نکل یہاں سے، یہاں جیپوں والے آتے ہیں۔ تو ٹیکسی میں بیٹھ کر آیا ہے۔ تیری اتنی اوقات ہے کہ یہاں فلیٹ خرید سکے؟"
---روما محمود---
کل سوشل میڈیا پر ایک وڈیو وائرل ہو رہی تھی جس میں
اپر کلاس کا چوکیدار
آئینی ایونیو (Constitution Avenue) کا چوکیدار ایک عام آدمی سے کہتا ہے۔
"نکل یہاں سے، یہاں جیپوں والے آتے ہیں۔ تو ٹیکسی میں بیٹھ کر آیا ہے۔ تیری اتنی اوقات ہے کہ یہاں فلیٹ خرید سکے؟"
یہ جملہ صرف ایک چوکیدار کا نہیں، ہمارے پورے معاشرے کا ہے۔ یہ اس ذہنیت کی آواز ہے جو ہر سطح پر موجود ہے ۔
امیر غریب کا فرق، کلاس کا زہر، اور عزت کی پیمائش صرف پیسے اور گاڑی سے کرنے کا Sickening رجحان۔
یہ واقعہ سن کر حیرت نہیں ہوتی، غصہ آتا ہے۔ ایک چوکیدار، جو خود غریب طبقے سے تعلق رکھتا ہے، ایک دوسرے غریب یا متوسط طبقے کے شخص کو اس لیے جھڑک رہا ہے کہ وہ "ٹیکسي" میں آیا ہے۔
یہ خود کو اس "امیر" جگہ کا حصہ سمجھ کر دوسرے کو نیچا دکھانے کی نفسیات ہے۔
ہمارا معاشرہ اب صرف امیر اور غریب میں نہیں، بلکہ "جیپ والے" اور "ٹیکسي والے" میں تقسیم ہو چکا ہے۔
یہ ذہنیت کہاں سے آئی؟
ہم نے کار، برانڈڈ کپڑے، واچ اور مال میں شاپنگ کو شخصیت کا مترادف بنا لیا ہے۔ اگر آپ کے پاس مہنگی گاڑی نہیں تو آپ "نااہل" ہیں، چاہے آپ کتنے بھی تعلیم یافتہ، محنتی یا نیک دل کیوں نہ ہوں۔
اس مال یا ہوٹل کے اندر نہیں جا سکتا، مگر باہر کھڑا ہو کر "امیروں" کی طرفداری کرتا ہے۔ یہ Stockholm syndrome کی طرح ہے ۔
وہ جس طبقے سے تعلق رکھتا ہے اسی کو حقارت کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔
اشرافیہ کی خاموش رضامندی مال کے مالکان، ہوٹلز اور برانڈز بھی اسی ذہنیت کو فروغ دیتے ہیں۔ ان کے لیے صرف "پیسہ والا" کسٹمر اہم ہے، انسان نہیں۔
یہ واقعہ صرف ایک چوکیدار کا نہیں۔ یہ اسی سوچ کی عکاسی ہے جو شادیوں میں "لڑکی والوں" کو دیکھتے وقت، نوکریوں میں انٹرویو کے دوران، اور حتیٰ کہ ہسپتالوں میں بھی نظر آتی ہے۔ غریب مریض کو موت ، امیر کو VIP ٹریٹمنٹ۔
نتیجہ کیا نکلتا ہے؟
ایک ایسا معاشرہ جہاں لوگ اپنی قدر خود نہیں، دوسروں کی نگاہ سے پرکھتے ہیں۔ جہاں نوجوان اپنی استطاعت سے زیادہ خرچ کر کے "کلاس" دکھانے کی کوشش میں قرض لیتے ہیں۔ جہاں ایک شخص کی عزتِ نفس صرف اس کی جیب پر منحصر ہو جائے۔
حقیقت یہ ہے کہ بہت سے "جیپ والے" بھی اندر سے خالی ہیں۔ جبکہ ٹیکسی والا شخص شاید کوئی سچا انسان ہو، محنتی باپ ہو، یا کوئی تخلیقی ذہن ہو۔ مگر ہماری نظر صرف باہر کی چمک پر ٹکتی ہے۔
ہمیں کیا کرنا چاہیے؟
خود کو سکھائیں انسان کی قدر گاڑی سے نہیں، کردار سے ہوتی ہے۔
ہر سطح پر اس کلاسزم کی مذمت کریں ۔ چاہے وہ چوکیدار کر رہا ہو یا کوئی بڑا آدمی۔
خود بھی سادہ رہیں۔ کبھی کبھی ٹیکسی میں بیٹھ کر بھی بڑے کام کیے جا سکتے ہیں۔
آئینی ایونیو کا چوکیدار شاید ایک دن خود بھی سمجھ جائے گا کہ وہ جس "امیروں" کی طرفداری کر رہا ہے، وہ بھی ایک دن اسے ہی "نکل جا" کہہ کر باہر کر دیں گے۔ کیونکہ اس دنیا میں سب سے بڑا "کلاس" پیسہ نہیں، عزتِ نفس اور انسانیت ہے۔
جب تک ہم اس ذہنیت کو نہ چھوڑیں گے، ہمارا معاشرہ چاہے کتنا بھی مال بنائے، اندر سے غریب ہی رہے گا۔
سوال یہ ہے کیا ہم صرف "جیپ والے"
جانور بننا چاہتے ہیں، یا انسانوں والا معاشرہ؟

Comments