عیب جوئی معاشرتی زوال کا سبب اور انسانی نفسیات کا تاریک پہلو۔
---روما محمود---
انسانی معاشرہ اخلاقیات، باہمی احترام اور رواداری کے ستونوں پر کھڑا ہوتا ہے۔ جب ان ستونوں کو 'عیب جوئی' جیسا گھن لگ جائے تو معاشرے کی بنیادیں ہلنے لگتی ہیں۔ عیب جوئی، یعنی دوسروں کی خامیاں، لغزشیں اور نقائص تلاش کرنا اور پھر انہیں دوسروں کے سامنے بیان کرنا، ایک ایسا اخلاقی مرض ہے جو نہ صرف فرد کی شخصیت کو مسخ کرتا ہے بلکہ پورے سماجی ڈھانچے میں بگاڑ پیدا کر دیتا ہے۔
آج کے دور میں، جہاں سوشل میڈیا نے ہمیں دوسروں کی نجی زندگیوں تک رسائی آسان بنا دی ہے، یہ مرض ایک وباء کی صورت اختیار کر چکا ہے۔
معاشرے کی تعمیر و ترقی میں جہاں اخلاقی اقدار ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہیں، وہاں کچھ منفی رویے اس عمارت کو اندر سے کھوکھلا کر دیتے ہیں۔
انہی مہلک رویوں میں سے ایک 'عیب جوئی' ہے۔ عیب جوئی سے مراد دوسروں کی خامیاں تلاش کرنا، ان کے ذاتی معاملات میں ٹوہ لگانا اور پھر ان کا چرچا کرنا ہے۔
نفسیاتی طور پر عیب جوئی کرنے والا شخص اکثر خود کسی کمتری یا حسد کا شکار ہوتا ہے۔ جب کوئی انسان اپنی اصلاح سے غافل ہو جاتا ہے، تو اسے دوسروں کے نقائص میں ایک عجیب قسم کی تسکین نظر آنے لگتی ہے۔ وہ سمجھتا ہے کہ دوسروں کو چھوٹا دکھا کر وہ خود بڑا بن جائے گا، حالانکہ یہ ایک سراب کے سوا کچھ نہیں۔
عیب جوئی محض ایک انفرادی برائی نہیں بلکہ ایک سماجی زہر ہے۔ اس کے چند خطرناک نتائج ظاہر ہوتے ہیں۔
جس معاشرے میں لوگ ایک دوسرے کی خامیاں اچھالنے میں لگے ہوں، وہاں باہمی اعتماد ختم ہو جاتا ہے۔
جب کسی شخص کو پتہ چلتا ہے کہ اس کی پیٹھ پیچھے اس کے عیوب بیان کیے گئے ہیں، تو دلوں میں گرہیں پڑ جاتی ہیں جو بعض اوقات نسلوں تک چلنے والی دشمنیوں میں بدل جاتی ہیں۔
جب تنقید کا مقصد اصلاح کے بجائے تذلیل ہو، تو سامنے والا شخص اپنی غلطی تسلیم کرنے کے بجائے اس پر اڑ جاتا ہے۔
تمام مذاہب اور اخلاقی ضابطوں میں عیب جوئی کی شدید مذمت کی گئی ہے۔ خاص طور پر اسلام میں اسے "اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھانے" سے تشبیہ دی گئی ہے۔ یہ اس بات کی علامت ہے کہ دوسروں کی پردہ پوشی کرنا کتنا بڑا وصف ہے اور ان کے عیب تلاش کرنا کتنا بڑا گناہ۔
ہمیں کیا کرنا چاہیے؟
ہمیں اس وباء سے بچنے کے لیے درج ذیل باتوں پر غور کرنا ہوگا۔
دوسروں کی آنکھ کا تنکا دیکھنے سے پہلے اپنی آنکھ کا شہتیر دیکھنا ضروری ہے۔ اگر ہم اپنی خامیوں پر نظر رکھیں تو ہمیں دوسروں کے عیب دیکھنے کی مہلت ہی نہیں ملے گی۔
