Skip to main content

گلگت بلتستان میں الیکشن: کس کا پلڑا بھاری؟

 



---روما محمود---



آج 7 جون 2026 کو گلگت بلتستان کی عوام 24 جنرل سیٹوں پر ووٹ ڈال رہی ہے۔ 33 رکنی اسمبلی کے لیے یہ الیکشن علاقے کی سیاست، ترقیاتی ایجنڈے اور قومی سطح پر اتحادوں کے لیے اہم ہے۔ تقریباً 9 لاکھ 58 ہزار رجسٹرڈ ووٹرز، 400 سے زائد امیدوار اور سخت سیکیورٹی کے درمیان پولنگ جاری ہے۔ سوال یہ ہے کہ آج کس کا پلڑا بھاری نظر آ رہا ہے؟




پیپلز پارٹی کا غلبہ؟

تازہ ترین پیش گوئیوں اور گراؤنڈ رپورٹس کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی (PPP) سب سے آگے ہے۔ ایک معتبر فورکاسٹ کے مطابق PPP 24 سیٹوں میں سے 13 جیت سکتی ہے، جو کوئیلیشن حکومت بنانے کے لیے کافی قریب ہے (17 سیٹوں کی اکثریت درکار ہے)۔ بلawal بھٹو زرداری نے لینڈ رائٹس، روزگار اور گلگت بلتستان کو پانچویں صوبے بنانے کا وعدہ کیا ہے، جو مقامی مسائل (خاص طور پر زمین اور آئینی حقوق) پر اثر انداز ہو رہا ہے۔ PPP کی مقبولیت خاص طور پر بعض ڈویژنز میں مضبوط دکھائی دے رہی ہے۔d

پی ٹی آئی کا انڈیپنڈنٹ داؤ

پی ٹی آئی براہ راست حصہ نہیں لے رہی بلکہ انڈیپنڈنٹ امیدواروں کی حمایت کر رہی ہے۔ عمران خان کی مقبولیت اب بھی علاقے میں موجود ہے، اور کچھ سروے PTI بیکڈ امیدواروں کو لیڈ دکھا رہے ہیں۔ 2020 میں PTI نے بڑی جیت حاصل کی تھی (16 جنرل سیٹیں)، لیکن اس بار گرفت کمزور پڑی دکھائی دیتی ہے۔ تاہم، انڈیپنڈنٹس اور PTI کی ووٹ بینک کوئیلیشن میں فیصلہ کن ثابت ہو سکتے ہیں۔

مسلم لیگ ن کی جدوجہد

PML-N ترقیاتی کاموں (انفراسٹرکچر) کا کریڈٹ لے رہی ہے، لیکن حالیہ سالوں میں ووٹ شیئر میں نمایاں کمی آئی ہے۔ پیش گوئیوں میں ان کے لیے صرف 3 سیٹیں دکھائی جا رہی ہیں۔ نواز شریف کی مہم کے باوجود، پارٹی کو مقامی سطح پر چیلنجز کا سامنا ہے۔


انڈیپنڈنٹس اور چھوٹی پارٹیاں: MWM، ITP اور IPP جیسے گروپس 2-3 سیٹیں لے سکتے ہیں اور کوئیلیشن میں کردار ادا کریں گے۔

خواتین ووٹرز: خواتین ووٹرز کی تعداد قابل ذکر ہے اور ہنزہ جیسے علاقوں میں ٹرن آؤٹ اچھا رپورٹ ہوا۔

مقامی مسائل: آئینی حقوق، روزگار، زمین، سیاحت اور انفراسٹرکچر اہم ہیں۔ وفاقی حکومت کی کارکردگی بھی اثر انداز ہو گی

 

