تو ان پر نہ آسمان رویا اور نہ زمین، اور نہ ہی انہیں مہلت دی گئی۔"
---روما محمود---
قرآنِ کریم کی ایک آیت میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ۔
"تو ان پر نہ آسمان رویا اور نہ زمین، اور نہ ہی انہیں مہلت دی گئی۔"
یہ آیت فرعون اور اس کے لشکر کے عبرت ناک انجام کے تناظر میں نازل ہوئی، لیکن اس کے پیغام کی وسعت رہتی دنیا تک کے لیے ایک تازیانہ ہے۔
جب زمین و آسمان بوجھ اتار پھینکتے ہیں۔
کائنات کا ذرہ ذرہ اپنے خالق کی تسبیح بیان کرتا ہے۔ انسان کو اس کائنات میں "اشرف المخلوقات" بنا کر بھیجا گیا، لیکن جب یہی انسان سرکشی اور تکبر کی انتہا پر پہنچ جاتا ہے، تو وہ کائنات کے فطری توازن کے لیے ایک بوجھ بن جاتا ہے۔
قرآن کی یہ آیت ہمیں بتاتی ہے کہ انسان کے اعمال کا تعلق صرف اس کی ذات تک محدود نہیں، بلکہ اس کے اثرات زمین و آسمان تک محسوس کیے جاتے ہیں۔
بے نام موت اور کائنات کی بیزاری ظاہر ہوتی ہے ۔
عام طور پر جب کوئی نیک انسان دنیا سے رخصت ہوتا ہے، تو احادیث کے مفہوم کے مطابق زمین کا وہ حصہ جہاں وہ سجدہ کرتا تھا اور آسمان کا وہ دروازہ جہاں سے اس کے نیک اعمال اوپر جاتے تھے، اس کی جدائی پر رنجیدہ ہوتے ہیں۔ لیکن ظالم اور متکبر کا معاملہ اس کے برعکس ہے۔
فرعون اور اس کے پیروکار جب غرق ہوئے، تو کائنات کے کسی گوشے نے ان کے لیے آنسو نہ بہائے۔ یہ اس بات کی علامت ہے کہ
زمین ان کے وجود سے بیزار تھی کیونکہ انہوں نے اللہ کی زمین پر فساد برپا کیا اور خلقِ خدا پر ظلم کیا۔
آسمان ان سے متنفر تھا کیونکہ ان کی طرف سے کبھی کوئی خیر کا کلمہ یا نیک عمل اوپر نہیں گیا۔
اور انہیں مہلت نہ دی گئی قانونِ قدرت کے ایک سخت پہلو کی نشاندہی کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ظالم کو رسی دراز کرتا ہے، اسے سنبھلنے کے مواقع دیتا ہے، لیکن جب ظلم کی ہنڈیا بیچ چوراہے پھوٹتی ہے، تو پھر توبہ کا دروازہ بند ہو جاتا ہے۔
فرعون نے بھی آخری وقت میں پکارا تھا، لیکن تب وقت ہاتھ سے نکل چکا تھا۔
یہ آیت صرف فرعون کے دور کا قصہ نہیں، بلکہ ہر اس شخص اور قوم کے لیے تنبیہ ہے جو اقتدار، دولت یا طاقت کے نشے میں بدمست ہو کر انسانیت کو ہیچ سمجھنے لگتے ہیں۔
انسان کو سوچنا چاہیے کہ اس کے جانے کے بعد دنیا اسے کس طرح یاد کرے گی؟
کیا زمین اس کے سجدوں کو یاد کرے گی یا اس کے ظلم کی داستانوں سے پناہ مانگے گی؟
آسمان پر ہمارا استقبال تبھی ہوگا جب یہاں سے کوئی "خیر" روانہ کی جائے گی۔
طاقت دائمی نہیں ہے۔ جو سمندر فرعون کے لیے راستہ دے سکتے تھے، وہی اسے نگلنے کی قوت بھی رکھتے ہیں۔
