ہتکِ عزت, معاشرتی رویے، قانونی حدود اور اخلاقی پستی.

 



---روما محمود---




انسانی معاشرے کی بنیاد باہمی احترام، اعتماد اور عزت پر کھڑی ہوتی ہے۔ کسی بھی فرد کے لیے اس کی جائیداد، مال و دولت اور عہدے سے بڑھ کر جو چیز سب سے زیادہ قیمتی ہوتی ہے، وہ اس کی "عزتِ نفس" اور معاشرے میں اس کا "تشخص" ہے۔

لیکن افسوسناک صورتحال یہ ہے کہ آج کے دور میں، بالخصوص سوشل میڈیا کے سیلاب کے بعد، کسی کی پگڑی اچھالنا، جھوٹے الزامات لگانا اور کردار کشی کرنا ایک عمومی مشغلہ بن چکا ہے۔



ہتکِ عزت (Defamation) صرف ایک قانونی اصطلاح نہیں ہے، بلکہ یہ ایک نفسیاتی قتل ہے جو جیتے جاگتے انسان کو معاشرتی طور پر مفلوج کر دیتا ہے۔

ہتکِ عزت کیا ہے؟


قانونی اور لغوی اعتبار سے ہتکِ عزت سے مراد کسی شخص کے خلاف ایسی گفتگو کرنا، تحریر شائع کرنا یا اشاروں کنایوں میں ایسی بات کرنا ہے جس سے اس کی ساکھ کو نقصان پہنچے، اسے عوام کی نظروں میں حقیر بنایا جائے یا اس کے کاروبار اور پیشہ ورانہ زندگی پر منفی اثرات مرتب ہوں۔

ہتکِ عزت کی دو بنیادی اقسام ہیں۔

زبان زدِ عام (Slander)۔

وہ توہین آمیز جملے جو زبانی کہے جائیں اور جن کا کوئی مستقل ریکارڈ نہ ہو۔

تحریری یا مستقل (Libel)
وہ توہین آمیز مواد جو تحریر، تصویر، ویڈیو یا سوشل میڈیا پوسٹ کی صورت میں موجود ہو اور جسے بار بار دیکھا یا پڑھا جا سکے۔

معاشرتی رویے اور 'اظہارِ رائے کی آزادی' کا غلط استعمال

ہمارے معاشرے میں ایک بہت بڑی غلط فہمی "اظہارِ رائے کی آزادی" (Freedom of Speech) کو لے کر پائی جاتی ہے۔

دستورِ پاکستان کا آرٹیکل 19 شہریوں کو اظہارِ رائے کی آزادی دیتا ہے، لیکن ساتھ ہی یہ واضح کرتا ہے کہ یہ آزادی
"قانون کی طرف سے عائد کردہ معقول پابندیوں" کے تابع ہے۔

کسی کی نجی زندگی میں جھانکنا، اس پر بغیر ثبوت کے الزامات لگانا یا کسی کی تذلیل کرنا "آزادی" نہیں بلکہ "اخلاقی بے راہ روی" ہے۔ آج کل واٹس ایپ گروپس، فیس بک اور ٹویٹر (X) پر کسی بھی تصدیق کے بغیر خبریں پھیلانا ایک دوڑ بن چکا ہے۔ لوگ یہ بھول جاتے ہیں کہ

"ایک جھوٹ پوری دنیا کا چکر لگا لیتا ہے جبکہ سچ ابھی اپنے جوتے کے تسمے باندھ رہا ہوتا ہے۔"

جب کسی معزز شہری پر جھوٹا الزام لگایا جاتا ہے، تو اس کا نقصان صرف اس کی ذات تک محدود نہیں رہتا۔

کردار کشی سے نہ صرف وہ فرد بلکہ اس کے والدین، شریکِ حیات اور بچے بھی شدید ذہنی کرب سے گزرتے ہیں۔

اگر کسی کاروباری شخصیت یا پیشہ ور فرد (ڈاکٹر، وکیل، استاد) پر ہتک آمیز الزامات لگائے جائیں، تو لوگ ان سے لین دین ختم کر دیتے ہیں، جس سے برسوں کی محنت سے بنایا گیا کیریئر لمحوں میں راکھ ہو جاتا ہے۔

ہتکِ عزت کا شکار ہونے والے افراد اکثر ڈپریشن، تنہائی اور بعض اوقات خودکشی جیسے انتہائی اقدامات کی طرف مائل ہو جاتے ہیں۔

پاکستان میں ہتکِ عزت کا قانون ہے  ایک جائزہ لیتے ہیں۔

پاکستان میں ہتکِ عزت سے نمٹنے کے لیے بنیادی طور پر دو طرح کے قوانین موجود ہیں۔

1. ہتکِ عزت آرڈیننس 2002 (سول قانون)
یہ قانون متاثرہ فریق کو یہ حق دیتا ہے کہ وہ توہین کرنے والے شخص کے خلاف عدالت میں ہرجانے کا دعویٰ دائر کرے۔ اس کا مقصد سزا دینا نہیں بلکہ متاثرہ شخص کو ہونے والے نقصان کا مالی ازالہ کرنا اور اس کی ساکھ بحال کرنا ہے۔

2. تعزیراتِ پاکستان (دفعه 499 اور 500)

اگر ہتکِ عزت مجرمانہ نوعیت کی ہو، تو اس کے تحت دو سال تک قید یا جرمانہ یا دونوں سزائیں دی جا سکتی ہیں۔

