حد سے بڑھی نوازشات شخصیت کی تعمیر یا تخریب؟
--- روما محمود---
انسانی تعلقات کی بنیاد توازن اور اعتدال پر قائم ہے۔ جب بھی کسی رشتے، چاہے وہ اولاد ہو، ماتحت ہو یا کوئی عزیز، میں محبت اور توجہ کا پلڑا ضرورت سے زیادہ جھک جائے، تو وہ 'توجہ' رفتہ رفتہ 'سر پر چڑھانے' کی صورت اختیار کر لیتی ہے۔ معاشرتی زبان میں "سر پر چڑھانا" اس طرزِ عمل کو کہا جاتا ہے جہاں بے جا لاڈ پیار اور غلطیوں سے چشم پوشی کسی فرد کے مزاج میں خود سری اور انا پرستی پیدا کر دے۔
محبت اور بے جا چھوٹ میں فرق
محبت کا تقاضا یہ ہے کہ انسان کی اخلاقی اور نفسیاتی نشوونما کی جائے، لیکن جب ہم کسی کی ہر جائز و ناجائز ضد پوری کرنے لگتے ہیں اور اس کی بدتمیزی کو 'بچپنا' یا 'اعتماد' کا نام دے کر نظر انداز کرتے ہیں، تو ہم درحقیقت اس کی شخصیت کی بنیادیں کھوکھلی کر رہے ہوتے ہیں۔ نفسیات دانوں کے مطابق، جن افراد کو حد سے زیادہ رعایتیں ملتی ہیں، وہ عملی زندگی کی تلخیوں اور ناکامیوں کو برداشت کرنے کے قابل نہیں رہتے۔
جب کوئی فرد "سر پر چڑھ" جاتا ہے، تو اس کے اندر سے دوسروں کا احترام اور سماجی حدود کا احساس ختم ہو جاتا ہے۔ ایسا شخص سمجھتا ہے کہ وہ قانون اور اخلاقیات سے بالاتر ہے کیونکہ اسے کبھی 'نا' سننے کی عادت نہیں ڈالی گئی۔
*ایسے بچے بڑے ہو کر والدین کے ہی نافرمان بن جاتے ہیں کیونکہ انہیں احساسِ برتری کی لت لگ چکی ہوتی ہے۔
اگر کوئی افسر اپنے کسی ماتحت کو حد سے زیادہ رعایت دے، تو وہ نہ صرف کام چور ہو جاتا ہے بلکہ باقی عملے کے لیے بھی ذہنی کوفت کا باعث بنتا ہے۔
کسی کو سر پر چڑھانا دراصل اس کے ساتھ دشمنی کرنے کے مترادف ہے۔ معاشرے کی بہتری اسی میں ہے کہ پیار کے ساتھ ساتھ 'تادیب' کا عنصر بھی برقرار رکھا جائے۔
ہر رشتے میں واضح حدود ہونی چاہئیں کہ کہاں تک رعایت دی جا سکتی ہے اور کہاں ٹوکنا ضروری ہے۔
غلطی کو چھپانا اسے شہہ دینے کے برابر ہے۔ بروقت اصلاح ہی شخصیت کو بگاڑ سے بچاتی ہے۔
لوگوں کو ان کی ذمہ داریوں کا احساس دلانا ضروری ہے تاکہ وہ دوسروں کے کندھوں پر سوار ہونے کے بجائے اپنے پیروں پر کھڑے ہوں۔
نرمی ایک بہترین صفت ہے، لیکن اسے کمزوری نہیں بننا چاہیے۔ کسی کو اتنا پیار ضرور دیں کہ اسے تحفظ کا احساس ہو، لیکن اتنی چھوٹ ہرگز نہ دیں کہ وہ دوسروں کے حقوق پامال کرنے لگے۔ توازن ہی وہ واحد راستہ ہے جو محبت کو احترام کے دائرے میں رکھتا ہے۔
سر پر چڑھانے کا پاکستانی مرض
پاکستانی معاشرے میں ایک بہت مشہور جملہ ہے: "اسے سر پر چڑھا رکھا ہے"۔ چاہے بات کسی بچے کی ہو، بیوی کی، شوہر کی، یا پھر کسی سیاستدان، کرکٹر، مذہبی شخصیت یا سوشل میڈیا سٹار کی۔ ہم لوگ کسی کو بھی سر پر چڑھانے میں ماہر ہیں۔ بس تھوڑی سی تعریف، تھوڑا سا لاڈ، اور پھر وہ شخص (یا بات) ہمارے سر پر سوار ہو جاتی ہے۔
