فی سبیل اللہ: محض خیرات نہیں، ایک طرزِ حیاتہر کام فی سبیل اللہ کیا ہو سکتا ہے ؟۔

 


---روما محمود---



فی سبیل اللہ ، یہ صرف دو الفاظ نہیں، بلکہ ایک مکمل زندگی کا نصب العین ہے۔

اردو زبان کا یہ خوبصورت اور جامع جملہ "فی سبیل اللہ"، جس کے معنی ہیں "اللہ کی راہ میں"، ہمارے معاشرے میں اس قدر عام ہے کہ اکثر ہم اس کی گہرائی اور حقیقی روح کو فراموش کر دیتے ہیں۔ عام طور پر جب یہ لفظ بولا جاتا ہے، تو ذہن فوراً کسی فقیر کو دیے گئے چند سکوں یا کسی مدرسے کے عطیے کی طرف جاتا ہے۔ لیکن کیا "فی سبیل اللہ" کا مفہوم صرف مال کے اخراج سے جڑا ہے؟

​حقیقت یہ ہے کہ "فی سبیل اللہ" ایک وسیع فلسفہ ہے جو انسانی زندگی کے ہر شعبے پر محیط ہے۔


 یہ وہ راستہ ہے جس پر چلنے والا انسان دنیا کی ہر تنگ دستی، ہر مصیبت اور ہر لالچ سے بالاتر ہو جاتا ہے۔ اللہ کی راہ میں خرچ کرنا، جدوجہد کرنا، علم حاصل کرنا، نیکی پھیلانا، ظلم کے خلاف کھڑا ہونا، اور سب سے بڑھ کر اپنی جان اور مال کو اللہ کے لیے وقف کر دینا ۔ یہ سب "فی سبیل اللہ" کے دائرے میں آتا ہے۔



آج کے دور میں جب مادی پرستش عروج پر ہے، لوگ پیسے، عزت اور آرام کے پیچھے بھاگ رہے ہیں، تو "فی سبیل اللہ" کی یاد دلاتی ہے کہ اصل کامیابی وہ نہیں جو بینک بیلنس میں نظر آئے، بلکہ وہ جو اللہ کی رضا میں ہو۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "جو شخص اللہ کی راہ میں نکلے، اللہ اس کے لیے جنت کو واجب کر دیتا ہے۔"


فی سبیل اللہ صرف میدان جنگ کا نام نہیں۔


ایک طالب علم جو رات دن علم حاصل کرتا ہے تاکہ امت کی خدمت کر سکے، وہ بھی فی سبیل اللہ ہے۔


ایک ماں جو اپنے بچوں کی تربیت اسلامی خطوط پر کرتی ہے، وہ فی سبیل اللہ ہے۔


ایک شخص جو اپنا کاروبار حلال رکھنے کے لیے نقصان برداشت کرتا ہے، وہ فی سبیل اللہ ہے۔


ایک نوجوان جو فحاشی اور گناہ کے سیلاب میں اپنی پاکیزگی بچاتا ہے، وہ بھی فی سبیل اللہ ہے۔


صرف پیسہ ہی فی سبیل اللہ نہیں ہوتا۔ اگر ایک ڈاکٹر کسی غریب کا مفت علاج کرتا ہے، ایک استاد کسی یتیم بچے کو بلا معاوضہ پڑھاتا ہے، یا ایک بااثر شخص کسی مظلوم کو انصاف دلانے کے لیے اپنا وقت دیتا ہے، تو یہ سب "فی سبیل اللہ" کے دائرے میں آتا ہے۔ اپنی بہترین صلاحیتوں کو انسانیت کی فلاح کے لیے وقف کر دینا دراصل خالق سے محبت کا ثبوت ہے۔

اخلاق اور رویوں میں فی سبیل اللہ اختیار کریں۔

​کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ کسی سے مسکرا کر ملنا، کسی تلخ بات پر صبر کر لینا یا کسی کے لیے اپنے دل سے کینہ نکال دینا بھی فی سبیل اللہ ہو سکتا ہے؟ جب ہم محض اللہ کی خوشنودی کے لیے اپنے نفس کی انا کو قربان کرتے ہیں، تو ہمارا ہر قدم عبادت بن جاتا ہے۔


اللہ تعالیٰ قرآن میں فرماتے ہیں: "جو لوگ اللہ کی راہ میں مال خرچ کرتے ہیں، ان کی مثال ایسی ہے جیسے ایک دانہ اگے جس میں سات بالیاں ہوں اور ہر بالیاں میں سو دانے" (سورۂ البقرہ: 261)۔


یہ وہ سرمایہ کاری ہے جس کا منافع کبھی ختم نہیں ہوتا۔ دنیا کی ہر چیز فانی ہے، لیکن فی سبیل اللہ کیا ہوا خرچ، اللہ کے ہاں محفوظ رہتا ہے۔

 آج ہمیں خود سے پوچھنا چاہیے

کیا ہماری زندگی کا کوئی حصہ واقعی فی سبیل اللہ ہے؟


کیا ہم اپنا وقت، پیسہ، صلاحیت اور توانائی اللہ کی راہ میں لگاتے ہیں؟


جو شخص فی سبیل اللہ چل پڑتا ہے، اللہ اس کے لیے راستے آسان کر دیتا ہے، اس کے دل کو سکون عطا فرماتا ہے اور آخرت میں اسے کامیابوں میں شمار کرتا ہے۔

اللہم اجعلنا من الذین یجاهدون فی سبیلک بأموالھم وأنفسھم۔

اے اللہ! ہمیں ان لوگوں میں شامل فرما جو تیرے راستے میں اپنے مال اور جان سے جہاد کرتے ہیں۔ آمین۔


آج ہم نے "فی سبیل اللہ" کو صرف "بچی کھچی" چیزیں دینے تک محدود کر دیا ہے۔ ہم وہ کپڑے یا کھانا صدقہ کرتے ہیں جو ہمارے اپنے استعمال کے لائق نہیں رہتا۔ جبکہ قرآن کہتا ہے۔

​"تم نیکی کو ہرگز نہیں پا سکتے جب تک وہ چیز (اللہ کی راہ میں) خرچ نہ کرو جس سے تم خود محبت کرتے ہو۔"


​"فی سبیل اللہ" دراصل خود غرضی کے خول سے نکل کر بندگی کے کھلے آسمان تلے جینے کا نام ہے۔ یہ ایک ایسا سودا ہے جس میں خسارے کا کوئی امکان نہیں۔ اگر ہم اپنی نیتوں کو درست کر لیں، تو ہمارا جینا، مرنا، کھانا اور کمانا سب کچھ "فی سبیل اللہ" بن سکتا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اسے محض ایک مذہبی اصطلاح نہ سمجھیں بلکہ اسے اپنی شخصیت کا حصہ بنا لیں۔

فی سبیل اللہ یہ نعرہ نہیں، یہ ایک طرزِ زندگی ہے۔ اسے اپنائیں تو دنیا اور آخرت دونوں سنور جائیں گی۔

Comments

Popular posts from this blog

کالاباغ ڈیم پر اعتراض کا جواب۔​کالا باغ ڈیم چشمِ دید گواہی اور قومی ضرورت کا پکارتا سچ ​

ایک درخت، کئی نسلوں کی یادیں

ادھا چمچ ہلدئ کے فوائد۔