کلمۂ حق اور بسم اللہ سورت النمل کی دوہری تجلی

 


---روما محمود---




​قرآنِ کریم محض ایک کتابِ ہدایت نہیں، بلکہ یہ کائنات کے ان اسرار و رموز کا مجموعہ ہے جن کی گہرائی تک پہنچنے کے لیے عقل اور قلب دونوں کی ہم آہنگی درکار ہے۔ اس مقدس کتاب کی ہر آیت ایک حکمت، ایک تاریخ اور ایک فلسفہ اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔ جب ہم سورت النمل کا مطالعہ کرتے ہیں، تو ہمیں ایک ایسا فنی اور روحانی پہلو نظر آتا ہے جو دیگر سورتوں میں نہیں ملتا۔ سورت النمل قرآن کی وہ واحد سورت ہے جس میں "بسم اللہ الرحمٰن الرحیم" دو مرتبہ آئی ہے۔ ایک بار سورت کے آغاز میں اور دوسری بار آیت نمبر ۳۰ میں۔ یہ محض ایک تکرار نہیں، بلکہ اس کے پیچھے ایک عظیم الشان تاریخ اور ایک گہرا نفسیاتی اور سماجی سبق پوشیدہ ہے۔

​تاریخ کا ایک اہم موڑ؛ حضرت سلیمانؑ کا خط

​سورت النمل میں حضرت سلیمان علیہ السلام اور ملکہ سبا (بلقیس) کا قصہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ یہ صرف ایک بادشاہ اور ملکہ کے درمیان خط و کتابت کا واقعہ نہیں، بلکہ یہ حق اور باطل، طاقت اور حکمت، اور تکبر اور عاجزی کے درمیان ایک مکالمہ ہے۔

​جب حضرت سلیمان علیہ السلام کو ہدہد کے ذریعے ملکہ سبا اور اس کی قوم کی سورج پرستی کی اطلاع ملی، تو انہوں نے طاقت کے زور پر حملہ کرنے کے بجائے دعوتِ حق دینے کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے ایک خط لکھا جس کا ذکر قرآن نے یوں کیا ہے:

"اِنَّہٗ مِنۡ سُلَیۡمٰنَ وَ اِنَّہٗ بِسۡمِ اللہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ"

(بے شک یہ خط سلیمان کی طرف سے ہے اور یہ اللہ کے نام سے شروع جو بہت مہربان نہایت رحم والا ہے)

​یہاں "بسم اللہ" کا دوسری بار آنا ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ جب بھی کوئی بڑا کام، کوئی اہم پیغام، یا کوئی ایسی بات کہی جائے جو معاشرے میں تبدیلی لانے والی ہو، اس کی بنیاد صرف اور صرف اللہ کی ذات اور اس کی رحمت پر ہونی چاہیے۔

​بسم اللہ؛ایک فلسفۂ زندگی

​اگر ہم اپنی زندگی کے معاملات پر غور کریں تو ہمیں معلوم ہوگا کہ ہم اکثر اپنے مقاصد میں اس لیے ناکام ہو جاتے ہیں کہ ہم اپنی انا (Ego) کو بسم اللہ پر فوقیت دے دیتے ہیں۔ حضرت سلیمانؑ، جو ایک عظیم سلطنت کے فرماں روا تھے، انہوں نے اپنا پیغام "بسم اللہ" سے شروع کر کے یہ ثابت کیا کہ اقتدار کا اصل مقصد اپنی بڑائی کا اظہار نہیں، بلکہ خالقِ کائنات کے پیغام کو مخلوق تک پہنچانا ہے۔

​آج کے دور میں، جہاں ہم ہر طرف انا کی جنگ اور اپنے نام کو اونچا کرنے کی دوڑ دیکھ رہے ہیں، "بسم اللہ" کا یہ فلسفہ ایک چراغ کی حیثیت رکھتا ہے۔ کیا ہمارے لکھے گئے کالم، ہمارے کیے گئے فیصلے، اور ہماری کی گئی گفتگو اس "بسم اللہ" کے شایانِ شان ہیں؟ کیا ہم اپنی زندگی کے ہر اہم موڑ پر یہ یاد رکھتے ہیں کہ ہم صرف ایک وسیلہ ہیں اور اصل قوت اس رحمن اور رحیم ذات کی ہے؟

​ملکہ سبا کا ردِ عمل اور عاجزی

​دوسری بسم اللہ، جو حضرت سلیمانؑ کے خط کا حصہ تھی، ملکہ سبا کے لیے ایک ایسی چنگاری ثابت ہوئی جس نے اس کے تکبر کے محل کو جلا کر راکھ کر دیا۔ ملکہ سبا ایک طاقتور حکمران تھی، لیکن جب اسے وہ خط ملا، تو اس نے اسے پھاڑا نہیں، اسے حقارت سے ٹھکرایا نہیں، بلکہ اس نے اپنی قوم کے ساتھ مشورہ کیا اور یہ تسلیم کیا کہ یہ کوئی عام خط نہیں ہے۔