اس وقت PPP کا پلڑا بھاری نظر آ رہا ہے، لیکن حتمی نتیجہ انڈیپنڈنٹس اور چھوٹی پارٹیوں پر منحصر ہے۔ PTI کی انڈیپنڈنٹ حکمت عملی سرپرائز دے سکتی ہے، جبکہ PML-N کو بحالی کے لیے سخت محنت کرنی پڑے گی۔ گلگت بلتستان کی عوام کا فیصلہ علاقے کی ترقی اور استحکام کا تعین کرے گا۔

الیکشن شفاف ہو، اور جو بھی جیتے، وہ گلگت بلتستان کے لوگوں کے حقیقی مسائل حل کرے۔ نتائج کا انتظار ہے — یہ نہ صرف GB بلکہ قومی سیاست کے لیے بھی اہم ہو گا۔



گلگت بلتستان کے آئینی حقوق

گلگت بلتستان (GB) پاکستان کے زیر انتظام ایک اہم علاقہ ہے جو 1947 میں ڈوگرہ راج سے آزادی کے بعد پاکستان کے ساتھ الحاق کیا۔ تاہم، آج بھی اس کی آئینی حیثیت غیر واضح اور متنازعہ ہے۔ یہ پاکستان کے آئین (1973) میں شامل نہیں ہے، اس لیے اس کے عوام کو مکمل آئینی حقوق حاصل نہیں جو دیگر صوبوں (پنجاب، سندھ، خیبر پختونخوا، بلوچستان) کے شہریوں کو ملتے ہیں

موجودہ آئینی حیثیت

گلگت بلتستان نہ تو صوبہ ہے اور نہ ہی مکمل طور پر پاکستان کا حصہ تسلیم کیا گیا ہے۔ اس کی وجہ بنیادی طور پر کشمیر تنازع سے اس کا قانونی تعلق ہے۔

گورنمنٹ آف گلگت بلتستان آرڈر 2018 (صدارتی حکم) کے تحت انتظامی اور جزوی خودمختاری دی گئی ہے۔ اس آرڈر نے مقامی اسمبلی، وزیر اعلیٰ اور گورنر کا نظام دیا، بنیادی حقوق کا تحفظ کیا، اور کچھ وفاقی قوانین (جیسے پبلک سروس کمیشن، آڈیٹر جنرل) کا اطلاق کیا۔

تاہم، یہ آرڈر آئین پاکستان کا حصہ نہیں، اس لیے اسے آسانی سے تبدیل یا منسوخ کیا جا سکتا ہے۔ مقامی اسمبلی کے پاس محدود اختیارات ہیں، اور اہم فیصلے وفاق (وزیر اعظم/وفاقی حکومت) کے ہاتھ میں ہیں

 

نمائندگی کی عدم موجودگی: قومی اسمبلی، سینیٹ، قومی مالیاتی کمیشن (NFC)، یا کونسل آف کامن انٹرسٹ (CCI) میں کوئی نمائندگی نہ ہو۔

بنیادی حقوق: آئین پاکستان کے تحت بنیادی حقوق (جیسے عدالتوں تک رسائی، شہریت کے مکمل حقوق) محدود ہیں۔ گلگت بلتستان کے لوگ پاکستان کے شہری تو سمجھے جاتے ہیں، مگر آئینی تحفظ مکمل نہیں۔

زمین اور ملکیت: ماضی میں سٹیٹ سبجیکٹ رول تھا، جو اب ختم ہو چکا، لیکن اب بھی مقامی لوگوں کو اپنی زمین پر مکمل ملکیت کا مسئلہ درپیش رہا ہے (PPP نے حالیہ وعدوں میں اسے حل کرنے کا ذکر کیا)۔

عدالتی نظام: سپریم کورٹ آف پاکستان کا براہ راست دائرہ کار نہیں۔ مقامی عدالتوں کے اختیارات محدود ہیں۔

