لوگ کہتے ہیں ہم نے ایک کامیاب زندگی گزاری: کامیابی کا اصل معیار کیا ہے؟
---روما محمود---
ایک بزرگ شخص نے آخری سانسوں میں اپنے بیٹے سے کہا: "بیٹا، میں نے کامیاب زندگی گزاری۔" بیٹا حیران ہوا کیونکہ باپ کبھی بہت امیر نہیں ہوا، نہ کوئی بڑا عہدہ پایا، نہ شہرت ملی۔ پھر کامیابی کہاں تھی؟
یہ سوال آج کے دور میں سب سے زیادہ اہم ہو گیا ہے۔ سوشل میڈیا، اشتہارات اور معاشرتی دباؤ نے کامیابی کا ایک ہی فارمولا بنا دیا ہے: پیسہ، کار، گھر، برانڈڈ کپڑے اور فالوورز۔ جو اس فہرست میں شامل نہیں، وہ ناکام سمجھا جاتا ہے۔
لیکن کیا واقعی یہی کامیابی ہے؟
ہمارے معاشرے میں "کامیاب" کہلانے والے لوگوں کو دیکھیں۔ کئی ارب پتی، مشہور اداکار، سیاستدان اور سی ای اوز ایسے ہیں جن کی زندگیاں اندر سے خالی ہیں۔
ڈپریشن، تناؤ، خاندانی ٹوٹ پھوٹ اور اکیلا پن ان کا مقدر بن چکا ہے۔ دوسری طرف کئی معمولی تنخواہ والے استاد، ڈاکٹر، کسان اور گھریلو خواتین ہیں جو ہر شام مطمئن ہو کر سوتے ہیں کہ آج بھی انہوں نے اپنا فرض نبھایا۔
تو پھر کامیابی کا اصل معیار کیا ہے؟
کامیابی کوئی ایک چیز نہیں، یہ ایک احساس ہے۔ یہ وہ اطمینان ہے جو آپ کو رات کو سو جانے سے پہلے ملتا ہے۔ اگر آپ نے۔
اپنی صلاحیتوں کو ضائع نہیں ہونے دیا
اپنے ضمیر کے خلاف کوئی معاہدہ نہیں کیا
اپنے والدین، بیوی، بچوں اور دوستوں کے ساتھ وقت گزارا
کسی ایک انسان کی زندگی میں بھی مثبت تبدیلی لائی
ناکامیوں سے سیکھا اور صبر کیا
تو آپ کامیاب ہیں۔ چاہے آپ کا بینک بیلنس کتنا بھی کم ہو۔
قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے "مفلحون" (کامیاب لوگوں) کی نشانیاں بتائی ہیں۔
ایمان، نیک عمل، حق کی تلقین، صبر اور اللہ کی یاد۔ دنیاوی کامیابی تو عارضی ہے، اصل کامیابی وہ ہے جو قبر میں بھی کام آئے۔
مغربی معاشرے نے بھی اب یہ حقیقت تسلیم کرنا شروع کر دی ہے۔ ایک مشہور امریکی مصنف نے لکھا کہ "سب سے امیر شخص وہ نہیں جو سب سے زیادہ کماتا ہے، بلکہ وہ ہے جس کی کم از کم ضروریات ہیں۔
" برٹش فلسفی آلڈس ہکسلے نے کہا تھا کہ "حقیقی خوشی ان چیزوں میں نہیں جو ہم خرید سکتے ہیں، بلکہ ان لوگوں اور لمحات میں ہے جو ہمارے دل کو چھوتے ہیں۔"
آج نوجوان نسل سب سے زیادہ کنفیوژن کا شکار ہے۔ انسٹاگرام پر دیکھ کر لگتا ہے کہ سب خوش اور کامیاب ہیں، جبکہ حقیقت میں اندر سے سب پریشان ہیں۔ والدین بھی بچوں پر وہی دباؤ ڈالتے ہیں جو ان پر ڈالا گیا تھا: "ڈاکٹر بنو، انجینئر بنو، بڑا عہدہ حاصل کرو۔" کوئی یہ نہیں
