ماضی قبر ہے اور قبریں قائم و دائم نہیں رہتیں مگر کچھ قبریں صدیوں سے قائم ہیں۔
---روما محمود---
ماضی ایک قبر ہے۔ اس میں وہ سب کچھ دفن ہے جو ایک بار ہو چکا۔ خوشیاں، غم، کامیابیاں، ناکامیاں، محبتیں، دشمنیاں سب کچھ اسی قبر میں سوئے ہوئے ہیں۔
اور قبریں، چاہے کتنی ہی شاندار کیوں نہ ہوں، قائم و دائم نہیں رہتیں۔ ہوا، بارش، وقت اور زمین انہیں ڈھا دیتی ہے۔ کبھی کبھی نشان بھی باقی نہیں رہتا۔
ہم انسان عجیب مخلوق ہیں۔ ہم ماضی کی اس قبر پر بیٹھ کر روتے رہتے ہیں، اسے کھودتے رہتے ہیں، اس کی ہڈیوں کو سہلاتے رہتے ہیں اور سوچتے رہتے ہیں کہ شاید کوئی معجزہ ہو جائے اور وہ سب واپس آ جائے۔
سیاستدان ماضی کی عظمتوں کا راگ الاپتے ہیں، نوجوان پرانی محبتوں کی یاد میں جلتے ہیں، اور بڑھاپے میں لوگ ہر دوسری بات میں کہتے ہیں، "ہمارے زمانے میں تو..."۔ گویا ماضی کوئی جنت تھی جس سے ہم نکل آئے اور آج جہنم میں پھنس گئے ہیں۔
لیکن حقیقت یہ ہے کہ ماضی نہ جنت تھا نہ جہنم۔ وہ صرف ایک مرحلہ تھا۔ اس مرحلے نے ہمیں جو کچھ سکھایا، وہی ہمارا اصل سرمایہ ہے۔ باقی سب خاک ہے۔
رومن سلطنت، عثمانی خلافت، مغلیہ سلطنت، برطانوی راج سب قبریں ہیں جو آج صرف تاریخ کی کتابوں میں یا کھنڈرات کی شکل میں موجود ہیں۔ کوئی بھی طاقت، کوئی بھی شان، کوئی بھی شخص وقت کے سامنے نہیں ٹکا۔
آج کا پاکستان بھی اسی حقیقت سے گزر رہا ہے۔ ہمارا قومی بیانیہ اکثر ماضی کی قبر کو کھودنے پر مبنی نظر آتا ہے۔ کبھی دو قومی نظریے کی، کبھی علیحدگی کی، کبھی زوال کی، کبھی عروج کی۔ جبکہ اصل سوال یہ ہونا چاہیے کہ آج ہم کیا بن رہے ہیں اور کل کیا بننا چاہتے ہیں؟
ماضی سے سبق لینا چاہیے، مگر اس کی قبر پر بیٹھ کر آنسو بہانا نہیں چاہیے۔
ذاتی زندگی میں بھی یہی اصول کارفرما ہے۔ جو رشتہ ٹوٹ گیا، وہ ٹوٹ گیا۔
جو موقع ضائع ہو گیا، ہو گیا۔ جو غلطی ہوئی، ہوئی۔ اسے بار بار کھودنے سے صرف زخم تازہ ہوتے ہیں، شفا نہیں ملتی۔
جو لوگ ماضی میں جیتے رہتے ہیں، وہ حال کو کھو دیتے ہیں اور مستقبل کو بھی ہاتھ سے نکلنے دیتے ہیں۔
قبرستانوں میں جائیں تو سبق ملتا ہے۔ امیر و غریب، بادشاہ و فقیر، سب ایک ہی زمین میں برابر ہو چکے ہوتے ہیں۔ مرنے کے بعد کوئی فرق نہیں رہتا۔ زندہ رہتے ہوئے بھی اگر ہم ماضی کی قبر میں زندہ دفن رہیں تو کیا فرق رہ جاتا ہے؟
وقت ایک بے رحم دریا ہے۔ جو بہتا ہے، بہتا رہتا ہے۔ جو اس کے ساتھ بہتا ہے، وہ زندہ رہتا ہے۔ جو رک جاتا ہے، وہ ڈوب جاتا ہے۔ ماضی ہمیں جڑیں دیتا ہے، مگر جڑیں صرف وہیں رہنے کے لیے نہیں ہوتیں۔ وہ تو نئی شاخوں، نئے پھلوں اور نئی بلندیوں کے لیے ہوتی ہیں۔
اس لیے آج کے دن کو زندہ جینے کا عزم کریں۔ ماضی کی قبر پر پھول چڑھا کر آگے بڑھیں۔ کیونکہ قبریں قائم و دائم نہیں رہتیں، مگر جو سبق ان قبروں سے ملتا ہے، وہ ہمیشہ زندہ رہتا ہے۔
اب وقت ہے کہ ہم نئی عمارت کھڑی کریں نہ کہ پرانی قبروں پر بیٹھ کر ان کی تعظیم کرتے رہیں۔
قبریں قائم رہتی ہیں۔
