اسلام آباد بوند بوند ترستا ‘شہرِ
---روما محمود---
مارگلہ کی پہاڑیوں کے دامن میں بسا، ہریالی سے مرصع اور جدید طرزِ تعمیر کا شاہکار اسلام آباد، دنیا کے خوبصورت ترین دارالحکومتوں میں شمار ہوتا ہے۔ لیکن اس خوبصورت تصویر کا ایک دوسرا رخ بھی ہے، جو دن بہ دن بھیانک ہوتا جا رہا ہے۔ یہ رخ ہے پانی کا شدید بحران، جس نے ‘شہرِ اقتدار’ کے شہریوں کو اقتدار کے ایوانوں کے سامنے بوند بوند کے لیے سسکنے پر مجبور کر دیا ہے۔
کہنے کو تو اسلام آباد منصوبہ بندی کے تحت بنایا گیا شہر ہے، لیکن آج یہ اپنی تاریخ کے بدترین پانی کے قحط سے گزر رہا ہے۔ سیکٹرز کی تفریق سے بالاتر ہو کر، چاہے وہ پوش علاقے ہوں یا پسماندہ کچی آبادیاں، پانی کی قلت ایک ایسا ناسور بن چکی ہے جس نے شہریوں کی سماجی، معاشی اور ذہنی زندگی کو مفلوج کر کے رکھ دیا ہے۔
بحران کی جڑیں پانی کہاں غائب ہو گیا؟
اسلام آباد میں پانی کا بحران کوئی اچانک نازل ہونے والی آفت نہیں ہے، بلکہ یہ دہائیوں کی نااہلی، ناقص منصوبہ بندی اور مجرمانہ غفلت کا نتیجہ ہے۔ شہر میں پانی کی قلت کے چند بنیادی اسباب درج ذیل ہیں۔
بڑھتی ہوئی آبادی اور جمود کا شکار انفراسٹرکچر
جب ۱۹۶۰ء کی دہائی میں اسلام آباد کا ماسٹر پلان تیار کیا گیا تھا، تو یہ شہر ایک مخصوص آبادی (تقریباً چند لاکھ) کے لیے ڈیزائن کیا گیا تھا۔ آج، اسلام آباد کی آبادی ۲۵ لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے۔ آبادی میں یہ خوفناک اضافہ محض کچی آبادیوں یا دیہی علاقوں تک محدود نہیں، بلکہ ہائی رائز بلڈنگز اور نئی ہاؤسنگ سوسائٹیز کی بھرمار نے شہر کے وسائل پر بوجھ کئی گنا بڑھا دیا ہے۔ اس کے برعکس، پانی کی فراہمی کا انفراسٹرکچر آج بھی اسی پرانے دور کی یادگار ہے، جو موجودہ آبادی کی ضروریات کا آدھا حصہ بھی پورا کرنے سے قاصر ہے۔
زیرِ زمین پانی کی سطح میں خطرناک حد تک گراوٹ
کچھ سال پہلے تک اسلام آباد کے شہری بورنگ یا ٹیوب ویل لگا کر پانی کا متبادل بندوبست کر لیتے تھے۔ لیکن اب صورتحال یہ ہے کہ واٹر ٹیبل (Water Table) جو کبھی ۵۰ سے ۶۰ فٹ پر تھا، اب کئی علاقوں میں ۴۰۰ سے ۶۰۰ فٹ سے بھی نیچے جا چکا ہے۔ بے تحاشا ہاؤسنگ سوسائٹیز کی تعمیر، کنکریٹ کے بڑھتے ہوئے استعمال اور پکا فرش بنانے کے رجحان کی وجہ سے بارش کا پانی زمین میں جذب نہیں ہو پاتا، جس کی وجہ سے زیرِ زمین پانی کے ذخائر دوبارہ نہیں بھر پا رہے (Groundwater Recharge نہیں ہو رہا)۔