3. پیکا (PECA) اور ڈیجیٹل دور کے چیلنجز
سوشل میڈیا پر ہونے والی ہتکِ عزت کے لیے پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ (PECA) 2016 نافذ کیا گیا، جس کے تحت ایف آئی اے (FIA) کا سائبر کرائم ونگ کارروائی کرتا ہے۔ حال ہی میں پنجاب حکومت کی جانب سے "پنجاب ڈیفیمیشن بل 2024" بھی پیش کیا گیا، جس پر صحافتی تنظیموں اور سول سوسائٹی کی جانب سے بحث جاری ہے کہ آیا یہ قانون تحفظ کے لیے ہے یا آواز دبانے کے لیے۔

تنقید اور ہتکِ عزت میں فرق
جمہوری معاشرے میں عوامی شخصیات (سیاستدان، حکمران، بیوروکریٹس) پر تنقید کرنا عوام کا حق ہے۔ لیکن تنقید "تعمیری" ہونی چاہیے نہ کہ "تخریبی"۔

کسی کے کام، کارکردگی یا پالیسی پر اعتراض کرنا۔

کسی کی ذات، خاندان یا ذاتی کردار پر کیچڑ اچھالنا۔

اگر کوئی صحافی کسی وزیر کی کرپشن کے خلاف ثبوتوں کے ساتھ لکھتا ہے، تو یہ عوامی مفاد ہے، ہتکِ عزت نہیں۔ لیکن اگر وہ کسی ثبوت کے بغیر اس کی نجی زندگی کے بارے میں افواہیں پھیلاتا ہے، تو یہ جرم ہے۔

اسلام اور عزتِ نفس کی حفاظت
دینِ اسلام میں مسلمان کی عزت کو حرمتِ کعبہ سے بھی زیادہ مقدم قرار دیا گیا ہے۔ خطبہ حجۃ الوداع کے موقع پر نبی کریم ﷺ نے واضح فرمایا۔

"تمہارے خون، تمہارے مال اور تمہاری عزتیں ایک دوسرے پر اسی طرح حرام ہیں جیسے تمہارے اس شہر میں، اس مہینے میں اور آج کے دن کی حرمت ہے۔"

قرآنِ کریم میں غیبت، بدگمانی اور ایک دوسرے کو برے ناموں سے پکارنے سے سختی سے منع کیا گیا ہے۔ اسلام ہمیں سکھاتا ہے کہ اگر کسی کی برائی سامنے آئے تو اسے چھپایا جائے، نہ کہ اسے اشتہار بنا کر پیش کیا جائے۔

عدالتی نظام اور انصاف میں تاخیر
پاکستان میں ہتکِ عزت کے قوانین موجود تو ہیں، لیکن ان پر عملدرآمد کی شرح انتہائی کم ہے۔ ہرجانے کے کیسز سالہا سال عدالتوں میں لٹکے رہتے ہیں۔ اکثر اوقات "انصاف میں تاخیر، انصاف کا قتل" ثابت ہوتی ہے۔

جب تک عدالت کا فیصلہ آتا ہے، تب تک ملزم اپنی بدزبانی سے فریقِ مخالف کی ساکھ مکمل طور پر تباہ کر چکا ہوتا ہے۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ ہتکِ عزت کے مقدمات کے لیے "فاسٹ ٹریک" عدالتیں ہوں جو 90 دنوں کے اندر فیصلہ سنانے کی پابند ہوں۔

ہم بطور معاشرہ کیا کر سکتے ہیں؟

صرف قوانین بنانا کافی نہیں، ہمیں اپنی اخلاقی سمت درست کرنی ہوگی۔

کسی بھی خبر کو شیئر کرنے سے پہلے اس کی تصدیق کریں۔ (قرآن: "اے ایمان والو! اگر کوئی فاسق تمہارے پاس خبر لائے تو اس کی تحقیق کر لیا کرو"۔)

ہم کسی کے نظریات سے اختلاف کر سکتے ہیں، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم اس کی ذات پر حملہ کریں۔

تعلیمی اداروں میں "ڈیجیٹل اخلاقیات" کا مضمون پڑھایا جانا چاہیے تاکہ نئی نسل کو معلوم ہو کہ کی بورڈ کے پیچھے بیٹھ کر کسی کی زندگی برباد کرنا بہادری نہیں، جرم ہے۔

عزت ایک شیشے کے گھر کی مانند ہے، جس پر لگا ایک چھوٹا سا پتھر بھی اسے چکنا چور کر سکتا ہے۔ ہتکِ عزت کے بڑھتے ہوئے رجحانات ہمارے معاشرے کے اخلاقی دیوالیہ پن کی نشانی ہیں۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ زبان سے نکلے ہوئے الفاظ اور کمان سے نکلا ہوا تیر کبھی واپس نہیں آتے۔

ایک مہذب معاشرہ وہی ہے جہاں ہر فرد کی عزتِ نفس اتنی ہی محفوظ ہو جتنی کہ خود اس کی اپنی۔ اگر ہم نے آج کردار کشی کے اس طوفان کو نہ روکا، تو کل اس کی زد میں کوئی بھی آ سکتا ہے۔ یاد رکھیے، "عزت دیں گے تو عزت ملے گی۔"

Comments

Popular posts from this blog

کالاباغ ڈیم پر اعتراض کا جواب۔​کالا باغ ڈیم چشمِ دید گواہی اور قومی ضرورت کا پکارتا سچ ​

ایک درخت، کئی نسلوں کی یادیں

ادھا چمچ ہلدئ کے فوائد۔