تاریخی پیش رفت

1970 کی دہائی میں ذوالفقار علی بھٹو نے FCR (فرنٹیئر کرائمز ریگولیشن) ختم کیا۔

2009 کے Empowerment Order نے جزوی خودمختاری دی۔

2018 آرڈر نے مزید اختیارات دیے۔

2019 میں سپریم کورٹ نے بنیادی حقوق دینے کا حکم دیا۔

2020 میں عمران خان حکومت نے عبوری صوبائی حیثیت (provisional provincial status) کا اعلان کیا، مگر آئینی ترمیم نہ ہو سکی۔

حالیہ صورتحال (2026)

الیکشن مہم میں پیپلز پارٹی سمیت دیگر پارٹیاں پانچویں صوبے کا درجہ، 18ویں ترمیم کے تحفظ، حق ملکیت، اور مکمل آئینی حقوق کا وعدہ کر رہی ہیں۔ عوام کا مطالبہ ہے کہ گلگت بلتستان کو آئینی طور پر پاکستان کا حصہ بنایا جائے، بغیر کشمیر تنازع کو متاثر کیے (جیسے عبوری صوبائی حیثیت)۔


آئینی ترمیم: آرٹیکل 1، 51، 59 وغیرہ میں تبدیلی کر کے عبوری صوبائی حیثیت دینا۔

مکمل الحاق: کشمیر کے حتمی حل تک عبوری انتظامات۔

مقامی عوام، سیاسی جماعتوں اور وفاق کے درمیان مشاورت سے مستقل حل نکالنا۔

گلگت بلتستان اسٹریٹجک اہمیت کا حامل علاقہ ہے (CPEC کا دروازہ، قدرتی وسائل، سیاحت)۔ اس کے عوام کو مکمل شہری حقوق ملنے سے علاقائی استحکام اور ترقی تیز ہو گی۔ یہ نہ صرف GB بلکہ پورے پاکستان کے لیے اہم ہے۔


Comments

Popular posts from this blog

کالاباغ ڈیم پر اعتراض کا جواب۔​کالا باغ ڈیم چشمِ دید گواہی اور قومی ضرورت کا پکارتا سچ ​

جن لوگوں کو کالا باغ ڈیم بنانے پر اعتراض ہے وہ لوگ جا کر کالا باغ دیکھ کر آئیں ۔ کالا باغ میں جہاں سے دریائے سندھ گزرتا ہے وہاں دونوں طرف سنگلاخ چٹانیں ہیں پہاڑ ہیں اور دریائے سندھ ایک ندی کی صورت میں وہاں سے گزرتا ہے اور گہرائی حد درجہ زیادہ ہے۔   اس کے اوپر انگریزوں کے زمانے کا بنایا ہوا ایک پل ہے۔  2005 میں جب ہم لوگ کالا باغ ڈیم گئے تو ہم نے یہ دیکھا کہ وہاں پر کالا باغ  کے علاقے  میں دریا سندھ ایک ندی کی صورت میں بہہ رہا تھا اور دونوں طرف سنگلاخ چٹانیں تھیں۔   کالا باغ بازار میں ابھی تک سائیکل رکشے چل رہے تھے اور وہاںسے میں نے ایک دوپٹہ بھی خریدا تھا جو کہ سات رنگ میں تھا ۔ اسلام اباد سے جب ہم میانوالی کی طرف گئے ۔فتح جنگ کے راستے سے  دو سڑکیں جاتی تھیں ایک کوہاٹ کو  ۔ اور ایک میانوالی کو اس دفعہ ہم نے روٹ پکڑا تھا۔  وہ میانوالی  ابو سے ضد  کر کے گے تھے ۔ جب رستے پر چلتے گئے تو ہمیں راستے میں میانوالی کے قریب نمل جھیل نظر آئی یہ ہمارے لئے ایک نیا تجربہ تھا کیونکہ ہم اس وقت نمل یونیورسٹی میں پڑھ رہے تھے تو وہاں پر نمل جھیل دیکھ کر ہم...

