اسلام آباد اور راولپنڈی کے جم خانے: فٹنس کا بڑھتا رجحان اور اخلاقی معاشرتی تشوئش
---روما مھمود---
سینئر صحافی انصار عباسی نے حال ہی میں سوشل میڈیا پر لکھا ہے۔
"اسلام آباد کے جمز میں مرد و خواتین کی مشترکہ ایکسرسائز سے اخلاقی و معاشرتی مسائل جنم لے رہے ہیں۔ متعلقہ حکام فوری طور پر خواتین اور مردوں کے لیے علیحدہ اوقات مقرر کریں اور اس پر سختی سے عمل کروائیں۔
یہ بیان شائع ہوتے ہی بحث کی ایک نئی لہر اٹھی۔ ایک طرف معاشرتی اقدار اور غیرت کی حفاظت کی آواز، تو دوسری طرف ذاتی آزادی اور جدید طرزِ زندگی کی حمایت۔
Twin Cities میں جم خانوں کا موجودہ منظرنامہ
اسلام آباد اور راولپنڈی میں فٹنس کا رجحان تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ تخمینہ کے مطابق اسلام آباد میں 50 سے زائد اور راولپنڈی میں 40 سے زائد فعال جم خانے ہیں (بشمول بڑے چینز، مقامی اور خواتین مخصوص)۔ مجموعی طور پر 80 سے 150+ جم (چھوٹے بڑے ملا کر) فعال ہیں۔
اسلام آباد کے اہم مراکز
I-8 Markaz (Ginnastic Arena، i8 Active Gym، The Muscle Studio)، F-11 (Vostro World)، G-13، F-10، F-6/F-7 (Blue Area)، G-10، E-11 وغیرہ۔ یہاں بڑے پیمانے پر جدید سہولیات دستیاب ہیں۔
راولپنڈی کے اہم مراکز
Bahria Town (Safari Gym، Vision Fitness)، Satellite Town، 6th Road، Tulsa Road، Saddar اور Adyala Road پر متعدد جم فعال ہیں جیسے Hardstone Fitness، Obee’s Fitness، Body Flex وغیرہ۔
مخلوط بمقابلہ الگ نظام، حقیقت کیا ہے؟
زیادہ تر بڑے جم مخلوط ہیں لیکن خواتین کے لیے الگ ٹائمنگ (عام طور پر 10am-4pm یا 11am-3pm) رکھتے ہیں۔ کچھ جموں میں ladies-only area بھی موجود ہے۔ الگ الگ ladies-only جم (جیسے The Muscle Studio I-8) بھی دستیاب ہیں، مگر تعداد محدود ہے۔
بعض خواتین کا تجربہ ہے کہ مخلوط اوقات میں unwanted stares، discomfort یا harassment کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جو ان کے فٹنس کے جذبے کو متاثر کرتا ہے۔ خاندانوں میں بھی مخلوط جم پر پابندیاں عام ہیں۔ دوسری طرف، بہت سی تعلیم یافتہ اور کام کرنے والی خواتین اسے ذاتی انتخاب سمجھتی ہیں اور الگ ٹائمنگز کو اپنی آزادی پر پابندی قرار دیتی ہیں۔
حاضر ہیں بحث کے دونوں پہلو
حامیوں کا موقف
پاکستان ایک اسلامی معاشرہ ہے۔ پردہ، غیر محرم سے اجتناب اور اخلاقی حدود کی پاسداری فرض ہے۔ مخلوط جم میں ممکنہ فتنہ، معاشرتی تناؤ اور harassment کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ الگ ٹائمنگز نافذ کرنے سے خواتین کو محفوظ ماحول ملے گا اور مرد بھی بے تکلف ورزش کر سکیں گے۔
ناقدین کا موقف
فٹنس ذاتی صحت کا معاملہ ہے۔ حکومت کو harassment کی شکایات پر سخت قانون نافذ کرنا چاہیے، CCTV لازمی کرنا چاہیے، female trainers بڑھانے چاہییں، بجائے یہ کہ جمز کی کاروباری صلاحیت کم کر کے الگ ٹائمنگز تھوپ دی جائیں۔ یہ پرانی سوچ کو فروغ دے گا۔
کیا حل ہے ؟
لازمی الگ ٹائمنگ — تمام بڑے جم خانوں میں خواتین کے لیے🔹️ dedicated slots سختی سے نافذ کیے جائیں۔
Ladies-only سہولیات — پرائیویٹ سیکٹر کو ladies🔹️-only جمز کھولنے کی ترغیب دی جائے، سبسڈی یا آسان لائسنس دیے جائیں۔
بہتر ریگولیشن — تمام جموں میں CCTV، complaint🔹️ mechanism، code of conduct اور پروفیشنل ٹرینرز (خاص طور پر خواتین) لازمی قرار دیے جائیں۔
توازن کا اصول — جو خواتین مخلوط ماحول میں آرام دہ ہیں،🔹️ ان کے لیے آپشن موجود رہے، مگر اکثریت کی آسانی اور معاشرتی اقدار کو ترجیح دی جائے۔
فٹنس صحت مند معاشرے کی ضرورت ہے، لیکن یہ صحت صرف جسمانی نہیں بلکہ اخلاقی اور معاشرتی بھی ہونی چاہیے۔ اسلام آباد اور راولپنڈی جیسے شہروں میں جم خانوں کا فروغ خوش آئند ہے، مگر اسے بغیر حدود کے نہیں چھوڑا جا سکتا۔
حکام، جم مالکان، ٹرینرز اور صارفین سب کو مل کر ایسا توازن تلاش کرنا ہو گا جو نہ تو جدیدیت کو کچلے اور نہ ہی اسلامی و معاشرتی اقدار کو نظر انداز کرے۔ الگ ٹائمنگز کا نفاذ ایک ممکنہ راستہ ہے، مگر اس کے ساتھ آگاہی، بہتر نگرانی اور احترام کا ماحول بھی ضروری ہے۔
صحت مند رہو، حدود کا احترام کرو، اور معاشرے کو بہتر بناؤ۔

Comments