"نہ زمین روئی نہ آسمان" دراصل ایک ایسی تنہائی کا نام ہے جو انسان کو اپنی حقیقت پر غور کرنے کی دعوت دیتی ہے۔ یہ آیت ہمیں یاد دلاتی ہے کہ اصل کامیابی یہ نہیں کہ انسان دنیا میں کتنا بڑا نام پیدا کرتا ہے، بلکہ اصل کامیابی یہ ہے کہ جب وہ یہاں سے رخصت ہو تو کائنات کی ہر شے اس کی مغفرت کی دعا کرے، نہ کہ اس کے جانے پر سکون کا سانس لے۔
اللہ ہمیں زمین پر خیر پھیلانے والا بنائے تاکہ ہمارے جانے پر زمین و آسمان سوگوار ہوں، بیزار نہیں۔
نہ آسمان کو رونا آیا، نہ زمین کو رونا آیا
کبھی کبھی انسان کی تکلیف اتنی گہری ہوتی ہے کہ آسمان بھی اسے دیکھ کر آنکھیں موند لیتا ہے اور زمین بھی خاموشی سے منہ موڑ لیتی ہے۔ جیسے کوئی بڑا سانحہ ہوا ہو، کوئی بے پناہ ظلم ہوا ہو، مگر فطرت نے بھی آنسو بہانے سے انکار کر دیا ہو۔
جب کوئی شخص یا قوم اپنے درد کے ساتھ اکیلی رہ جائے، جب اس کی چیخیں آسمان تک نہ پہنچیں، جب اس کے آنسو زمین کی مٹی تک نہ مل سکیں، تو پھر کیا باقی رہ جاتا ہے؟
صرف ایک گہری، سنسنیاتی خاموشی۔
ہم نے دیکھا ہے کہ تاریخ کے کئی موڑوں پر "نہ آسمان کو رونا آیا" والا منظر سامنے آیا۔ جب معصوموں کا خون بہایا جاتا ہے، جب معاہدے توڑے جاتے ہیں، جب وعدوں کی لاشوں پر رقص کیا جاتا ہے، تو فطرت بھی شاید شرم سے سر جھکا لیتی ہے۔
بارش نہیں ہوتی، بادل نہیں چھاتے، ہوا بھی رک جاتی ہے۔ جیسے کائنات خود اس ظلم کا حصہ بننے سے انکار کر رہی ہو۔
مگر انسان؟ وہ تو جیتا رہتا ہے۔ وہ تو سانس لیتا رہتا ہے۔
زندگی کی دوڑ میں، سیاست کی بے رحمی میں، معاشرے کی بے حسی میں، کبھی کبھی لوگوں کو سانس لینے کی بھی مہلت نہیں ملتی۔ ایک حادثہ، ایک سازش، ایک فیصلہ اور پوری زندگی کا توازن بگڑ جاتا ہے۔
کوئی وقت نہیں ملتا زخم کو سنوارنے کا، کوئی لمحہ نہیں ملتا آنسو پوچھنے کا۔
بس ایک لامتناہی دوڑ شروع ہو جاتی ہے، جہاں درد بھی پیچھے رہ جاتا ہے اور انسان خود بھی۔
آج کے دور میں یہ درد عام ہے۔ غریب کا بچہ ہسپتال میں مر رہا ہے تو نہ آسمان روتا ہے نہ زمین۔ ایک نوجوان بے روزگاری کی آگ میں جل رہا ہے تو کوئی مہلت نہیں ملتی۔
ایک عورت گھر میں تشدد برداشت کر رہی ہے تو فطرت بھی خاموش تماشائی بن جاتی ہے۔ ہم سب اسی خاموشی کا حصہ بن چکے ہیں۔
مگر شاید یہی خاموشی ہمیں آواز بننے کی دعوت دیتی ہے۔ جب آسمان اور زمین رونے سے انکار کر دیں تو انسان کو خود رونے کا حق مل جاتا ہے۔ خود لکھنے کا، خود بولنے کا، خود کھڑے ہونے کا۔
جن کے درد پر آسمان نے آنکھیں بند کر لیں اور زمین نے منہ موڑ لیا۔
اب وقت آ گیا ہے کہ ہم خود آسمان بن جائیں اور ان کے لیے روئیں۔
اب وقت آ گیا ہے کہ ہم خود زمین بنیں اور ان کے درد کو اپنی مٹی میں جذب کریں۔
کیونکہ اگر ہم نے بھی خاموشی اختیار کر لی تو پھر واقعی نہ آسمان کو رونا آئے گا، نہ زمین کو۔

Comments