---روما محمود---
آج جب سپریم کورٹ نے نور مقدم کے قاتل ظاہر جعفر کی سزائے موت برقرار رکھی، تو ایک بار پھر سے ملک بھر میں ایک ہلچل سی مچی۔ ۲۰۲۱ کا وہ وحشیانہ قتل، جس میں ایک نوجوان لڑکی کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا، ریپ کیا گیا اور پھر سر قلم کر دیا گیا—وہ زخم آج بھی تازہ ہے۔ نور مقدم کوئی عام کیس نہیں تھی۔ وہ ایک سمبل بن گئی۔ ایک ایسا سمبل جو ہزاروں، لاکھوں ایسی لڑکیوں کی آواز بن گیا جن کے ساتھ ایسا کچھ ہوا، مگر ان کی کہانیاں کبھی اخبار کی سرخی نہیں بنیں۔
نور کی موت نے معاشرے کے اندھیرے کو عیاں کر دیا۔ ایک طرف privileged background کا لڑکا، جس کے پاس دولت، رابطے اور طاقت تھی، دوسری طرف ایک لڑکی جو اعتماد کر کے گئی۔ پھر وہ گھر جہاں سے وہ زندہ نہیں نکلی۔ CCTV فوٹیج، DNA، خون آلود ہتھیار—ثبوت اتنے واضح تھے کہ انکار ممکن نہ تھا۔ پھر بھی کیس کیسے لڑا گیا، تاخیری حربے استعمال کیے گئے، اور کتنی بار "انفلوئنس" کا شبہ ہوا، یہ سب ہم نے دیکھا۔
لیکن نور صرف ایک نہیں۔
یہ ملک بھر میں روز ہوتا ہے۔ دیہی علاقوں میں، شہروں کے چھوٹے گھروں میں، "عزت" کے نام پر، "غصے" کے نام پر، "رشتے" کے نام پر۔ لڑکیاں غائب ہو جاتی ہیں، تشدد کا شکار ہوتی ہیں، اور کئی بار تو قتل کے بعد "خودکشی" یا "ایکسیڈنٹ" کا لیبل لگا دیا جاتا ہے۔ اعداد و شمار خوفناک ہیں—گھریلو تشدد، جنسی زیادتی، آنر کلنگ۔ لیکن جب بات elite کے کیس کی آتی ہے تو شور مچتا ہے۔ عام لڑکیوں کے لیے عدالتیں سست چلتی ہیں، پولیس خاموش رہتی ہے، اور معاشرہ "لڑکی کی غلطی" ڈھونڈنے لگتا ہے۔
سپریم کورٹ کا فیصلہ ایک فتح ہے، مگر ادھوری۔ قاتل کو سزا مل گئی، مگر اس نظام کو سزا کب ملے گی جو ایسی وحشت کو جنم دیتا ہے؟ جہاں عورت کو اب بھی ملکیت سمجھا جاتا ہے۔ جہاں "لڑکے تو لڑکے ہوتے ہیں" والا رویہ عام ہے۔ جہاں والدین لڑکیوں کو "تحفظ" کے نام پر گھر میں قید کر دیتے ہیں، کیونکہ باہر نکلنا خطرناک ہے۔
نور مقدم کی والدہ اور والد کا درد، ان کی جدوجہد—یہ سب الفاظ سے بالاتر ہے۔ انہوں نے نہ صرف بیٹی کا بدلہ لیا بلکہ ایک مثال قائم کی کہ خاموشی اختیار کرنے کے بجائے لڑا جا سکتا ہے۔ مگر ہمیں یہ بھی سوچنا چاہیے کہ کتنی مائیں آج بھی اپنی بیٹیوں کی لاشیں اٹھا رہی ہیں اور خاموشی سے آنسو بہا رہی ہیں، کیونکہ ان کے پاس "انفلوئنس" نہیں۔
ہمیں قانون کی حکمرانی چاہیے، تیز عدالتیں چاہییں، پولیس میں اصلاح چاہیے، اور سب سے بڑھ کر معاشرتی رویوں میں تبدیلی چاہیے۔ جب تک عورت کو انسان نہیں سمجھا جائے گا، صرف "عزت" یا "مال" سمجھا جاتا رہے گا، ایسے واقعات رک نہیں سکیں گے۔
نور، تم ایک سمبل ہو۔
تمہاری موت نے ہمیں جگانا چاہیے۔
اب سوال یہ ہے: کیا ہم جاگ رہے ہیں، یا پھر ایک اور نور کا انتظارکر رہے ہیں

انفلوئنس طاقت کا وہ سایہ جو انصاف کو کھا جاتا ہے
پاکستان میں "انفلوئنس" کا لفظ سنتے ہی ذہن میں ایک مخصوص تصویر بن جاتی ہے — کوئی بڑا نام، کوئی طاقتور خاندان، کوئی سیاسی رابطہ یا دولت کا ڈھیر، جو قانون کو موم کی طرح موڑ دیتا ہے۔ نور مقدم کیس میں سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلے نے ایک بار پھر اس لفظ کو تازہ کر دیا۔ ظاہر جعفر جیسا ملزم، جس کے پاس انفلوئنس تھا، کیس کو سالوں تک لمبا کھینچنے کی کوشش کی گئی۔ ثبوتوں کے باوجود تاخیری حربے، وکلاء کی فوج اور "دباؤ" کے الزامات۔ آخر کار عدالتی نظام نے اپنا کردار ادا کیا، مگر سوال اب بھی کھڑا ہے: کیا انفلوئنس صرف مجرموں کا ہتھیار ہے، یا یہ ہمارے معاشرے کا ایک لازمی حصہ بن چکا ہے؟