ہر انسان میں جہاں کچھ خامیاں ہوتی ہیں، وہاں بے شمار خوبیاں بھی ہوتی ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم خوبیوں کو تلاش کریں اور ان کی تعریف کریں۔
اگر کسی کی کوئی خامی سامنے آ ہی جائے تو اسے پھیلانے کے بجائے اس پر پردہ ڈالنا اور تنہائی میں خیر خواہی کے ساتھ اسے سمجھانا ہی انسانیت ہے۔
عیب جوئی ایک ایسی آگ ہے جو سب سے پہلے اسے لگانے والے کے اپنے سکون کو جلا کر راکھ کر دیتی ہے۔ ایک صحت مند معاشرے کی تشکیل کے لیے ضروری ہے کہ ہم دوسروں کی زندگیوں میں جھانکنے کے بجائے اپنی زندگیوں کو سنوارنے پر توجہ دیں۔ یاد رکھیں، جو دوسروں کے عیب چھپاتا ہے، قدرت اس کے عیبوں پر پردہ ڈال دیتی ہے۔
عیب جوئی صرف زبان سے کسی کی برائی کرنے کا نام نہیں، بلکہ یہ ایک ذہنی کیفیت ہے جس میں انسان دوسروں کی اچھائیوں سے اندھا ہو جاتا ہے اور اسے صرف برائیاں ہی نظر آتی ہیں۔ یہ تجسس (دوسروں کے حالات کی ٹوہ لگانا) سے شروع ہوتی ہے اور غیبت و بہتان پر ختم ہوتی ہے۔
حکماء کا کہنا ہے کہ "جو شخص تمہارے سامنے دوسروں کے عیب بیان کرتا ہے، وہ دوسروں کے سامنے یقیناً تمہارے عیب بھی بیان کرتا ہو گا"۔
ہم عیب جوئی کیوں کرتے ہیں؟
نفسیاتی ماہرین کے مطابق عیب جوئی کے پیچھے کئی پیچیدہ محرکات چھپے ہوتے ہیں۔
جب کوئی شخص خود کو دوسروں سے کم تر محسوس کرتا ہے، تو وہ اپنی انا کو تسکین دینے کے لیے دوسروں کی خامیاں نکالتا ہے۔ دوسروں کو چھوٹا ثابت کر کے اسے عارضی طور پر اپنی بڑائی کا احساس ہوتا ہے۔
جب کوئی انسان کسی دوسرے کی کامیابی، دولت یا شہرت کو برداشت نہیں کر پاتا، تو وہ اس کی شخصیت کو داغدار کرنے کے لیے اس کے عیوب تلاش کرنے لگتا ہے۔
اکثر لوگ اپنی غلطیوں پر سے توجہ ہٹانے کے لیے دوسروں کے نقائص کا چرچا شروع کر دیتے ہیں تاکہ محفل کا رخ مڑ جائے۔
جن لوگوں کی زندگی کا کوئی تعمیری مقصد نہیں ہوتا، وہ اپنا وقت دوسروں کی زندگیوں میں مٹر گشت کر کے گزارتے ہیں۔
ایک ایسا معاشرہ جہاں عیب جوئی عام ہو جائے، وہاں کبھی امن و سکون نہیں رہ سکتا۔ اس کے اثرات دور رس اور مہلک ہوتے ہیں۔
باہمی تعلقات کی بنیاد 'اعتبار' پر ہوتی ہے۔ جب آپ کو معلوم ہو کہ آپ کی ہر لغزش محفلوں کی زینت بنے گی، تو آپ لوگوں سے کٹنا شروع کر دیتے ہیں۔ یوں معاشرے میں بیگانگی پیدا ہوتی ہے۔
اگر کسی کی غلطی کی نشاندہی ہمدردی کے بجائے طنز اور عیب جوئی کے طور پر کی جائے، تو وہ شخص اپنی ضد پر اڑ جاتا ہے۔ یوں اصلاح کے بجائے بگاڑ بڑھتا ہے۔
