ناخن, خوبصورتی کا آئینہ اور صحت کا اشارہ

 




---روما محمود---





انسانی جسم کا ہر حصہ اپنی ساخت اور افعال کے اعتبار سے قدرت کا شاہکار ہے، اور ناخن بھی ان میں سے ایک ہیں۔

ناخن دراصل جلد کی ہی ایک تبدیل شدہ شکل ہیں جو انگلیوں کے پوروں کی حفاظت اور باریک کاموں میں مدد دیتے ہیں۔




​ناخنوں کی بنیادی ساخت (Structure)
​ناخن صرف ایک سخت تہہ کا نام نہیں، بلکہ یہ کئی حصوں پر مشتمل ہوتے ہیں.

ناخن کی جڑ (Nail Root): یہ ناخن کا وہ حصہ ہے جو جلد کے اندر چھپا ہوتا ہے اور یہیں سے ناخن کے بننے کا عمل شروع ہوتا ہے۔

میٹرکس (Matrix): یہ ناخن کے نیچے موجود خلیات کا وہ مجموعہ ہے جہاں نئے خلیات پیدا ہوتے ہیں۔ یہ حصہ خون کی نالیوں سے بھرپور ہوتا ہے جو ناخن کو غذائیت فراہم کرتا ہے۔

ناخن کی پلیٹ (Nail Plate): یہ وہ سخت اور نظر آنے والا حصہ ہے جسے ہم عام طور پر ناخن کہتے ہیں۔ یہ مردہ خلیات اور پروٹین سے بنا ہوتا ہے۔

کیوٹیکل (Cuticle): ناخن کے نچلے حصے پر موجود باریک جلد جو ناخن اور میٹرکس کو جراثیموں سے بچاتی ہے۔

​ناخن کیسے بنتے ہیں؟ (The Biological Process)
​ناخنوں کے بننے کا عمل ایک خاص پروٹین کے مرہونِ منت ہے جسے کیراٹن (Keratin) کہا جاتا ہے۔ یہی پروٹین ہمارے بالوں اور جلد کی اوپری تہہ میں بھی پایا جاتا ہے۔

خلیات کی پیدائش: ناخن کے میٹرکس میں مسلسل نئے خلیات بنتے رہتے ہیں۔ جیسے ہی نئے خلیات پیدا ہوتے ہیں، وہ پرانے خلیات کو آگے کی طرف دھکیلتے ہیں۔

سخت ہونے کا عمل (Keratinization): جب پرانے خلیات آگے بڑھتے ہیں، تو وہ آہستہ آہستہ چپٹے اور سخت ہونے لگتے ہیں۔ اس عمل میں ان خلیات کے اندر کیراٹن نامی پروٹین بھر جاتا ہے اور وہ اپنی زندگی کھو دیتے ہیں (یعنی مردہ خلیات بن جاتے ہیں)۔

ظہور: یہی سخت اور چپٹے مردہ خلیات مل کر "ناخن کی پلیٹ" بناتے ہیں جو ہمیں انگلی کے اوپر نظر آتی ہے۔ چونکہ یہ خلیات مردہ ہوتے ہیں، اسی لیے ناخن کاٹتے وقت ہمیں درد محسوس نہیں ہوتا۔

ہاتھوں کے ناخن پاؤں کے ناخنوں کی نسبت زیادہ تیزی سے بڑھتے ہیں۔

اوسطاً ہاتھوں کے ناخن ایک ماہ میں تقریباً 3 ملی میٹر تک بڑھتے ہیں، جبکہ پاؤں کے ناخنوں کو اتنا ہی بڑھنے میں دو سے تین گنا زیادہ وقت لگتا ہے۔

موسمِ گرما میں اور دن کے وقت ناخنوں کے بڑھنے کی رفتار موسمِ سرما اور رات کے مقابلے میں قدرے تیز ہوتی ہے۔

​ناخن نہ صرف انگلیوں کے حساس پوروں کو چوٹ سے بچاتے ہیں، بلکہ یہ کسی چیز کو پکڑنے، کھجانے اور باریک اشیاء کے ساتھ کام کرنے میں بھی معاون ثابت ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ ناخنوں کی رنگت اور ساخت انسانی صحت کی اندرونی کیفیت (جیسے خون کی کمی یا جگر کے امراض) کی عکاسی بھی کرتی ہے۔

