خیالات کا سفر معاہدوں کے پیچھے چھپی قیمت اور ہماری ترجیحات
---روما محمود---
انسانی جبلت کا یہ ایک عجیب خاصہ ہے کہ ہم اکثر چمکتی ہوئی چیزوں کی چکا چوند میں ان بنیادوں کو بھول جاتے ہیں جن پر وہ کھڑی ہوتی ہیں۔ جب پہلی نظر کسی شاندار عمارت پر پڑتی ہے، تو ذہن اس کی خوبصورتی کا اسیر ہو جاتا ہے، مگر پاتال میں دھنسی ہوئی وہ اینٹیں کسی کو نظر نہیں آتیں جو اس پورے بوجھ کو سنبھالے ہوئے ہیں۔ آج کل کے عالمی اور ملکی حالات کو دیکھ کر سوچ کے زاویے اسی نقطے پر آکر ٹھہر جاتے ہیں کہ جو کچھ سامنے دکھائی دے رہا ہے، کیا حقیقت بھی صرف اتنی ہی ہے؟ یا پسِ پردہ کہانی کچھ اور ہے؟
گزشتہ روز کی سرخیاں اٹھا کر دیکھ لیجیے۔ ایک طرف اسلام آباد کے خوبصورت ماحول میں پاک-امریکہ مذاکرات کی بیٹھک لگی ہوئی ہے، تو دوسری طرف وزیرِ اعظم چین کی جانب سے ڈیجیٹل اکانومی ہب کے قیام کی تجویز کا والہانہ خیر مقدم کر رہے ہیں۔ پہلی نظر میں یہ سب کچھ ایک روشن اور خوشحال مستقبل کا پیش خیمہ دکھائی دیتا ہے۔ ڈیجیٹل انقلاب، برآمدات میں اضافہ، اور عالمی سرمایہ کاری— یہ وہ لفظی تراکیب ہیں جو کسی بھی مایوس قوم کے لیے امید کی کرن بن سکتی ہیں۔ کرکٹ کے میدانوں میں دھوم مچانے والے شاہد آفریدی کے لیے 'ہلالِ امتیاز' کا اعلان ہو یا مسلح افواج کے غازیوں کے لیے اعزازات، یہ سب ہمیں ایک زندہ اور متحرک معاشرے کا احساس دلاتے ہیں۔
مگر اسی تصویر کا ایک دوسرا رخ بھی ہے، جو پہلی نظر کے اس دھوکے کو یکسر چاک کر دیتا ہے۔
عوام کے لیے اصل خبر ڈیجیٹل ہب کی شاندار عمارت نہیں، بلکہ انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (IMF) کی طرف سے عائد کردہ وہ 11 نئی کڑی شرائط ہیں، جو خاموشی سے اس قوم کی معیشت کا گلا گھونٹنے کے لیے تیار کھڑی ہیں۔ گیس اور بجلی کے ٹیرف میں مزید اضافہ، اور اربوں روپے کے نئے ٹیکسز— یہ وہ تلخ حقیقتیں ہیں جو کسی بھی عام پاکستانی کے کچن کا بجٹ تباہ کرنے کے لیے کافی ہیں۔ ڈیٹا بتاتا ہے کہ فروری سے اب تک ہمارے ہاں پٹرول کی قیمتوں میں 56 فیصد اور ڈیزل میں 48 فیصد اضافہ ہوا ہے، جو کہ خطے کے دیگر ممالک کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے۔
سوچنے کی بات یہ ہے کہ کیا ہم ایک ایسا معاشرہ بن چکے ہیں جہاں عارضی ریلیف اور ظاہری نمائش کو اصل ترقی پر ترجیح دی جاتی ہے؟ جب حکومت حج آپریشنز اور مسلح افواج کے لیے ایندھن کی قیمتیں منجمد کرنے کا معاہدہ کرتی ہے، تو یہ ایک اچھا انتظامی قدم تو ہو سکتا ہے، لیکن اس کے پیچھے چھپی یہ حقیقت عیاں ہو جاتی ہے کہ عام آدمی اس بوجھ کو اٹھانے کے لیے اکیلا چھوڑ دیا گیا ہے۔ نقص تلاش کرنے کی عادت تو ہمارے معاشرے کا خاصہ رہی ہے، لیکن یہاں معاملہ صرف تنقید کا نہیں، بلکہ بقا کا ہے۔
اگر ہم عالمی افق پر نظر دوڑائیں، تو وہاں بھی "سوچ کا سفر" مفادات کے گرد ہی گھومتا نظر آتا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا دورہِ چین اور شی جن پنگ کے ساتھ بھاری تجارتی معاہدے یہ ثابت کرتے ہیں کہ دنیا کا اصل مذہب صرف اور صرف معاشی فائدہ ہے۔ چین کا امریکہ کو یہ مشورہ دینا کہ ایران کے ساتھ جنگ کو طول دینے کا "کوئی فائدہ نہیں"، اخلاقیات کے بجائے اس معاشی نقصان کے خوف پر مبنی ہے جو اس خطے میں پھیلی بدامنی سے جنم لے سکتا ہے۔ دوسری طرف، برطانیہ اور لاٹویا میں وزرائے اعظم کے خلاف اٹھنے والے سیاسی طوفان یہ بتاتے ہیں کہ جب اندرونی محاذ کمزور ہو، تو بیرونی دباؤ سلطنتوں کو ہلا کر رکھ دیتا ہے۔
ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ پہلی نظر کا تاثر اکثر ادھورا ہوتا ہے۔ چمکتے ہوئے ڈیجیٹل ہب، اعزازات کی تقاریب اور بلند بانگ دعوے اپنی جگہ، لیکن جب تک ہم اپنی معاشی بنیادوں کو آئی ایم ایف کے سہاروں سے آزاد نہیں کریں گے، تب تک یہ ترقی محض ایک سراب رہے گی۔ اصل اخلاقیات اور فہم و فراست کا تقاضا یہ ہے کہ ہم ظاہری نمائش کے سحر سے باہر نکلیں اور ان تلخ حقائق کا سامنا کریں جو ہماری دہلیز پر دستک دے رہے ہیں۔ ترقی کا سفر تب ہی شروع ہوتا ہے جب سوچ کے زاویے درست ہوں اور ترجیحات کا تعین کسی بیرونی دباؤ کے بغیر، اپنی عوام کی آسودگی کو سامنے رکھ کر کیا جائے۔

Comments