اس میں تو اتنی اکڑ ہے وہ تو ناک پر مکھی نہیں بیٹنے دیتی

 






---روما محمود---



پاکستانی معاشرے کا ایک اور عجیب مرض ہے ناک پر مکھی نہ بیٹھنے دینا۔

مطلب یہ کہ کوئی معمولی سی بات، ہلکا سا طنز، ایک چھوٹی سی تنقید، یا حتیٰ کہ کوئی خاموشی بھی اگر کسی کی "ناک" پر لگ جائے تو معاملہ خراب۔ فوراً دل بھر آتا ہے، غصہ چڑھ جاتا ہے، رشتے ٹوٹتے ہیں، گھر کا ماحول بگڑ جاتا ہے اور کبھی کبھی تو سوشل میڈیا پر جنگ چھڑ جاتی ہے۔



یہ مرض سب میں عام ہے، لیکن شدت مختلف ہے۔ گھروں میں دیکھیں تو بہت سے والدین بچوں کو اتنا حساس بنا دیتے ہیں کہ سکول میں استاد نے ہلکا سا ڈانٹ دیا تو گھر آ کر رونے لگتے ہیں۔ "استاد نے میریبے عزتی کی ہے!"۔ بیوی اگر شوہر سے کہہ دے کہ "آج کپڑے بدل لو" تو شوہر فوراً الزام لگاتا ہے کہ "تم مجھے ہمیشہ نیچا دکھاتی ہو"۔ شوہر اگر بیوی کے پکائے ہوئے سالن میں تھوڑا نمک زیادہ ہونے کا ذکر کر دے تو بیوی پورا ہفتہ منہ بنائے پھرتی ہے۔

دوستوں کے درمیان یہ مرض اور بھی خطرناک ہے۔ ایک دوست نے دوسرے کا مذاق اڑا دیا (جو پاکستان میں تو دوستی کا حصہ ہے) تو دوستی ختم۔

واٹس ایپ پر "Seen" کر دیا تو "تم نے مجھے نظر انداز کیا"۔ فون اٹھانا دیر ہو گئی تو "تمہاری پرواہ ہی نہیں"۔  کہاں مر گی تھی۔

ہماری دوستی بھی نازک شیشے کی طرح ہوتی جا رہی ہے۔

معاشرتی اور سیاسی سطح پر تو یہ مرض قومی سطح کا بن چکا ہے۔ کوئی سیاستدان ایک معمولی تنقید پر فوراً پریس کانفرنس کر دیتا ہے۔

صحافی اگر سچ لکھ دے تو "میرا کردار کشی کی جا رہی ہے"۔ سوشل میڈیا پر ایک شخص کی رائے مختلف ہو تو ٹرینڈ چل پڑتا ہے کہ اسے "سبق سکھاؤ"۔

ہمارا قومی مزاج ہی ایسا ہو گیا ہے کہ تنقید کو "دشمن کی سازش" سمجھا جاتا ہے۔

سب سے زیادہ نقصان نوجوان نسل کو ہو رہا ہے۔ انسٹاگرام اور ٹک ٹاک کی وجہ سے "Perfect Life" کا وہم پیدا ہو گیا ہے۔

ایک لڑکی کی تصویر پر اگر کوئی کہہ دے کہ "فلٹر زیادہ لگا رکھا ہے" تو وہ ذہنی تناؤ کا شکار ہو جاتی ہے۔ ایک لڑکا اگر کسی گیم میں ہار جائے تو اسے لگتا ہے پوری دنیا نے اسے ہرا دیا۔ یہ "ناک پر مکھی" والا رویہ انہیں زندگی کی حقیقتوں سے دور لے جا رہا ہے۔

اس مرض کی جڑیں کہاں ہیں؟

خاندانی پالنے میں بہت زیادہ لاڈ اور تحفظ

کمزور خود اعتمادی
-
سوشل میڈیا جو ہمیں مسلسل validation کی لت لگا رہا ہے

معاشرتی دباؤ کہ "تمہیں کچھ کہا بھی نہ جائے"

نتیجہ یہ نکل رہا ہے کہ ہم ایک ایسے معاشرے کی طرف جا رہے ہیں جہاں لوگ رائے دینے سے ڈرتے ہیں، ایماندارانہ فیڈ بیک دینا مشکل ہو گیا ہے، اور چھوٹی چھوٹی باتوں پر رشتے ٹوٹ رہے ہیں۔

حل کیا ہے؟

ہمیں یہ سکھانا ہوگا کہ تنقید ہمیشہ ذاتی حملہ نہیں ہوتی۔ موٹی جلد (thick skin) پیدا کرنی ہوگی۔ بچوں کو بتائیں کہ زندگی میں لوگ ان سے ہمیشہ متفق نہیں ہوں گے، اور یہ ٹھیک ہے۔ خود کو تنقید سننے کے قابل بنائیں۔ اور سب سے اہم بات  دوسروں کی "ناک" پر مکھی نہ بٹھانے کی کوشش تو کریں، لیکن اگر کوئی بیٹھ بھی جائے تو فوراً جنگ نہ چھیڑیں۔