صرف مٹی کے ڈھیر نہیں، بلکہ کچھ قبریں زمانے کی دھول اڑاتی ہوئی بھی کھڑی رہتی ہیں۔ صدیوں گزر جاتے ہیں، سلطنتیں ڈھر جاتی ہیں، زبانوں اور تہذیبوں کا رنگ بدل جاتا ہے، مگر وہ قبریں اب بھی لوگوں کے قدموں تلے ہیں۔
لوگ وہاں جاتے ہیں، سر جھکاتے ہیں، دعائیں مانگتے ہیں، منتیں مانگتے ہیں، آنسو بہاتے ہیں اور امید لے کر لوٹتے ہیں۔
یہ ایک عجیب تضاد ہے۔ ایک طرف حقیقت یہ ہے کہ سب کچھ فنا ہو جاتا ہے، ماضی قبر ہے اور قبریں عموماً ڈھر جاتی ہیں۔ دوسری طرف کچھ خاص قبریں وقت کی زد سے بچ جاتی ہیں۔ داتا گنج بخشؒ، حضرت علی ہجویریؒ، خواجہ معین الدین چشتیؒ، بابا فریدؒ، نظام الدین اولیاءؒ، شاہ عبداللطیف بھٹائیؒ ۔
ان کی قبریں صدیوں سے قائم ہیں۔ لاکھوں، کروڑوں لوگ ان کے در پر حاضر ہوتے ہیں۔ کوئی اولاد کی دعا مانگنے آتا ہے، کوئی شفا کے لیے، کوئی آرامِ قلب کے لیے، کوئی بس یوں ہی دل کی بھڑاس نکالنے۔
یہ قبریں کیوں قائم رہتی ہیں؟
یہ صرف اینٹ اور پتھر کی عمارت نہیں ہوتیں۔ یہ ایمان کا مرکز، امید کا ٹھکانہ اور محبت کا مجسمہ بن جاتی ہیں۔ جس شخص نے زندگی میں لوگوں کے دلوں میں گھر کر لیا، اس کی قبر بھی موت کے بعد زندہ رہ جاتی ہے۔
لوگ اسے مردہ نہیں سمجھتے بلکہ روح کی ایک زندهٔ جاوید نشانی مانتے ہیں۔ تصوف کی تعلیم یہی ہے کہ اولیاء اللہ کی روحیں موت کے بعد بھی زندہ رہتی ہیں اور اللہ کے بندوں کے لیے وسیلہ بنتی ہیں۔
یہ صرف مذہبی عقیدہ نہیں، انسانی نفسیات بھی ہے۔ انسان فطری طور پر لازوال کچھ چاہتا ہے۔ جب اپنی زندگی میں سب کچھ عارضی لگنے لگتا ہے تو وہ کسی ایسی جگہ کی طرف رجوع کرتا ہے جو وقت سے بالاتر لگتی ہو۔ قبر وہ جگہ بن جاتی ہے جہاں غریب اور امیر، تعلیم یافتہ اور ان پڑھ، سب برابر ہو جاتے ہیں۔
وہاں کوئی پروٹوکول نہیں، کوئی VIP انٹری نہیں صرف دل کی آواز اور آنکھوں کے آنسو۔
البتہ یہ بھی حقیقت ہے کہ کچھ قبریں لوگوں نے خود قائم رکھی ہیں۔ وہ انہیں اپنی ثقافت، شناخت اور روحانی ورثے کا حصہ بنا لیتے ہیں۔ جہاں عقیدت ہے، وہاں قبر زندہ رہتی ہے۔ جہاں عقیدت ختم ہو جاتی ہے، وہاں شاندار مقبرے بھی کھنڈرات بن جاتے ہیں۔
یہ قائم قبریں ہمیں دو باتیں سکھاتی ہیں۔
ایک یہ کہ نیکی اور محبت کی روشنی موت کے بعد بھی جلتی رہتی ہے۔ اگر تم لوگوں کے دلوں میں گھر کر لو تو تمہاری قبر بھی ڈھرنے نہیں پائے گی۔
دوسری یہ کہ انسان کو امید کی ضرورت ہوتی ہے۔ چاہے وہ امید کسی قبر سے ملے، کسی دعا سے ملے یا کسی خواب سے۔ جب تک انسان زندہ ہے، وہ امید سے نہیں ہار مانتا۔
ہم ماضی کی قبر پر بیٹھ کر رو سکتے ہیں، یا اسے ایک مقامِ دعا بنا سکتے ہیں۔
قبریں قائم رہتی ہیں تو اس لیے کہ ان میں بسا ہوا محبت کا وہ بیج اب بھی لوگوں کے دلوں میں پھل پھول رہا ہوتا ہے۔
جو قبر لوگوں کے دلوں میں زندہ رہے، وہ دنیا کی آنکھوں سے بھی اوجھل نہیں ہوتی۔
یہ وہ حقیقت ہے جو ہمیں عاجزی بھی سکھاتی ہے اور امید بھی۔
قبریں قائم رہتی ہیں اور کچھ لوگ ان قبروں سے جڑ کر خود بھی قائم رہ جاتے ہیں۔

Comments