گھروں میں یہ مرض سب سے زیادہ نظر آتا ہے۔ ایک بیٹا پیدا ہوتے ہی گھر کا بادشاہ بن جاتا ہے۔ ماں باپ، بہنیں، چاچی، پھپھی سب اس کے گرد گھومنے لگتے ہیں۔ "بیٹا کچھ نہ کرے تو بھی ٹھیک ہے، تھک جائے گا"، "بیٹا رو رہا ہے تو اسے جو چاہیے دے دو"۔ نتیجہ؟ ایک ایسا نوجوان جو زندگی کی کوئی ذمہ داری برداشت کرنے کو تیار نہیں، تنقید سننے کو بالکل تیار نہیں، اور ناکامی کو اپنی غلطی ماننے کے بجائے "لوگوں کی سازش" قرار دیتا ہے۔
بیٹیوں کے ساتھ بھی کبھی کبھی یہی ہوتا ہے، خاص طور پر اگر وہ اکلوتی ہوں۔ لیکن بیٹی کو سر پر چڑھانے کا انداز مختلف ہوتا ہے۔ اسے "شہزادی" بنا دیا جاتا ہے۔ شادی کے بعد جب سسرال میں یہ "شہزادی" اپنے حقوق مانگنے لگتی ہے تو گھر کا ماحول بگڑ جاتا ہے۔ دونوں طرف کے والدین اپنی اولاد کو سر پر چڑھا کر دوسری طرف کی عزت نفس کو مجروح کر دیتے ہیں۔
معاشرتی سطح پر دیکھیں تو ہمارا سیاسی و سماجی منظر نامہ اسی "سر پر چڑھانے" کی مثالوں سے بھرا پڑا ہے۔ ایک لیڈر اچھی تقریر کر دے تو ہم اسے "قائد اعظم دوم" بنا دیتے ہیں۔ ایک کرکٹر دو میچ اچھے کھیل لے تو ٹرینڈ چل پڑتا ہے "اسے کیپٹن بنا دو"۔ ایک مذہبی اسکالر ایک اچھا بیان دے دے تو لوگ اس کے پیچھے اندھا دھند ہو جاتے ہیں۔ تھوڑی سی ناکامی یا ایک غلطی پر وہی لوگ اسے گالیاں دینے لگتے ہیں۔ ہمارا پیار بھی شدت والا ہوتا ہے اور نفرت بھی۔ درمیانہ راستہ بہت کم ملتا ہے۔
سوشل میڈیا نے تو اس مرض کو مزید ہوا دے دی ہے۔ ایک لڑکا یا لڑکی خوبصورت ویڈیو ڈال دے تو کمنٹس میں "ماں"، "بابا"، "شہزادی"، "کنگ" کے ترانے گانے لگتے ہیں۔ لوگ ایک دوسرے کو سر پر چڑھانے میں مقابلہ کرتے ہیں۔ حقیقت میں وہ شخص شاید گھر میں برتن بھی نہ دھوتا ہو، لیکن آن لائن وہ "رول ماڈل" بن جاتا ہے۔
اس ثقافت کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ ہماری نئی نسل ذمہ دار، صابر اور حقیقت پسند بننے کے بجائے entitlement کی شکار ہو رہی ہے۔ جب سر پر چڑھا ہوا شخص دنیا کے سامنے آتا ہے تو اسے لگتا ہے پوری دنیا اس کے ساتھ ناانصافی کر رہی ہے۔ نتیجہ ڈپریشن، خاندانی جھگڑے، سماجی انتشار اور قومی سطح پر ناکامی۔
وقت آ گیا ہے کہ ہم "پیار" اور "سر پر چڑھانے" میں فرق کریں۔
محبت کرنی چاہیے، لاڈ بھی کرنا چاہیے، لیکن حد میں۔ بچوں کو ذمہ داری سکھائیں، غلطی پر ٹوکا جائے، کامیابی پر تعریف ہو لیکن ناکامی پر طعنے نہ دیے جائیں۔ رشتوں میں توازن رکھیں۔ لیڈروں اور سٹارز کو بھی انسان ہی سمجھیں، دیوتا نہ بنائیں۔
اگر ہم نے یہ مرض نہ چھوڑا تو ایک دن یہ مرض ہی ہم سب کو سر پر چڑھا کر لے جائے گا۔
جو شخص تمہارے سر پر سوار ہے، وہ تمہارے کندھوں پر بھی بوجھ بن سکتا ہے۔ احتیاط سے اٹھاؤ۔

Comments