سیمنٹڈ پائپ لائنز اور پانی کا زیاں (Line Losses)
کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (CDA) کے اپنے اعداد و شمار کے مطابق، شہر کو فراہم کیے جانے والے پانی کا تقریباً ۳۵ سے ۴۰ فیصد حصہ صارفین تک پہنچنے سے پہلے ہی ضائع ہو جاتا ہے۔
اس کی وجہ پرانی، بوسیدہ اور کئی جگہوں سے پھٹی ہوئی پائپ لائنز ہیں۔ لاکھوں گیلن صاف اور پینے کا پانی روزانہ زیرِ زمین رس کر ضائع ہو جاتا ہے یا گٹر کے پانی میں مل کر آلودہ ہو جاتا ہے۔
کلائمیٹ چینج اور ڈیموں میں پانی کی کمی
اسلام آباد کو پانی فراہم کرنے والے تین بڑے ذرائع ہیں: خانپور ڈیم، سملی ڈیم اور راول ڈیم۔ موسمیاتی تبدیلیوں (Climate Change) کی وجہ سے بارشوں کا شیڈول تبدیل ہو چکا ہے۔ سردیوں میں برف باری اور بارشو ں میں کمی اور گرمیوں میں شدید گرمی کی وجہ سے ان ڈیموں میں پانی کی سطح اکثر ‘ڈید لیول’ (Dead Level) کے قریب پہنچ جاتی ہے۔ جب ڈیم ہی خالی ہوں، تو شہر کو پانی کہاں سے ملے گا؟
شہریوں کی روزمرہ زندگی ایک مستقل عذاب۔
پانی کی یہ قلت اب محض ایک انتظامی مسئلہ نہیں رہی، بلکہ یہ انسانی المیہ بن چکی ہے۔ اسلام آباد کے مختلف سیکٹرز (خصوصاً اور وہ علاقے جو سی ڈی اے کے دائرہ اختیار سے باہر ہیں) میں زندگی پانی کے گرد گھومتی ہے۔
شہریوں کی زبانی۔ "ہماری صبح کا آغاز پانی کی تلاش سے ہوتا ہے اور رات پانی کی فکر میں ختم ہوتی ہے۔ نوکری پر جائیں یا پانی کے لیے سی ڈی اے کے دفتر کے چکر کاٹیں؟" یہ وہ جملہ ہے جو آج ہر دوسرے اسلام آباد واسی کی زبان پر ہے۔
انفراسٹرکچر کی ناکامی کا سب سے بڑا فائدہ "ٹینکر مافیا" اٹھا رہا ہے۔ سرکاری ٹینکر حاصل کرنا کسی معجزے سے کم نہیں، جس کے لیے شہریوں کو گھنٹوں لائنوں میں لگنا پڑتا ہے یا سفارشیں لڑانی پڑتی ہیں۔ اس کا متبادل پرائیویٹ ٹینکرز ہیں، جو ایک عام سے ٹینکر کے ۵ ہزار سے ۸ ہزار روپے تک وصول کر رہے ہیں۔ ایک متوسط طبقے کا خاندان مہینے میں ۲۰ سے ۳۰ ہزار روپے صرف پانی خریدنے پر مجبور ہے، جو ان کے بجٹ کی کمر توڑ دیتا ہے۔
اس بحران نے سماجی رویوں کو بھی تلخ کر دیا ہے۔ گلی محلوں میں سرکاری نلکوں یا واٹر فلٹریشن پلانٹس پر پانی بھرنے کے لیے لڑائی جھگڑے اب معمول بن چکے ہیں۔ خواتین اور بچوں کو تپتی دھوپ میں گیلن اٹھا کر دور دراز سے پانی لانا پڑتا ہے، جس سے بچوں کی تعلیم اور صحت شدید متاثر ہو رہی ہے۔
غفلت کے ذمہ دار کون؟