​یہاں ہمیں ایک اور بڑا سبق ملتا ہے: مشاورت (Consultation)۔ ایک اچھا حکمران وہی ہے جو فیصلے تنہا نہیں کرتا۔ سورت النمل ہمیں سکھاتی ہے کہ اگر آپ کے پاس سچائی کا پیغام ہو، تو اسے پہنچانے کے لیے حکمت اور تحمل کا راستہ اپنائیں۔ ملکہ سبا کا کردار ہمیں یہ بتاتا ہے کہ انسان کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، جب اس پر حقیقت واضح ہو جائے تو اسے اپنی ضد اور انا کو چھوڑ کر حق کے سامنے سرِ تسلیم خم کر دینا چاہیے۔

​داخلی جنگ اور سچائی کا سامنا

​آج کا انسان ایک شدید "اندرونی جنگ" (Internal War) کا شکار ہے۔ ہم اکثر اپنی ذات کے حصار میں قید ہو کر سچ کو دیکھ نہیں پاتے۔ سورت النمل میں ذکر کردہ یہ دو "بسم اللہ" ہمیں یاد دلاتی ہیں کہ اگر ہم اپنے ہر کام کا آغاز اللہ کے نام سے کریں تو ہمارے اندر کی یہ جنگ ختم ہو سکتی ہے۔

​جب ہم "بسم اللہ" کہتے ہیں، تو ہم دراصل یہ اقرار کر رہے ہوتے ہیں کہ ہم اپنی طاقت سے نہیں، بلکہ اس کی توفیق سے کام کر رہے ہیں۔ یہ احساسِ عبدیت ہمارے اندر سے تکبر، حسد اور خود پسندی کو نکال باہر کرتا ہے۔ کیا ہم نے کبھی سوچا ہے کہ اگر ہماری تحریروں، ہماری گفتگو اور ہمارے رویوں میں یہ "بسم اللہ" کا رنگ شامل ہو جائے تو معاشرے میں کتنی بڑی تبدیلی آ سکتی ہے؟

​معاشرتی اثرات اور ذمہ داری

​ہم جس دور میں جی رہے ہیں، یہاں کردار کشی (Character Assassination) ایک عام مشغلہ بن چکا ہے۔ لوگ ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کے لیے اخلاقیات کی تمام حدیں پار کر جاتے ہیں۔ ایسے میں سورت النمل کا یہ قصہ ہمیں ایک اخلاقی معیار فراہم کرتا ہے۔ حضرت سلیمانؑ کا پیغام صرف ایک خط نہیں تھا، یہ ایک دعوت تھی جو محبت اور رحمت (بسم اللہ الرحمٰن الرحیم) پر مبنی تھی۔

​ایک کالم نگار، ایک لکھاری، یا ایک عام انسان کے طور پر ہمیں یہ سوچنا چاہیے کہ ہمارا "خط" (ہمارا پیغام) کس نوعیت کا ہے؟ کیا یہ دوسروں کے دلوں کو فتح کرنے والا ہے یا نفرتوں کی آگ بھڑکانے والا؟

​اختتامیہ: ایک نئی شروعات

​سورت النمل میں "بسم اللہ" کا دو بار آنا ہمیں یہ پیغام دیتا ہے کہ قرآن کا آغاز بھی اللہ کے نام سے ہے اور زندگی کے ہر اہم واقعے کا آغاز بھی اللہ کے نام سے ہونا چاہیے۔ یہ تکرار ہمیں یہ یاد دلاتی ہے کہ حق کی بات کرنا آسان ہے، لیکن حق کو حق کے انداز میں پہنچانا ایک فن ہے۔

​آئیے! آج ہم عہد کریں کہ اپنی زندگی کی کتاب کو نئے سرے سے "بسم اللہ" کے ساتھ لکھیں گے۔ ہم اپنی انا کو مٹا کر، مشورے کے کلچر کو فروغ دے کر، اور دوسروں کے لیے رحمت کا باعث بن کر ہی اس دنیا میں اصل تبدیلی لا سکتے ہیں۔ سورت النمل کی یہ آیت صرف قرآن کا حصہ نہیں، یہ ہمارے کردار کا لائحہ عمل ہونی چاہیے۔

​جیسا کہ حضرت سلیمانؑ نے اپنے خط کے ذریعے ایک قوم کو ہدایت کی راہ دکھائی، ہم بھی اپنے الفاظ اور کردار سے معاشرے میں پھیلی ہوئی بے چینی اور نفرتوں کو محبت اور عاجزی کے پیغام سے ختم کر سکتے ہیں۔ کیونکہ جب انسان اپنے آپ کو اللہ کے سپرد کر دیتا ہے، تو اسے پھر کسی دنیاوی طاقت کا خوف نہیں رہتا۔

​یہ دو "بسم اللہ" ہمارے لیے مشعلِ راہ ہیں۔ ایک ہماری عبادت کے لیے اور دوسری ہماری عملی زندگی کے لیے۔ اب یہ ہمیں طے کرنا ہے کہ ہم اپنی زندگی کے ہر صفحے پر اس "بسم اللہ" کی برکت کو کیسے دیکھنا چاہتے ہیں۔

Comments

Popular posts from this blog

کالاباغ ڈیم پر اعتراض کا جواب۔​کالا باغ ڈیم چشمِ دید گواہی اور قومی ضرورت کا پکارتا سچ ​

ایک درخت، کئی نسلوں کی یادیں

ادھا چمچ ہلدئ کے فوائد۔