گھر کو ٹھنڈا رکھیں، سر کو ٹھنڈا رکھیں
---روما محمود---
گرمیوں کا موسم جب اسلام آباد کی گلیوں میں داخل ہوتا ہے تو لوگ دو ہی چیزوں کی دعا کرتے ہیں۔ ایک تو بجلی، دوسرا ٹھنڈک۔
مگر بجلی کا بل بڑھانے اور ایئر کنڈیشنر کی گڑگڑاہٹ سے پہلے کچھ ایسے طریقے بھی ہیں جو گھر کو قدرتی طور پر ٹھنڈا رکھ سکتے ہیں اور سر کو بھی۔ کیونکہ گرمی صرف باہر نہیں، اندر بھی ہوتی ہے دماغ میں۔
گھر کو ٹھنڈا رکھنے کے عملی ٹوٹکے
سب سے پہلے روشنی اور ہوا کا بندوبست۔ دن کے وقت موٹی، ہلکی رنگ کی پردے لگائیں جو سورج کی شعاعوں کو روکیں مگر ہوا گزرنے دیں۔ شام کو جب سورج ڈھل جائے تو کھڑکیاں کھول دیں۔ صبح سویرے گھر کو کراس وینٹیلیشن دیں سامنے اور پچھلی کھڑکیاں کھول کر ہوا کا راستہ بنائیں۔
اگر آپ کے گھر میں صحن یا بالکونی ہے تو پودے لگائیں۔ پیپلم، ایلوویرا، یا بانس کے پودے نہ صرف آکسیجن دیتے ہیں بلکہ ہوا کو بھی ٹھنڈا کرتے ہیں۔ چھت پر سفید شیٹ یا واٹر پروف شیٹ بچھا دیں، گرمی کا بڑا حصہ چھت سے ہی اندر آتا ہے۔
رات کو گیلا تاؤ (wet towel) یا چادر کو پنکھے کے سامنے لٹکا دیں۔ پرانا طریقہ ہے مگر کام کرتا ہے۔ فریج میں پانی کی بوتلیں رکھیں، انہیں باہر نکال کر گردن اور پیشانی پر رکھیں۔ برف کی ٹرے بنائیں اور پنکھے کے سامنے رکھیں ، فوری ٹھنڈک ملے گی۔
کھانا پکانے کا وقت کم کریں۔ دوپہر میں اوون یا سٹوو جلانا گھر کا درجہ حرارت بڑھا دیتا ہے۔ سلاد، دہی، لسی اور پھل زیادہ استعمال کریں۔ لوڈشیڈنگ کے وقت جنریٹر یا انورٹر کے بجائے بیٹری والا چھوٹا کولیر استعمال کریں۔
گھر ٹھنڈا ہو جائے تو بھی اگر سر گرم رہے تو سب بیکار۔ "سر ٹھنڈا رکھو" کا مطلب صرف غصہ نہ کرنا نہیں، بلکہ ذہن کو پرسکون رکھنا ہے۔
سب سے آسان طریقہ سانس کا۔ جب غصہ آئے یا تناؤ ہو تو چار سیکنڈ سانس اندر، چار سیکنڈ روکیں، چھ سیکنڈ باہر۔ یہ دماغ کو فوراً ٹھنڈا کر دیتا ہے۔ صبح اٹھ کر دس منٹ مراقبہ یا صرف آنکھیں بند کر کے بیٹھیں۔
دوسرا، توقعات کم کریں۔ ٹریفک جام ہو، بجلی نہ آئے، بچے شور مچائیں یہ سب معمول ہے۔ اسے لڑائی کا موقع نہ بنائیں۔ ایک پرانا ضرب المثل ہے۔ "گرمی سے لڑو گے تو زیادہ گرم ہو جاؤ گے، اسے قبول کرو گے تو ٹھنڈک مل جائے گی"۔
پانی زیادہ پیئیں۔ ڈی ہائیڈریشن سر کو سب سے زیادہ گرم کرتا ہے۔ شام کو دوستوں کے ساتھ چائے کی بجائے لسی یا ناریل پانی کا اڈا لگائیں۔ موبائل کم استعمال کریں، نیوز کم دیکھیں۔ ایک اچھی کتاب، ہلکی موسیقی یا پودوں کو پانی دینا بھی دماغ کو سکون دیتا ہے۔
اور سب سے اہم معافی مانگنا سیکھیں۔
چھوٹی بات پر لڑائی بڑھانے والا شخص سب سے زیادہ گرم سر رہتا ہے۔
گھر ٹھنڈا رکھنا تکنیک ہے، سر ٹھنڈا رکھنا فلسفہ۔ دونوں مل جائیں تو گرمی کا یہ موسم بھی گزر جاتا ہے، بلکہ یادگار بن جاتا ہے۔ جو لوگ دونوں کو سنبھال لیتے ہیں، وہ نہ صرف خود ٹھنڈے رہتے ہیں بلکہ اپنے گھر والوں کے لیے بھی ٹھنڈک بن جاتے ہیں۔
گرمی آئی ہے، تو اس سے لڑنے کی بجائے اس کے ساتھ بیٹھ کر لسی پیئیں۔ گھر ٹھنڈا ہو گا تو دل بھی ٹھنڈا رہے گا۔
ٹھنڈی ہوا اور ٹھنڈا سر دونوں آپ کی اپنی مرضی سے ملتے ہیں۔

Comments