کون کہتا ہے کہ مستقبل بدلا جا سکتا ہے؟
---روما محمود---
کون کہتا ہے کہ مستقبل بدلا جا سکتا ہے؟
نا ممکن۔ کوئی دعا، کوئی کام، کوئی جدوجہد تقدیرِ الٰہی کو نہیں ٹال سکتی۔
ہم صرف مستقبل کے سراب میں زندہ ہیں۔
ہمیں صرف چند سالوں کی مہلت دی جاتی ہے وہاں تک پہنچنے کے لئے ۔
کتنے ہی لمہے میری زندگی میں ایسے آئے ۔جب ساری تقدیریں میرے سامنے کھول کر رکھ دی گیں ۔
میرا رویہ سامنے والے کے ساتھ اچانک بدل گیا ۔
جسے سامنے والوں نے بھی محسوس کیا ۔
مگر میرا کوئی رویہ ، کوئی دعا ، کوئی التجا ، کوئی غصہ ،کوئی ٹوٹکا تقدیر الہی کو نہیں ٹال سکا ۔
یہ الفاظ سخت لگتے ہیں، مگر حقیقت ہیں۔
انسان ہزاروں سال سے دو بڑی قوتوں کے درمیان جھول رہا ہے۔
ایک طرف اپنی مرضی اور کوشش کا گمان، دوسری طرف تقدیر کا یقین۔
ہم سوچتے ہیں کہ کل ہمارا ہے۔ ہم پلان بناتے ہیں، خواب دیکھتے ہیں، انشورنس کراتے ہیں، دعائیں مانگتے ہیں، محنت کرتے ہیں اور پھر ایک لمحے میں سب کچھ بدل جاتا ہے۔ حادثہ، بیماری، موت، سیاست، معیشت یا کوئی اچانک موڑ سب کچھ ہمارے "مستقبل" کو خاکستر کر دیتا ہے۔
ماضی قبر ہے، جیسا کہ ہم نے پہلے بات کی۔ اور مستقبل؟
مستقبل ایک سراب ہے۔
کبھی صحرا میں پیاسے مسافرکو پانی کے پیچھے دوڑتے دیکھا ہے۔
میں نے دیکھا ہے ۔
اپنے آپ کو ۔
ہم بھی کل کی خوشحالی، کل کی کامیابی، کل کی محبت اور کل کی سلامتی کے وہم میں دوڑ رہے ہیں۔ آج ہم اسی سراب کے پیچھے حال کو قربان کر دیتے ہیں۔
اسلامی تعلیمات میں تقدیر پر بہت زور ہے، مگر ساتھ ہی "کوشش" کا حکم بھی ہے۔
حضرت علیؓ کا قول ہے: "تقدیر پر یقین رکھو مگر اونٹ باندھ کر سوؤ۔" یعنی اللہ پر بھروسہ کرو، مگر ذمہ داری سے کام بھی کرو۔ پھر بھی کتنے لوگ ہیں جو دن رات محنت کرتے ہیں اور پھر بھی ناکام رہ جاتے ہیں؟
اور کتنے ہیں جو کچھ نہیں کرتے اور سب کچھ پا لیتے ہیں؟
یہ تضاد ہی تقدیر کی حقیقت ہے۔
مغربی فلسفہ میں بھی یہی بحث ہے۔ سارتر اور وجودی فلسفی کہتے ہیں کہ انسان آزاد ہے، مستقبل اس کے ہاتھ میں ہے۔ جبکہ سٹوائس (Stoics) کہتے ہیں کہ جو تم کنٹرول نہیں کر سکتے، اس پر فکر نہ کرو۔ جو ہونے والا ہے، وہ ہو کر رہے گا۔
ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ ہم "مستقبل" کو کنٹرول کرنے کا وہم پالتے رہتے ہیں۔ طالب علم سوچتا ہے کہ فلاں امتحان پاس کر لوں گا تو زندگی سنور جائے گی۔
مگر وہ پاس ہو کر بھی نامراد رہتا ہے۔
نوجوان سوچتا ہے شادی کے بعد سکون مل جائے گا۔ مگر نتیجہ طلاق کی صورت میں نکلتا ہے ۔
ملازم سوچتا ہے پروموشن کے بعد آرام آ جائے گا۔ اور پھر دیکھتے ہیں کہ سکون کہیں اور تھا۔
حقیقت یہ ہے کہ ہم صرف "اب" میں زندہ ہیں۔ گزشتہ لمحہ ماضی بن چکا، اگلا لمحہ مستقبل۔ جو لمحہ گزر رہا ہے، وہی ہمارا ہے۔ باقی سب وہم ہے۔
جو آج صحت مند ہے، کل کی بیماری کا سراب دیکھ رہا ہے۔
جو آج غریب ہے، کل کی دولت کا خواب دیکھ رہا ہے۔
جو آج تنہا ہے، کل کی محبت کا انتظار کر رہا ہے۔
اور جب کل آتا ہے تو نیا سراب تخلیق ہو جاتا ہے۔
اس لیے شاید سب سے بڑا حکیمانہ رویہ یہ ہے کہ کوشش کرو، مگر لگاؤ نہ رکھو۔
جدوجہد کرو جیسے سب کچھ تمہارے ہاتھ میں ہے، اور قبول کرو جیسے سب کچھ تقدیر کے ہاتھ میں ہے۔ یہ توازن ہی سکون دیتا ہے۔
مستقبل بدلا نہیں جا سکتا، کیونکہ جب وہ آتا ہے تو "حال" بن جاتا ہے۔ جو بدل سکتا ہے وہ صرف ہمارا رویہ ہے ۔
حال کے ساتھ ہمارا تعلق۔
اس سراب سے نکل کر آج کو جینا سیکھیں۔ دعا بھی کریں، محنت بھی کریں، مگر کل کے وہم میں آج کو نہ کھوئیں۔ کیونکہ جو لمحہ گزر گیا، وہ پھر کبھی واپس نہیں آئے گا
چاہے آپ کتنی ہی دعائیں کیوں نہ مانگیں۔
مستقبل ایک سراب ہے، حال ہی حقیقت ہے۔
اس حقیقت کو گلے لگا لیں کیونکہ تقدیر
کبھی نہیں بدلتی ۔

Comments