انفلوئنس ہمیشہ برا نہیں ہوتا۔ اچھی نیٹ ورکنگ، اچھے رابطے اور ساکھ لوگوں کو آگے بڑھاتی ہے۔ ایک مستحق طالب علم کو یونیورسٹی میں داخلہ دلوانا، ایک غریب مریض کو بہتر ہسپتال میں جگہ دلانا، یا ایک سچے مقدمے میں تیز رفتار انصاف دلانا — یہ سب مثبت انفلوئنس کی مثالیں ہیں۔ بزنس میں اچھے رابطے معیشت کو چلاتے ہیں۔ سماجی کام کرنے والے لوگ اپنے اثر و رسوخ سے فلاحی کام کرتے ہیں۔ اگر انفلوئنس استعمال کر کے کوئی اچھا کام ہو جائے تو اسے سراہا بھی جاتا ہے۔
منفی پہلو جب انفلوئنس انصاف کو قتل کرتا ہے
مگر ہمارے معاشرے میں زیادہ تر انفلوئنس کا استعمال منفی ہے۔ نور مقدم جیسے کیسز اس کی واضح مثال ہیں۔ privileged background والے ملزم کو عام آدمی سے مختلف سلوک ملتا ہے۔ پولیس میں اثر و رسوخ سے FIR درج نہیں ہوتی، یا تبدیل کر دی جاتی ہے۔ عدالتوں میں کیس لمبا کھینچا جاتا ہے۔ ججوں پر دباؤ، گواہوں کو خریدا جانا، اور میڈیا میں تصویر تبدیل کرنے کی کوششیں — یہ سب روزمرہ کی حقیقت بن چکے ہیں۔
دیہی علاقوں میں "وجہ دار" لوگ زمین ہڑپ کرتے ہیں، عزت کے نام پر قتل کرتے ہیں اور پھر انفلوئنس سے بچ نکلتے ہیں۔ شہروں میں سیاسی انفلوئنس بھرتیوں، ٹھیکوں اور کرپشن میں استعمال ہوتا ہے۔ بیوروکریسی میں "بڑے آدمی کا فون" ایک عام بات ہے۔ نتیجہ؟ عام شہری احساس محرومی کا شکار ہوتا ہے۔ اسے لگتا ہے کہ قانون صرف کمزوروں کے لیے ہے۔
چاروں کونوں پر اثر
سیاسی کونہ: ووٹ بینک، خاندانی سیاست اور پارٹی پاور سے انفلوئنس بنتا ہے۔ کرپشن کے کیسز برسوں التوا کا شکار رہتے ہیں جبکہ مخالفین کے کیسز تیز چلتے ہیں۔
عدالتی و سماجی کونہ: امیر غریب کا فرق، مرد عورت کا فرق، اور طاقتور بے بس کا فرق واضح نظر آتا ہے۔ نور مقدم کیس اسی لیے سمبل بنا کیونکہ اس میں انفلوئنس کی تمام جہتیں سامنے آئیں۔
اقتصادی کونہ: بڑے کاروباری ٹیکس چوری کرتے ہیں، بینک لون معاف کرواتے ہیں، جبکہ چھوٹا تاجر ناک میں دم کر دیا جاتا ہے۔
ذاتی و خاندانی کونہ: رشتوں میں بھی انفلوئنس چلتا ہے۔ "لڑکے کا باپ بڑا آدمی ہے" کہہ کر لڑکی کی مرضی کو نظر انداز کیا جاتا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ انفلوئنس ہر معاشرے میں موجود ہوتا ہے۔ ترقی یافتہ ممالک میں بھی لابنگ اور نیٹ ورکنگ ہوتی ہے، مگر وہاں قانون کی حکمرانی اتنی مضبوط ہوتی ہے کہ انفلوئنس قانون سے اوپر نہیں جا سکتا۔ ہمارے ہاں الٹا ہے — انفلوئنس قانون سے اوپر بیٹھا ہے۔
ہمیں کیا کرنا چاہیے؟
پولیس، عدلیہ اور بیوروکریسی میں شفافیت لانا ہوگی۔ میرٹ کی بنیاد پر تقرریاں، ڈیجیٹل ٹریکنگ، آزاد میڈیا اور عوامی دباؤ۔ سب سے بڑھ کر معاشرتی رویہ بدلنا ہوگا کہ "رابطہ" کو "سفارش" نہ سمجھا جائے بلکہ "قابلیت" کو اہمیت دی جائے۔
انفلوئنس ایک دو دھاری تلوار ہے۔ اسے اچھے کاموں کے لیے استعمال کیا جائے تو معاشرہ ترقی کرتا ہے۔ مگر جب یہ انصاف، مساوات اور قانون کو کھا جائے تو پھر پورا نظام کھوکھلا ہو جاتا ہے۔
نور مقدم کیس نے ہمیں یاد دلایا ہے کہ ایک لڑکی کی موت بھی نظام کو جگانے کا سبب بن سکتی ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ ہم اس انفلوئنس کی زنجیروں کو توڑتے ہیں یا پھر اسی کے سائے میں مزید "نوروں" کا انتظار کرتے رہتے ہیں۔
انصاف سب کے لیے ہونا چاہیے — نہ کہ صرف ان کے لیے جن کے پاس "انفلوئنس" ہو۔
Comments