--- روما محمود---
انسانی تاریخ کے اوراق میں ایسی بہت سی شخصیات کا ذکر ملتا ہے جن کی ذات اسرار و رموز کے حصار میں لپٹی ہوئی ہے۔ انہی میں ایک نمایاں نام حضرت خواجہ خضر علیہ السلام کا ہے۔ وہ ایک ایسی ہستی ہیں جنہیں ادب، تصوف، اور لوک روایات میں 'حیاتِ جاودانی' پانے والا، گمراہوں کا رہنما اور خشک و تر کا محافظ مانا جاتا ہے۔
حضرت خضر علیہ السلام کا ذکر قرآن پاک کی سورہ الکہف میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ ان کے سفر کی صورت میں ملتا ہے، جہاں انہوں نے حکمت اور علمِ لدنی کے ایسے مظاہرے کیے جو بظاہر سمجھ سے بالاتر تھے مگر ان کے پیچھے گہری الٰہی مصلحتیں کارفرما تھیں۔ ان کا کردار انسانی عقل اور الٰہی علم کے درمیان ایک پل کی حیثیت رکھتا ہے۔
آبِ حیات اور حیاتِ جاودانی کا فلسفہ
روایات کے مطابق حضرت خضر علیہ السلام نے 'آبِ حیات' نوش کیا، جس کی وجہ سے انہیں ابدی زندگی عطا ہوئی۔ تاہم، صوفیائے کرام اس ابدیت کو محض جسمانی زندگی تک محدود نہیں کرتے۔ ان کے نزدیک آبِ حیات دراصل 'علمِ عرفان' اور 'بصیرت کا نور' ہے جو انسان کی روح کو موت کے بعد بھی زندہ رکھتا ہے۔ جب ہم کہتے ہیں کہ "خضر علیہ السلام زندہ ہیں"، تو اس کا اشارہ اس مسلسل رہنمائی کی طرف ہوتا ہے جو وہ تلاشِ حق کرنے والوں کو عطا کرتے ہیں۔
مچھلیوں کی نظر بصیرت کی ایک علامت
لوک کہانیوں میں خواجہ خضر علیہ السلام کا تعلق دریاؤں اور سمندروں سے جوڑا جاتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ جہاں جہاں وہ جاتے ہیں، ان کی برکت سے وہاں پانی کی تہہ میں موجود حیات (مچھلیاں) بھی ایک خاص بصیرت رکھتی ہیں۔ یہ محض ایک قصہ نہیں، بلکہ ایک استعارہ ہے۔ جس طرح گہرے پانیوں میں رہنے والی مچھلیاں سطح کے ہنگاموں سے دور، تہہ کی خاموشی میں رہتی ہیں، اسی طرح ایک عارف انسان بھی ظاہری دنیا کے شور سے دور، اپنے باطن کی گہرائیوں میں حقیقتِ حق کو پاتا ہے۔ وہ "مچھلیوں کی نظر" دراصل اس 'بصیرت' کی علامت ہے جو اندھیروں میں بھی راستہ ڈھونڈ لیتی ہے۔
جدید دور میں خواجہ خضر علیہ السلام کی تعلیمات
آج کے مادی دور میں، جہاں انسان اپنی روح سے کٹ چکا ہے، حضرت خضر علیہ السلام کی حکایت ہمیں ایک اہم پیغام دیتی ہے۔ جب ہم خود کو بے بس پاتے ہیں، جب حالات کے دریا ہمارے قابو سے باہر ہوتے ہیں، تو ہمیں ظاہری اسباب سے آگے دیکھنا چاہیے۔
- صبر اور حکمت: ان کا حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ سفر ہمیں سکھاتا ہے کہ زندگی کے ہر واقعے کے پیچھے کوئی نہ کوئی خیر چھپا ہوتا ہے، جسے سمجھنے کے لیے صبر کی ضرورت ہوتی ہے۔
- باطنی سفر: ان کی شخصیت ہمیں دعوت دیتی ہے کہ ہم اپنے اندر کے سمندروں میں اتریں اور اپنی گمشدہ بصیرت کو تلاش کریں۔
- راہنمائی: وہ ان لوگوں کے لیے ہمیشہ موجود ہیں جو خلوصِ نیت سے سچائی کی تلاش میں سرگرداں ہیں۔
حضرت خواجہ خضر علیہ السلام کی ذات ہمارے لیے امید کا ایک استعارہ ہے۔ وہ ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ زندگی صرف ان چیزوں کا نام نہیں جو نظر آتی ہیں، بلکہ اصل زندگی وہ ہے جو نظروں سے اوجھل گہرائیوں میں چھپی ہے۔ جب ہم خود کو بھٹکا ہوا یا بے بس محسوس کریں، تو ہمیں ان کی یاد تازہ کرنی چاہیے، کیونکہ جو ذات پانی کی تہوں میں بھی رہنمائی کا چراغ روشن رکھ سکتی ہے، وہ ہمارے دلوں کے اندھیروں کو دور کرنے کے لیے بھی کافی ہے۔
اے خضرِ وقت! ہماری بصیرت کو بھی وہ تابندگی عطا کر کہ ہم بھی زندگی کے طوفانوں میں سچائی کا ساحل دیکھ سکیں۔

Comments