صدیوں کی دانش — وہ روشنی جو کبھی نہیں بجھتی

 


---روما محمود---




انسان کی سب سے بڑی دولت اس کی دانش ہے۔ وہ دانش جو صدیوں کی تہذیب، تجربات، غلطیوں، کامیابیوں اور عقل کے دریائے رواں سے گزر کر ہم تک پہنچی ہے۔

آج جب ہم سوشل میڈیا کی چمکتی ہوئی دنیا میں رہ رہے ہیں، جہاں ہر کوئی "ایکسپرٹ" بن بیٹھا ہے، وہاں صدیوں کی اس پختہ، آزمودہ اور گہری دانش کی قدر کرنا شاید سب سے اہم ذمہ داری ہے۔

صدیوں کی دانش کوئی کتابی علم نہیں، یہ زندگی کی وہ وکیلوں کی دستاویز ہے جو وقت نے خود لکھی ہے۔



ارسطو کی منطق، افلاطون کی مثالیں، ابن سینا کی طب، غزالی کی تصوف، اقبال کی شاعری، گاندھی کی غیرت، محمود کا  صبر، اور ہمارے دادا پڑ دادا  بزرگوں کی حکمت ۔

یہ سب ایک لمبی زنجیر کی کڑیاں ہیں۔ یہ زنجیر ہمیں بتاتی ہے کہ انسان کبھی اکیلا نہیں ہوتا۔ اس کے پیچھے ہزاروں سال کی سوچ، جدوجہد اور بصیرت کھڑی ہے۔

آج کا نوجوان جب "نئی نسل" کا نعرہ لگاتا ہے تو اکثر پرانے علم کو رد کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ جو کچھ بھی "نیا" لگتا ہے، وہ اکثر صدیوں کی دانش کا ہی نیا روپ ہوتا ہے۔

ٹیکنالوجی بدل گئی، سوشل میڈیا آ گیا، مگر انسانی فطرت، جذبات، اخلاقیات، محبت، حسد، خوف، ہمدردی اور خودداری — یہ سب وہی ہیں جو ہزاروں سال پہلے تھے۔ قرآن مجید، بھگوت گیتا، بائبل، تاؤ تے چنگ، یا مولانا جلال الدین رومی کی مثنوی — ان سب میں انسانی دل کی گہرائیوں کو اس طرح چھوا گیا ہے کہ آج بھی انہیں پڑھتے ہوئے لگتا ہے جیسے وہ ہم سے براہ راست بات کر رہے ہوں۔

صدیوں کی دانش ہمیں سکھاتی ہے کہ صبر، توازن، اور اعتدال  زندگی کے سب سے بڑے اصول ہیں۔

آج کی دنیا میں ہر چیز فوری چاہیے ۔

فوری پیسہ، فوری شہرت، فوری خوشی۔

مگر صدیوں کی دانش کہتی ہے۔ "جلدی کا کام شیطان کا ہوتا ہے۔" رومی فرماتے ہیں کہ صبر ہی وہ کلید ہے جو غیب کے دروازے کھولتی ہے۔ ہمارے بزرگوں نے کہا، "حوصلہ رکھو، وقت سب ٹھیک کر دے گا۔

" آج ہم اسے "ٹائم ہیلز" کہتے ہیں، مگر یہ بات تو صدیوں پرانی ہے۔

اس دانش نے ہمیں یہ بھی سکھایا ہے کہ عاجزی انسان کو بلند کرتی ہے۔ جتنے بڑے لوگ تاریخ نے دیکھے، وہ سب اپنی کمزوریوں اور جہالت سے واقف تھے۔

سقراط کا مشہور قول ہے: "میں صرف اتنا جانتا ہوں کہ میں کچھ نہیں جانتا۔" یہ عاجزی ہی تھی جس نے انہیں عظیم بنا دیا۔ آج کا انسان جب تھوڑا سا علم پا لیتا ہے تو سمجھتا ہے کہ وہ سب کچھ جان گیا۔

سوشل میڈیا نے اس خود فریبی کو مزید ہوا دی ہے۔

صدیوں کی دانش ہمیں اخلاقیات کی اہمیت بھی یاد دلاتی ہے۔ علم بغیر اخلاق کے تباہی کا سبب بن سکتا ہے۔ ایٹم بم بنانے والا سائنسدان بھی بہت "عالم" تھا، مگر اخلاقی دانش اس کے پاس کم تھی۔

البرٹ آئن سٹائن نے خود بعد میں کہا تھا کہ کاش انہوں نے کبھی وہ خط صدر ٹرومین کو نہ لکھا ہوتا۔ دانشمند وہی ہے جو طاقت اور علم کو انسانیت کی خدمت میں استعمال کرے۔

آج پاکستان اور پورے جنوبی ایشیا میں نوجوان نسل کو سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ وہ صدیوں کی اس دانش کو رد نہ کر دے۔ مغربی تہذیب کی چکا چوند میں ہم اپنی جڑوں کو بھول نہ جائیں۔ اردو ادب، فارسی حکمت، اسلامی تصوف، ہندوستانی فلسفہ، پنجابی لوک حکمت  یہ سب ہمارا سرمایہ ہیں۔ انہیں پڑھیں، سمجھیں، اور اپنی زندگی میں اتاریں۔

آخر میں یہ کہنا چاہوں گی کہ صدیوں کی دانش کوئی ماضی کا بوجھ نہیں، بلکہ مستقبل کی روشنی ہے۔ جو قوم اپنی تاریخ اور بزرگوں کی دانش سے منہ موڑ لیتی ہے، وہ اندھیرے میں چلتی ہے۔ اور جو اسے اپنا سہارا بناتی ہے، وہ طوفانوں میں بھی سیدھی چلتی ہے۔

ہمیں چاہیے کہ کتابیں پڑھیں، بزرگوں کی باتیں سنیں، غور کریں، اور پھر عمل کریں۔ کیونکہ دانش صرف جاننے کا نام نہیں، جان کر جینے کا نام ہے۔

صدیوں کی دانش — اسے تھام لو، یہ تمہیں کبھی دھوکہ نہیں دے گی۔

Comments

Popular posts from this blog

کالاباغ ڈیم پر اعتراض کا جواب۔​کالا باغ ڈیم چشمِ دید گواہی اور قومی ضرورت کا پکارتا سچ ​

ایک درخت، کئی نسلوں کی یادیں

ادھا چمچ ہلدئ کے فوائد۔