ناخن صرف ہاتھوں اور پاؤں کی سجاوٹ نہیں، بلکہ ہماری مجموعی صحت کا ایک اہم آئینہ ہیں۔ عورت ہو یا مرد، ہر کوئی اپنے ناخنوں کو خوبصورت اور صحت مند رکھنا چاہتا ہے۔ مگر کیا آپ جانتے ہیں کہ ناخن آپ کے جسم کی اندرونی کہانی بھی سناتے ہیں؟

آج کل کی مصروف زندگی میں ہم اکثر ناخنوں کی طرف توجہ نہیں دیتے۔ ہاتھوں میں کی بورڈ تھپکتے، کچن میں کام کرتے یا فون ہینڈل کرتے ہوئے ناخن ٹوٹتے، پھٹتے یا پیلے پڑتے رہتے ہیں۔ مگر ماہرین صحت کہتے ہیں کہ ناخنوں کی شکل، رنگ اور حالت سے کئی بیماریوں کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ مثال کے طور پر
پیلے ناخن فنگل انفیکشن، تمباکو نوشی یا پھیپھڑوں کی کسی خرابی کی نشاندہی کر سکتے ہیں۔
سفید دھبے عام طور پر زنک یا کیلشیم کی کمی کی وجہ سے ہوتے ہیں، البتہ بعض لوگ انہیں "چاند" سمجھ کر خوش قسمت سمجھتے ہیں۔
ناخن کا ٹیڑھا یا گول ہونا آئرن کی کمی (انیمیا) کی طرف اشارہ کرتا ہے۔
ناخنوں میں عمودی لکیریں عمر بڑھنے کے ساتھ عام ہیں، مگر اچانک بہت زیادہ ہوں تو پانی کی کمی ہو سکتی ہے۔

ناخنوں کی دیکھ بھال کوئی مشکل کام نہیں۔ چند آسان ٹپس۔

ہاتھ دھوتے وقت ناخنوں کے نیچے برش سے صاف کریں۔

ناخن کو سیدھا کاٹیں، کونوں کو ہلکا گول کریں تاکہ اندر اُگنے سے بچیں۔

مسلسل پالش لگانے سے ناخن کمزور ہوتے ہیں۔ ہفتے میں کم از کم دو دن "بریتھنگ ٹائم" دیں۔

پروٹین، بائیوٹن، وٹامن ای، کیلشیم اور زنک سے بھرپور غذا (انڈے، بادام، دودھ، پالک، مچھلی) ناخنوں کو مضبوط بناتی ہے۔

ہفتے میں ایک بار گرم پانی میں نمک ملا کر ناخن ڈبوئیں، یہ قدرتی اینٹی سیپٹک ہے۔

قدیم مصر میں کلیopatra اپنے ناخنوں کو خوبصورت رکھنے کے لیے قدرتی حنا اور تیل استعمال کرتی تھیں۔ آج بھی ناخن آرٹ (Nail Art) ایک بڑا انڈسٹری ہے۔ کچھ لوگوں کے ناخن اتنا تیزی سے بڑھتے ہیں کہ مہینے میں تین سے چار ملی میٹر اضافہ ہو جاتا ہے۔

مگر سب سے اہم بات یہ ہے کہ خوبصورت ناخن وہ نہیں جو صرف پالش سے چمکتے ہوں، بلکہ وہ جو صحت مند ہوں۔ اگلے مرتبہ جب آئینے میں دیکھیں تو صرف چہرہ نہ دیکھیں، اپنے ناخنوں کو بھی دیکھیں۔ وہ آپ کو بتا رہے ہوتے ہیں کہ آپ کی صحت کیسے چل رہی ہے۔
ناخنوں کی دیکھ بھال کریں، خود کی دیکھ بھال کریں۔

Comments

Popular posts from this blog

کالاباغ ڈیم پر اعتراض کا جواب۔​کالا باغ ڈیم چشمِ دید گواہی اور قومی ضرورت کا پکارتا سچ ​

ایک درخت، کئی نسلوں کی یادیں

ادھا چمچ ہلدئ کے فوائد۔