خدا واسطے کا بیر جب نفرت بلا مقصد ہو جائے ---
---روما محمود---
اردو ادب اور معاشرتی رویوں میں "خدا واسطے کا بیر" ایک ایسی اصطلاح ہے جو انسانی نفسیات کے ایک تاریک پہلو کی عکاسی کرتی ہے۔ اس کا مطلب ہے کسی سے بلاوجہ، بلا مقصد اور بغیر کسی ذاتی دشمنی یا نقصان کے نفرت کرنا۔
انسانی تعلقات کی بنیاد عموماً لین دین، مفادات یا نظریاتی ہم آہنگی پر ہوتی ہے۔
اگر کہیں اختلاف پیدا ہو جائے تو اس کی کوئی نہ کوئی ٹھوس وجہ ہوتی ہےکسی نے حق مارا ہوتا ہے، کسی کی زبان نے دل دکھایا ہوتا ہے یا پھر مفادات کا ٹکراؤ دشمنی کی دیوار کھڑی کر دیتا ہے۔ لیکن ہمارے معاشرے میں ایک عجیب و غریب رویہ پایا جاتا ہے جسے محاورے کی زبان میں "خدا واسطے کا بیر" کہا جاتا ہے۔
یہ وہ نفرت ہے جس کی نہ کوئی ابتدا ہے، نہ کوئی منطق اور نہ ہی کوئی انجام۔
خدا واسطے کا بیر دراصل ایک ایسی نفسیاتی کیفیت ہے جہاں انسان کسی دوسرے کی شخصیت، اس کی کامیابی، اس کے بولنے کے انداز یا محض اس کے وجود سے چڑنے لگتا ہے۔
آپ نے اکثر لوگوں کو کہتے سنا ہوگا۔ "پتا نہیں کیوں، لیکن یہ بندہ مجھے ایک آنکھ نہیں بھاتا۔" جب آپ ان سے پوچھیں کہ کیا اس نے آپ کا کچھ بگاڑا ہے؟ تو جواب ملتا ہے۔
"نہیں، بس ویسے ہی!" یہی "ویسے ہی" وہ خطرناک موڑ ہے جہاں سے بلاوجہ کی دشمنی جنم لیتی ہے۔
اس بے مقصد دشمنی کی سب سے بڑی وجہ "حسد" اور "کم تری کا احساس" ہے۔
جب کوئی شخص کسی دوسرے میں وہ خوبیاں دیکھتا ہے جو اس کی اپنی ذات میں موجود نہیں ہوتیں، تو وہ ان خوبیوں کا اعتراف کرنے کے بجائے اس شخص سے نفرت شروع کر دیتا ہے۔
یہ نفرت درحقیقت اس کی اپنی محرومیوں کا عکس ہوتی ہے۔
جدید دور میں سوشل میڈیا نے اس "خدا واسطے کے بیر" کو ایک نئی جلا بخشی ہے۔ کسی کی ایک تصویر، ایک جملہ یا ایک کامیابی کی خبر پر ہزاروں لوگ ٹوٹ پڑتے ہیں۔
تبصروں میں زہر گھولا جاتا ہے اور کردار کشی کی جاتی ہے۔ ان میں سے اکثر لوگ اس شخصیت کو جانتے تک نہیں، لیکن ان کا قلم اور کی بورڈ نفرت اگلنے میں مصروف رہتا ہے۔
یہ "ڈیجیٹل بیر" ثابت کرتا ہے کہ ہم ایک ایسے ہجوم میں تبدیل ہو رہے ہیں جو بغیر سوچے سمجھے کسی کو بھی سنگسار کرنے کے لیے تیار رہتا ہے۔
حقیقت تو یہ ہے کہ بیر یا دشمنی کے لیے بھی کوئی اصول ہونا چاہیے۔ اگر محبت کے لیے دلیل کی ضرورت نہیں، تو نفرت کے لیے تو کم از کم کوئی جواز ہونا چاہیے۔
بلاوجہ کی دشمنی انسان کے اپنے اعصاب کو تھکا دیتی ہے۔ آپ جس سے "خدا واسطے کا بیر" رکھتے ہیں، وہ شاید اپنی زندگی سکون سے گزار رہا ہوتا ہے، لیکن اس کی یاد اور اس سے جڑی نفرت آپ کے اپنے خون کو جلاتی رہتی ہے۔
ہمیں سوچنا ہوگا کہ ہماری زندگی اتنی طویل نہیں ہے کہ ہم اسے بلاوجہ کے بغض اور کینے کی نذر کر دیں۔
خدا نے دل محبت کے لیے بنائے تھے، اسے "خدا واسطے کے بیر" کا قبرستان نہ بنائیں۔ کسی کو پسند کرنا آپ کا حق ہے، لیکن کسی سے بلاوجہ نفرت کرنا آپ کی اپنی شخصیت کے کھوکھلے پن کی دلیل ہے۔
اگر ہم کسی کے لیے دل میں جگہ نہیں بنا سکتے، تو کم از کم دشمنی کے لیے بھی کوئی "جائز" وجہ تلاش کریں۔ ورنہ یہ بلاوجہ کی نفرت ہمیں ایک ایسی تاریکی میں لے جائے گی جہاں سے واپسی کا راستہ صرف پچھتاوا ہی ہوگا۔

Comments