یہ سوال اٹھانا انتہائی ضروری ہے کہ پاکستان کے سب سے وی آئی پی شہر کا یہ حال کس نے کیا؟
- سی ڈی اے (CDA) کی ترجیحات۔ دہائیوں سے سی ڈی اے کی تمام تر توجہ سڑکیں بنانے، فلائی اوورز تعمیر کرنے اور نئے سیکٹرز لانچ کر کے اربوں روپے کمانے پر رہی ہے۔ کنکریٹ کے اس جنگل کو اگانے کے دوران یہ بھولا دیا گیا کہ ان عمارتوں میں رہنے والے انسانوں کو پانی کی بھی ضرورت ہوگی۔ واٹر مینجمنٹ ونگ کو ہمیشہ پسِ پشت ڈالا گیا۔
- ہاؤسنگ سوسائٹیز کی غیر قانونی بھرمار ۔
- اسلام آباد کے مضافات اور زون فور اور فائیو میں سینکڑوں غیر قانونی ہاؤسنگ سوسائٹیز بن چکی ہیں۔ ان سوسائٹیز نے نہ تو رین واٹر ہارویسٹنگ کا کوئی نظام بنایا اور نہ ہی پانی کا کوئی پائیدار ذریعہ ڈھونڈا۔ انہوں نے دھڑا دھڑ کمرشل ٹیوب ویل لگا کر پورے شہر کا زیرِ زمین
- پانی نچوڑ لیا۔
- شہریوں کا اپنا رویہ۔
- جہاں ایک طرف انتظامیہ مجرم ہے، وہاں شہریوں کا رویہ بھی مثالی نہیں ہے۔ جن علاقوں میں پانی آتا ہے، وہاں گاڑیوں کو پائپ لگا کر دھونا، صحن چمکانا اور پانی کا بے دریغ زیاں ایک عام سی بات ہے۔ پانی کو ایک نعمت کے بجائے ایک سستی، لامحدود شے سمجھا جاتا رہا ہے۔
کاغذات میں دفن منصوبے"کاغذی شیر"
ایسا نہیں ہے کہ اس بحران کا حل موجود نہیں یا اس پر غور نہیں کیا گیا۔ گذشتہ تین دہائیوں سے کئی بڑے منصوبے صرف فائلوں اور بجٹ کی کتابوں کی زینت بنے ہوئے ہیں:
|
منصوبہ |
حیثیت |
رکاوٹ |
|---|---|---|
|
غازی بروتھا واٹر پراجیکٹ |
صرف اعلانات تک محدود |
فنڈز کی عدم دستیابی اور صوبائی تحفظات |
|
چراہ ڈیم منصوبہ |
گذشتہ ۱۵ سال سے معطل |
پنجاب اور سی ڈی اے کے درمیان فنڈز کا تنازع |
|
ڈوکر گاہ ڈیم |
صرف فزیبلٹی رپورٹ تک محدود |
انتظامی عدم توجہی |
ان میں سب سے اہم غازی بروتھا پراجیکٹ ہے، جس کے تحت دریائے سندھ سے اسلام آباد اور راولپنڈی کے لیے یومیہ ۲۰۰ ملین گیلن پانی لایا جانا تھا۔ یہ منصوبہ اگر ۲۰ سال پہلے مکمل ہو جاتا تو آج جڑواں شہروں میں پانی کا نام و نشان نہ ہوتا۔ لیکن سیاسی مصلحتوں، بیوروکریسی کی سستی اور فنڈز کی مبینہ خرد برد کی وجہ سے یہ منصوبہ آج بھی ایک خواب بنا ہوا ہے۔
بحران کا پائیدار حل۔ اب نہیں تو کب؟
اگر اسلام آباد کو مستقبل قریب میں ایک "صحرائے کنکریٹ" بننے سے بچانا ہے، تو جنگی بنیادوں پر ہنگامی اقدامات کرنے ہوں گے۔ اب روایتی بیانات اور وقتی ٹینکر سپلائی سے کام نہیں چلے گا۔ مندرجہ ذیل اقدامات کے ذریعے اس بحران پر قابو پایا جا سکتا ہے:
