سمت سے محروم پاکستانی معاشرے کا ایک المیہ




---روما محمود---



​ہمارے معاشرے میں آج کل ایک عجیب سی کیفیت پائی جاتی ہے۔ اگر آپ کسی سے پوچھیں کہ "ہم کہاں جا رہے ہیں؟" یا "ہماری قومی منزل کیا ہے؟" تو آپ کو سوائے خاموشی یا مایوسی بھری آہ کے کچھ جواب نہیں ملے گا۔ اس کیفیت کو اگر ایک لفظ میں بیان کیا جائے تو وہ ہے.



"سمت کا فقدان" (Directionlessness)۔
​پاکستانی معاشرہ اس وقت ایک ایسی کشتی کی مانند ہے جو سمندر کے بیچوں بیچ تو ہے، لیکن جس کا ملاح سو چکا ہے اور بادبانوں کا رخ ہواؤں کے رحم و کرم پر ہے۔ یہ صورتحال صرف معاشی یا سیاسی بحران نہیں، بلکہ ایک اجتماعی نفسیاتی اور فکری بحران ہے۔

​سمت کے فقدان کی کئی وجوہات ہیں ۔

​یہ سمت کا فقدان راتوں رات پیدا نہیں ہوا۔ اس کے پیچھے کئی دہائیوں کی منصوبہ بندی کا فقدان اور ترجیحات کا بگاڑ کارفرما ہے۔

ہم آج تک یہ طے نہیں کر سکے کہ ریاست کا بنیادی خاکہ کیا ہونا چاہیے۔ کیا ہم ایک جدید فلاحی ریاست ہیں، ایک مذہبی ریاست ہیں یا ایک ایسا معاشرہ جو مغرب کی اندھی تقلید کرنا چاہتا ہے؟ اس کشمکش نے نئی نسل کو ایک شدید شناخت کے بحران (Identity Crisis) میں مبتلا کر دیا ہے۔

ہمارا تعلیمی نظام نوجوانوں کو 'مہارتیں' تو سکھا رہا ہے، لیکن 'سمت' دینے سے قاصر ہے۔ ہم صرف ڈگری یافتہ بے روزگاروں کی ایک فوج تیار کر رہے ہیں، جنہیں یہ نہیں معلوم کہ ان کی زندگی کا مقصد کیا ہے اور وہ معاشرے میں کس طرح اپنا کردار ادا کر سکتے ہیں۔

جب اخلاقیات اور اقدار پر مادیت اور دولت کا پلڑا بھاری ہو جائے، تو معاشرہ سمت کھو دیتا ہے۔ آج کامیابی کا پیمانہ صرف 'پیسہ کمانا' رہ گیا ہے۔ اس دوڑ میں ہم نے یہ بھلا دیا ہے کہ جس منزل کی سمت ہی غلط ہو، وہاں پہنچ کر بھی سکون نہیں ملتا۔

​اس سمت کے فقدان کے اثرات ہماری روزمرہ زندگی میں صاف دکھائی دیتے ہیں۔

جب انسان کو اپنی منزل کا علم نہ ہو، تو وہ چھوٹی چھوٹی باتوں پر جھنجھلا جاتا ہے۔ ٹریفک میں صبر نہ ہونا، سوشل میڈیا پر ہر وقت لڑائی کرنا، اور ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی کوشش اسی بے سمتی کا شاخسانہ ہے۔

نوجوان نسل میں ملک چھوڑ کر جانے کا رجحان اس بات کی دلیل ہے کہ انہیں یہاں اپنا کوئی مستقبل نظر نہیں آتا۔ جب ملک کے بہترین دماغ بیرونِ ملک چلے جائیں، تو پیچھے بچ جانے والا معاشرہ اپنی سمت کیسے درست رکھ سکتا ہے؟

سمت نہ ہونے کی وجہ سے ہم "آج کا دن کیسے گزرے گا" کی فکر میں مبتلا ہیں۔ ہم طویل مدتی منصوبوں (Long-term goals) پر یقین نہیں رکھتے۔ اسی لیے ہم ہر وقت شارٹ کٹ تلاش کرتے ہیں، چاہے وہ غیر قانونی ہی کیوں نہ ہو۔

​ہم سمت کیسے دوبارہ پا سکتے ہیں؟

​یہ صورتحال مایوس کن ضرور ہے، لیکن ناقابلِ اصلاح نہیں۔ سمت کی بحالی کے لیے کچھ بنیادی اقدامات ناگزیر ہیں۔

ہمیں بیٹھ کر یہ طے کرنا ہوگا کہ بحیثیت قوم ہماری بنیادی اقدار کیا ہیں۔ جب تک ہم اپنی ترجیحات کو طے نہیں کریں گے، ہم بھٹکتے رہیں گے۔

تعلیم کا مقصد صرف نوکری کا حصول نہیں، بلکہ ایسے انسان بنانا ہونا چاہیے جو معاشرے کے لیے ذمہ دار ہوں۔ ہمیں سکولوں اور گھروں میں تنقیدی سوچ (Critical Thinking) کو فروغ دینا ہوگا۔

معاشرے کو ایسے رول ماڈلز کی ضرورت ہے جو قول اور فعل میں تضاد نہ رکھتے ہوں۔ قیادت جب سمت دکھاتی ہے، تو عوام پیچھے چل پڑتے ہیں۔

​ایک سمت سے محروم معاشرہ کبھی ترقی نہیں کر سکتا۔ ترقی صرف عمارتیں بنانے کا نام نہیں ہے، بلکہ ایک ایسا معاشرتی ڈھانچہ تشکیل دینے کا نام ہے جس میں ہر فرد کو اپنی منزل کا علم ہو۔ وقت آ گیا ہے کہ ہم اپنی آنکھوں پر بندھی یہ پٹی اتاریں اور دیانتداری سے خود سے سوال کریں کہ ہم کہاں کھڑے ہیں اور ہمیں کہاں پہنچنا ہے۔ سمت مل جائے تو فاصلے خود بخود سمٹ جاتے ہیں۔

Comments

Popular posts from this blog

کالاباغ ڈیم پر اعتراض کا جواب۔​کالا باغ ڈیم چشمِ دید گواہی اور قومی ضرورت کا پکارتا سچ ​

ایک درخت، کئی نسلوں کی یادیں

ادھا چمچ ہلدئ کے فوائد۔