پوچھتا کہ بیٹا، تم خوش تو ہو؟
ایک سادہ امتحان
تصور کریں آپ نے ستر سال کی عمر پا لی ہے۔ آپ کرسی پر بیٹھے ہیں۔ آپ کی آنکھوں کے سامنے آپ کی پوری زندگی فلم کی طرح گزر رہی ہے۔ کیا آپ فخر سے سر اٹھا کر کہہ سکیں گے کہ "میں نے اچھی زندگی گزاری"؟ یا حسرت ہوگی کہ "کاش میں نے وقت اپنے بچوں کے ساتھ زیادہ گزارا ہوتا، کاش میں نے وہ کام کیا ہوتا جو مجھے کرنا چاہیے تھا، نہ کہ وہ جو معاشرہ چاہتا تھا"؟
اس امتحان میں پاس ہونے والا شخص ہی اصل میں کامیاب ہے۔
آخر میں ایک بات کہنا چاہوں گی کامیابی کوئی منزل نہیں، یہ ایک سفر ہے۔
اس سفر میں اہم چیز رفتار نہیں، سمت ہے۔ اگر آپ صحیح سمت میں چل رہے ہیں ۔ چاہے آہستہ ہی کیوں نہ ہو تو آپ کامیاب ہیں۔
معاشرے کو تبدیل کرنے کے لیے ہمیں کامیابی کا معیار تبدیل کرنا ہوگا۔ پیسے اور شہرت کے ساتھ ساتھ سکون، رشتوں، ایمانداری اور اللہ کی رضا کو بھی اہمیت دینی ہوگی۔
کیونکہ آخرکار وہی زندگی کامیاب ہے جو ختم ہونے کے بعد بھی یاد رہے
نہ صرف اخبارات میں، بلکہ ان لوگوں کے دلوں میں جن کی زندگی آپ نے چھوئی تھی۔
معاشرے کا ایک عام چلن ہے کہ جب کوئی شخص زندگی کی ڈھلتی شام میں قدم رکھتا ہے، بالخصوص اگر اس کے پاس ایک شاندار بنگلہ، بینک بیلنس، معاشرتی رتبہ اور سیٹل اولاد ہو، تو دنیا یک زبان ہو کر کہتی ہے: "انہوں نے ایک کامیاب زندگی گزاری۔" لیکن کیا کامیابی کا یہ مروجہ مادی ترازو واقعی انسانی وجود کے اصل مقصد پر پورا اترتا ہے؟
یا پھر ہم نے کامیابی کے نام پر ایک ایسا سراب تخلیق کر لیا ہے جو باہر سے تو چمکتا ہے، مگر اندر سے بالکل خالی ہے؟
اگر غور کیا جائے تو کامیابی کوئی مٹی کا ڈھیر یا مادی اشیاء کا مجموعہ نہیں جسے چھوا جا سکے، بلکہ یہ ایک احساس اور داخلی اطمینان کا نام ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ کامیابی کا معیار ہر انسان کے لیے مختلف ہو سکتا ہے، لیکن وقت اور تجربے کی بھٹی سے گزرنے کے بعد جو چند آفاقی معیارات سامنے آتے ہیں، وہ مادی کامیابی سے کہیں بلند ہیں۔
داخلی اطمینان اور ذہنی سکون (Peace of Mind)
دنیاوی آسائشیں جسم کو آرام تو دے سکتی ہیں، لیکن روح کو سکون نہیں۔ وہ زندگی جس میں رات کو بستر پر لیٹتے ہی پرسکون نیند آ جائے اور دل کسی پچھتاوے، حسد یا ملامت سے پاک ہو، اصل میں وہی کامیاب زندگی ہے۔
