ذمہ داری۔
  • چھٹا پھیرا: بدلتے موسموں اور حالات میں ساتھ۔
  • ساتواں پھیرا: سب سے اہم—دوستی اور رفاقت کا عہد


  • سات کا عدد ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ زندگی صرف بے ترتیب واقعات کا مجموعہ نہیں، بلکہ ایک ترتیب وار سفر ہے۔ کائنات کے سات سیارے ہوں، جسم کے سات چکر ہوں، یا شادی کے سات پھیرے؛ ہر جگہ 'تکمیل' کے لیے سات کا عدد درکار ہے۔

    ​جو لوگ زندگی کو ایک 'بوجھ' سمجھتے ہیں، وہ اصل میں اس کائناتی رقص (Cosmic Dance) کو سمجھ نہیں پاتے۔ آپ کی زندگی کا ہر سات سالہ دور، آپ کے ہفتے کا ہر ساتواں دن، اور آپ کے اندر بیدار ہونے والا ہر جذبہ، سب اسی طلسم کا حصہ ہیں۔۔

Comments

Popular posts from this blog

کالاباغ ڈیم پر اعتراض کا جواب۔​کالا باغ ڈیم چشمِ دید گواہی اور قومی ضرورت کا پکارتا سچ ​

جن لوگوں کو کالا باغ ڈیم بنانے پر اعتراض ہے وہ لوگ جا کر کالا باغ دیکھ کر آئیں ۔ کالا باغ میں جہاں سے دریائے سندھ گزرتا ہے وہاں دونوں طرف سنگلاخ چٹانیں ہیں پہاڑ ہیں اور دریائے سندھ ایک ندی کی صورت میں وہاں سے گزرتا ہے اور گہرائی حد درجہ زیادہ ہے۔   اس کے اوپر انگریزوں کے زمانے کا بنایا ہوا ایک پل ہے۔  2005 میں جب ہم لوگ کالا باغ ڈیم گئے تو ہم نے یہ دیکھا کہ وہاں پر کالا باغ  کے علاقے  میں دریا سندھ ایک ندی کی صورت میں بہہ رہا تھا اور دونوں طرف سنگلاخ چٹانیں تھیں۔   کالا باغ بازار میں ابھی تک سائیکل رکشے چل رہے تھے اور وہاںسے میں نے ایک دوپٹہ بھی خریدا تھا جو کہ سات رنگ میں تھا ۔ اسلام اباد سے جب ہم میانوالی کی طرف گئے ۔فتح جنگ کے راستے سے  دو سڑکیں جاتی تھیں ایک کوہاٹ کو  ۔ اور ایک میانوالی کو اس دفعہ ہم نے روٹ پکڑا تھا۔  وہ میانوالی  ابو سے ضد  کر کے گے تھے ۔ جب رستے پر چلتے گئے تو ہمیں راستے میں میانوالی کے قریب نمل جھیل نظر آئی یہ ہمارے لئے ایک نیا تجربہ تھا کیونکہ ہم اس وقت نمل یونیورسٹی میں پڑھ رہے تھے تو وہاں پر نمل جھیل دیکھ کر ہم...

ادھا چمچ ہلدئ کے فوائد۔

 ہلدی (Turmeric) ایک مشہور مصالحہ ہے جو صدیوں سے کھانوں اور جڑی بوٹیوں کے علاج میں استعمال ہو رہی ہے۔ اس میں کرکومن (Curcumin) نامی جز پایا جاتا ہے جو اس کے زیادہ تر فوائد کا سبب ہے۔ ہلدی کے اہم فوائد: 1. سوزش کم کرتی ہے جوڑوں کے درد، گٹھیا اور سوجن میں مفید ہے۔ 2. مدافعتی نظام مضبوط کرتی ہے جسم کو بیماریوں سے لڑنے کی طاقت دیتی ہے۔ 3. اینٹی آکسیڈینٹ خصوصیات بڑھاپے کی رفتار کم کرتی ہے اور خلیات کو نقصان سے بچاتی ہے۔ 4. ہاضمے میں مددگار بدہضمی، گیس اور پیٹ کی تکالیف کم کرنے میں فائدہ مند ہے۔ 5. دل کی صحت کولیسٹرول کم کرنے اور بلڈ پریشر کو متوازن رکھنے میں کردار ادا کر سکتی ہے۔ 6. ذہنی صحت دماغی کمزوری (الزائمر وغیرہ) سے بچاؤ میں معاون مانی جاتی ہے۔ 7. زخم اور انفیکشن جراثیم کش خصوصیات کی وجہ سے زخموں پر لگانے سے شفا میں مدد ملتی ہے۔ 8. جلد کے لیے فائدہ مند دانوں، جھائیوں اور رنگت نکھارنے میں استعمال ہوتی ہے۔ 🔸 البتہ، ہلدی کا زیادہ استعمال معدے پر بوجھ ڈال سکتا ہے، اس لیے مناسب مقدار میں استعمال کرنا بہتر ہے۔ ،تحریر  ،روما محمود  ۔اسلام آباد 

​روٹی: پیٹ کا ایندھن یا ایمان کی بنیاد؟

  ---روما محمود--- انسانی تاریخ گواہ ہے کہ تہذیبوں کے عروج و زوال، جنگوں کے پیچھے چھپے اسباب اور ہجرتوں کی داستانوں میں اگر کوئی ایک قدر مشترک ہے، تو وہ "روٹی" ہے۔ کہنے کو تو یہ گندم کے آٹے کا ایک گول پیڑا ہے جسے آگ پر سینکا جاتا ہے، لیکن حقیقت میں یہ وہ زنجیر ہے جس نے پوری انسانیت کو تگ و دو کے شکنجے میں جکڑ رکھا ہے۔ ایک مزدور کی صبح سورج نکلنے سے پہلے ہوتی ہے اور وہ دن بھر تپتی دھوپ میں اپنا پسینہ صرف اس لیے بہاتا ہے کہ شام کو گھر جاتے ہوئے اس کے ہاتھ میں چند گرم روٹیاں ہوں۔ یہ صرف پیٹ بھرنے کا سامان نہیں، بلکہ ایک باپ کی اپنے بچوں سے محبت کا ثبوت ہے۔ ​تندور سے اٹھتی تازہ روٹی کی خوشبو دنیا کی مہنگی ترین پرفیوم سے زیادہ دلکش ہوتی ہے، خاص کر اس شخص کے لیے جس نے سارا دن فاقہ کیا ہو۔ لیکن افسوس! یہی روٹی جب دسترخوان پر وافر ہو جائے تو اس کی قدر کم ہو جاتی ہے، اور جب نایاب ہو جائے تو انسان کو غیرت اور ضمیر تک بیچنے پر مجبور کر دیتی ہے۔ کے دور میں جہاں ٹیکنالوجی آسمانوں کو چھو رہی ہے، وہیں خطِ غربت سے نیچے رہنے والوں کے لیے دو وقت کی روٹی کا حصول ایک خواب بنتا جا رہا ہے۔ آٹے کے ...