یاد رکھیں، جو شخص ناک پر مکھی نہیں بیٹھنے دیتا، وہ اکثر زندگی کے بڑے بڑے جھٹکوں کو بھی برداشت نہیں کر پاتا۔


ناک بہت قیمتی ہے، لیکن اسے اتنا نازک نہ بنائیں کہ ہوا کا جھونکا بھی اسے چوٹ پہنچا دے۔

ہم سب کو تھوڑا سا "مکھی بیٹھنے" کا حوصلہ پیدا کرنا چاہیے۔ تبھی آگے بڑھ سکیں گے۔

پنجابی کا ایک محاورہ ہے
نہاتی دھوتی رہ گی نک تے مکھی بے گئی۔

ناک پر مکھی نہ بیٹھنے دینا  غیرتِ نفس یا حد سے بڑھی انا؟

اردو زبان کا یہ خوبصورت اور معنی خیز محاورہ "ناک پر مکھی نہ بیٹھنے دینا" بظاہر ایک سادہ سی بات لگتی ہے، لیکن اپنے اندر انسانی نفسیات اور سماجی رویوں کی ایک پوری داستان سموئے ہوئے ہے۔ اس کا مطلب ہے حد سے زیادہ غیرت مند ہونا، کسی کی ذرا سی بات برداشت نہ کرنا یا اپنی شان میں ہلکی سی لچک بھی پیدا نہ ہونے دینا۔

انسانی شخصیت میں خودداری (Self-respect) ایک ستون کی حیثیت رکھتی ہے، جو انسان کو دوسروں کے سامنے جھکنے اور اپنی تذلیل کروانے سے روکتی ہے۔ لیکن جب یہ خودداری ضرورت سے زیادہ بڑھ جائے اور انسان دوسروں کی جائز تنقید یا مشورے کو بھی اپنی توہین سمجھنے لگے، تو یہ 'انا' (Ego) بن جاتی ہے۔ "ناک پر مکھی نہ بیٹھنے دینے" والے افراد اکثر اسی کیفیت کا شکار ہوتے ہیں، جہاں وہ اپنے گرد ایک ایسی فرضی دیوار کھڑی کر لیتے ہیں جسے عبور کرنا کسی کے لیے ممکن نہیں ہوتا۔

ایسے رویے کے حامل افراد معاشرے میں عموماً اکیلے رہ جاتے ہیں۔

جب کوئی شخص ہر بات کو اپنی انا کا مسئلہ بنا لیتا ہے، تو دوست احباب اور قریبی عزیز اس سے بات کرتے ہوئے کترانے لگتے ہیں کہ کہیں کوئی بات اسے ناگوار نہ گزر جائے۔

اگر کوئی طالب علم یا ماتحت اپنی ناک پر مکھی نہ بیٹھنے دے، تو وہ اپنی غلطیوں سے سیکھنے کی صلاحیت کھو دیتا ہے، کیونکہ وہ اپنی اصلاح کو اپنی تذلیل سمجھتا ہے۔

ہر وقت اپنی 'ناک' یعنی ساکھ کو بچانے کی فکر انسان کو مستقل ذہنی تناؤ اور بے چینی میں مبتلا رکھتی ہے۔

زندگی میں توازن ہی کامیابی کی کنجی ہے۔ اپنی عزتِ نفس کی حفاظت کرنا ہر انسان کا حق ہے، لیکن اتنا سخت مزاج ہو جانا کہ لوگ آپ سے ملنے سے ڈریں، ایک منفی رویہ ہے۔

دوسروں کی باتوں کو ٹھنڈے دل سے سننا اور ان پر غور کرنا ایک اعلیٰ انسانی صفت ہے۔

حالات کے مطابق اپنے رویے میں لچک پیدا کرنا کمزوری نہیں بلکہ دانشمندی ہے۔

تاریخ گواہ ہے کہ عروج ہمیشہ انہی کو ملا جنہوں نے عاجزی اختیار کی اور اپنی انا کو دوسروں کے حقوق سے بلند نہیں ہونے دیا۔

"ناک پر مکھی نہ بیٹھنے دینا" اگرچہ ایک رعب دار محاورہ ہے، لیکن عملی زندگی میں یہ تنہائی کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتا ہے۔ اصل کمال یہ نہیں کہ آپ کسی کو اپنے قریب نہ آنے دیں، بلکہ اصل کمال یہ ہے کہ آپ کی شخصیت اتنی اچھی  اور نرم ہو کہ لوگ آپ کی عزت خوف کی وجہ سے نہیں بلکہ محبت کی وجہ سے کریں۔

Comments

Popular posts from this blog

کالاباغ ڈیم پر اعتراض کا جواب۔​کالا باغ ڈیم چشمِ دید گواہی اور قومی ضرورت کا پکارتا سچ ​

ایک درخت، کئی نسلوں کی یادیں

ادھا چمچ ہلدئ کے فوائد۔