اگر کسی نے اربوں روپے کما لیے لیکن اس کا دل مستقل اضطراب، خوف اور بے چینی کا مسکن بنا رہا، تو ایسی کامیابی کو صرف ایک 'خوش نما دھوکہ' ہی کہا جا سکتا ہے۔
رشتوں کی مضبوطی اور خلوص۔
جب کوئی شخص اپنی زندگی کا سفر مکمل کرنے کے قریب ہوتا ہے، تو اس کے کام آنے والے بینک اکاؤنٹس نہیں، بلکہ وہ مخلص رشتے ہوتے ہیں جو اس نے زندگی بھر کمائے ہوتے ہیں۔ ایک کامیاب انسان وہ ہے جس کے بچے اس کے رتبے سے نہیں بلکہ اس کی ذات سے محبت کرتے ہوں، جس کے دوست اس کی جیب دیکھ کر نہیں بلکہ اس کی گفتگو کے سحر میں پاس بیٹھتے ہوں، اور جس کا شریکِ حیات اس کے ساتھ گزارے ہوئے وقت کو اپنی زندگی کا حاصل سمجھے۔
معاشرے کے لیے افادیت (Legacy)
کامیابی کا ایک بڑا معیار یہ ہے کہ آپ کی ذات سے کتنے لوگوں کو فائدہ پہنچا۔
وہ زندگی جو صرف اپنی ذات، اپنی ذات کے حصار اور اپنی اولاد کی ضروریات تک محدود رہی، وہ تو جاندار بھی گزار لیتے ہیں۔ انسانی کامیابی کا معیار یہ ہے کہ آپ نے اپنے اردگرد کے ماحول کو بہتر بنانے میں کیا کردار ادا کیا؟
کیا آپ کی وجہ سے کسی کا چہرہ مسکرایا؟
کیا آپ نے کسی گرے ہوئے کو سہارا دیا؟
اگر آپ کے جانے کے بعد دنیا میں آپ کی نیکیوں اور اچھے اخلاق کا خلا محسوس ہو، تو آپ کی زندگی کامیاب تھی۔
اخلاقی اور روحانی ارتقاء
کیا آپ آج اخلاقی طور پر اس سے بہتر انسان ہیں جو آپ دس سال پہلے تھے؟ کامیابی کا ایک معیار خود کا خود سے موازنہ ہے۔ اپنے غصے پر قابو پانا، دوسروں کو معاف کرنے کا ظرف پیدا کرنا، لالچ اور حسد سے پاک ہونا، اور سچائی پر قائم رہنا—یہ وہ فتوحات ہیں جو انسان اپنے نفس پر حاصل کرتا ہے۔
جس نے اپنے نفس کو فتح کر لیا، اس سے بڑا کامیاب کوئی نہیں ہو سکتا۔
کامیابی کا کوئی ایک ایسا حتمی فارمولا نہیں ہے جو ہر ایک پر فٹ بیٹھ سکے۔ یہ ایک سفر ہے، کوئی آخری اسٹیشن نہیں۔
دولت، شہرت اور رتبہ زندگی کو آسان ضرور بنا سکتے ہیں، لیکن انہیں کامیابی کا واحد معیار سمجھ لینا انسانی عقل کی سب سے بڑی شکست ہے۔
جب لوگ کہیں کہ "فلاں نے کامیاب زندگی گزاری" تو جھک کر اس کے محل کو نہ دیکھیں، بلکہ یہ دیکھیں کہ اس شخص کی آنکھوں میں کتنا سکون ہے، اس کے چہرے پر کتنا اطمینان ہے، اور اس کے رخصت ہونے پر کتنے دل اداس ہیں۔ اگر اس کا دامن لوگوں کی دعاؤں اور اپنے رب کے شکر سے بھرا ہے، تو یقین کیجیے، اس نے واقعی ایک لاجواب اور کامیاب زندگی گزاری ہے۔

Comments