ادھا چمچ ہلدئ کے فوائد۔

 ہلدی (Turmeric) ایک مشہور مصالحہ ہے جو صدیوں سے کھانوں اور جڑی بوٹیوں کے علاج میں استعمال ہو رہی ہے۔ اس میں کرکومن (Curcumin) نامی جز پایا جاتا ہے جو اس کے زیادہ تر فوائد کا سبب ہے۔ ہلدی کے اہم فوائد: 1. سوزش کم کرتی ہے جوڑوں کے درد، گٹھیا اور سوجن میں مفید ہے۔ 2. مدافعتی نظام مضبوط کرتی ہے جسم کو بیماریوں سے لڑنے کی طاقت دیتی ہے۔ 3. اینٹی آکسیڈینٹ خصوصیات بڑھاپے کی رفتار کم کرتی ہے اور خلیات کو نقصان سے بچاتی ہے۔ 4. ہاضمے میں مددگار بدہضمی، گیس اور پیٹ کی تکالیف کم کرنے میں فائدہ مند ہے۔ 5. دل کی صحت کولیسٹرول کم کرنے اور بلڈ پریشر کو متوازن رکھنے میں کردار ادا کر سکتی ہے۔ 6. ذہنی صحت دماغی کمزوری (الزائمر وغیرہ) سے بچاؤ میں معاون مانی جاتی ہے۔ 7. زخم اور انفیکشن جراثیم کش خصوصیات کی وجہ سے زخموں پر لگانے سے شفا میں مدد ملتی ہے۔ 8. جلد کے لیے فائدہ مند دانوں، جھائیوں اور رنگت نکھارنے میں استعمال ہوتی ہے۔ 🔸 البتہ، ہلدی کا زیادہ استعمال معدے پر بوجھ ڈال سکتا ہے، اس لیے مناسب مقدار میں استعمال کرنا بہتر ہے۔ ،تحریر  ،روما محمود  ۔اسلام آباد 

​روٹی: پیٹ کا ایندھن یا ایمان کی بنیاد؟

  ---روما محمود--- انسانی تاریخ گواہ ہے کہ تہذیبوں کے عروج و زوال، جنگوں کے پیچھے چھپے اسباب اور ہجرتوں کی داستانوں میں اگر کوئی ایک قدر مشترک ہے، تو وہ "روٹی" ہے۔ کہنے کو تو یہ گندم کے آٹے کا ایک گول پیڑا ہے جسے آگ پر سینکا جاتا ہے، لیکن حقیقت میں یہ وہ زنجیر ہے جس نے پوری انسانیت کو تگ و دو کے شکنجے میں جکڑ رکھا ہے۔ ایک مزدور کی صبح سورج نکلنے سے پہلے ہوتی ہے اور وہ دن بھر تپتی دھوپ میں اپنا پسینہ صرف اس لیے بہاتا ہے کہ شام کو گھر جاتے ہوئے اس کے ہاتھ میں چند گرم روٹیاں ہوں۔ یہ صرف پیٹ بھرنے کا سامان نہیں، بلکہ ایک باپ کی اپنے بچوں سے محبت کا ثبوت ہے۔ ​تندور سے اٹھتی تازہ روٹی کی خوشبو دنیا کی مہنگی ترین پرفیوم سے زیادہ دلکش ہوتی ہے، خاص کر اس شخص کے لیے جس نے سارا دن فاقہ کیا ہو۔ لیکن افسوس! یہی روٹی جب دسترخوان پر وافر ہو جائے تو اس کی قدر کم ہو جاتی ہے، اور جب نایاب ہو جائے تو انسان کو غیرت اور ضمیر تک بیچنے پر مجبور کر دیتی ہے۔ کے دور میں جہاں ٹیکنالوجی آسمانوں کو چھو رہی ہے، وہیں خطِ غربت سے نیچے رہنے والوں کے لیے دو وقت کی روٹی کا حصول ایک خواب بنتا جا رہا ہے۔ آٹے کے ...