غازی بروتھا منصوبے کا فوری آغاز
حکومت کو چاہیے کہ تمام سیاسی اختلافات کو بالائے طاق رکھ کر غازی بروتھا واٹر سپلائی پراجیکٹ کو سی پیک (CPEC) یا کسی بھی نیشنل پرائیورٹی لسٹ میں شامل کرے اور اسے اگلے ۳ سالوں میں مکمل کرے۔ یہ اسلام آباد کے پانی کے مسئلے کا واحد مستقل اور طویل مدتی حل ہے۔
رین واٹر ہارویسٹنگ (Rainwater Harvesting) کو لازمی قرار دینا
اسلام آباد میں ہر سال اوسطاً ۱۱۰۰ ملی میٹر بارش ہوتی ہے۔ اس لاکھوں گیلن پانی کو ندی نالوں میں بہہ کر ضائع ہونے سے بچایا جا سکتا ہے۔ سی ڈی اے کو قانون بنانا چاہیے کہ ہر گھر، پلازہ اور سرکاری عمارت میں بارش کے پانی کو ذخیرہ کرنے کا نظام اور زمین میں پانی ریچارج کرنے والے کنویں (Recharge Wells) بنانا لازمی ہو، بصورتِ دیگر بلڈنگ پلان پاس نہ کیا جائے۔
. پانی کے میٹرز (Water Metering) کا نفاذ
دنیا بھر کے جدید شہروں کی طرح اسلام آباد میں بھی پانی کے میٹر لگائے جائیں۔ جب تک شہریوں کو پانی کی ہر بوند کی قیمت ادا نہیں کرنی پڑے گی، پانی کا زیاں نہیں رکے گا۔ فلیٹ ریٹ (Flat Rate) کا موجودہ نظام ختم ہونا چاہیے۔
پائپ لائنز کی فوری مرمت اور سمارٹ مانیٹرنگ
جدید ٹیکنالوجی جیسے کہ 'سمارٹ واٹر گریڈز' اور سنسرز کا استعمال کیا جائے تاکہ لائن لاسز اور پانی کی چوری (Water Theft) کا فوری پتہ چل سکے۔ پرانی سیمنٹڈ پائپ لائنز کو جدید پی وی سی پائپوں سے تبدیل کیا جائے تاکہ ۴۰ فیصد ضائع ہونے والا پانی بچایا جا سکے۔
اقتدار کے اندھے ایوان
اسلام آباد کا پانی کا بحران محض ایک قدرتی آفت نہیں، بلکہ اس نظام کی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہے جہاں حکمران طبقہ تو اپنی وی آئی پی رہائش گاہوں میں منرل واٹر اور چوبیس گھنٹے سپلائی کے مزے لوٹتا ہے، جبکہ ٹیکس دینے والا عام شہری ایک بالٹی پانی کے لیے ذلیل و خوار ہوتا ہے۔
پانی زندگی ہے، اور زندگی کے حق سے محروم کرنا کسی بھی ریاست کے لیے شرم کا مقام ہونا چاہیے۔ اگر آج بھی پارلیمنٹ ہاؤس، پرائم منسٹر ہاؤس اور سپریم کورٹ کے سائے تلے بسنے والے اس شہر کے پانی کے مسئلے کو حل نہ کیا گیا، تو وہ وقت دور نہیں جب پانی کی یہ قلت اس خوبصورت شہر کو ایک بنجر اور ناقابلِ رہائش علاقے میں تبدیل کر دے گی۔
اب وقت تقریروں کا نہیں، زمین پر کام کرنے کا ہے۔ شہرِ کو پیاس سے بچائیے، اس سے پہلے کہ بہت دیر ہو جائے۔

Comments