بے شمار گھرانے صرف اس لیے اجڑ گئے کہ کسی 'خیر خواہ' نے میاں بیوی یا رشتہ داروں کے درمیان ایک دوسرے کے عیوب بیان کر کے غلط فہمیاں پیدا کر دیں۔
آج کے دور میں 'سوشل میڈیا' عیب جوئی کا سب سے بڑا ہتھیار بن چکا ہے۔ کسی کی نجی تصویر، کسی کی کوئی پرانی ویڈیو یا کسی کی لغزشِ زبان کو سیکنڈوں میں وائرل کر دیا جاتا ہے۔ ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ اسکرین کے دوسری طرف بھی ایک انسان ہے جس کی عزتِ نفس اور خاندان ہے۔
"ٹرولنگ" (Trolling) کی صورت میں عیب جوئی کو ایک تفریح بنا لیا گیا ہے، جو درحقیقت اخلاقی دیوالیہ پن کی نشانی ہے۔
دنیا کے تمام بڑے مذاہب نے عیب جوئی سے سختی سے منع کیا ہے۔ اسلام میں اسے "مردہ بھائی کا گوشت کھانے" کے مترادف قرار دے کر اس کی کراہت کو واضح کیا گیا ہے۔ صوفیاء کرام فرماتے ہیں کہ "خوش نصیب ہے وہ شخص جسے اپنے عیبوں نے دوسروں کے عیب دیکھنے سے روک دیا"۔
اگر ہم اپنے گریبان میں جھانکیں تو ہمیں اپنی ذات میں اتنے نقائص ملیں گے کہ ہمیں دوسروں کی طرف دیکھنے کی مہلت ہی نہیں ملے گی۔ انسانی کمال اس میں نہیں کہ وہ بے عیب ہو (کیونکہ بے عیب صرف خالق کی ذات ہے)، بلکہ کمال اس میں ہے کہ وہ دوسروں کے عیبوں پر پردہ ڈالے۔
اس اخلاقی بیماری سے نجات پانے کے لیے ہمیں اپنی طرزِ زندگی میں چند تبدیلیاں لانی ہوں گی۔
روزانہ سونے سے پہلے چند منٹ اس بات پر غور کریں کہ آج میں نے اپنی اصلاح کے لیے کیا کیا اور کتنی بار دوسروں کے بارے میں منفی سوچا۔
یہ عہد کریں کہ اگر کسی کے بارے میں اچھی بات نہیں کر سکتے تو خاموش رہیں گے۔ خاموشی بہترین حکمتِ عملی ہے۔
ایسی محفلوں اور دوستوں سے کنارہ کشی اختیار کریں جہاں صرف دوسروں کی برائیاں ڈسکس کی جاتی ہوں۔
جب کسی کا عیب سامنے آئے تو یہ سوچیں کہ اگر یہ میرا اپنا عیب ہوتا تو کیا میں اسے لوگوں کے سامنے لانا پسند کرتا؟
عیب جوئی ایک ایسی آگ ہے جو سب سے پہلے عیب جوئی کرنے والے کے اپنے کردار اور سکون کو جلا کر راکھ کرتی ہے۔
دوسروں کی لغزشوں پر خوش ہونا انسانیت نہیں بلکہ درندگی ہے۔
اگر ہم چاہتے ہیں کہ ایک پرامن، محبت بھرا اور ترقی یافتہ معاشرہ تشکیل پائے، تو ہمیں دوسروں کی ٹوہ میں رہنے کے بجائے اپنی ذات کے اندھیروں میں چراغ روشن کرنے ہوں گے۔
ہم دوسروں کے عیبوں کے وکیل بننے کے بجائے ان کے پردہ پوش بنیں گے، کیونکہ جو زمین پر اللہ کی مخلوق کے عیب چھپاتا ہے، روزِ محشر اللہ اس کے عیبوں پر پردہ ڈالے گا۔ یہی وہ راستہ ہے جو ہمیں ایک سچا انسان اور ایک بہترین معاشرتی اکائی بنا سکتا ہے۔

Comments