پاکستان میں پی ایچ ڈی کی تعداد، مقدار بڑھی، معیار کہاں؟ -
--روما محمود---
پاکستان میں اعلیٰ تعلیم کے میدان میں گزشتہ دو دہائیوں میں ایک حیران کن تبدیلی آئی ہے۔ ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) کے پی ایچ ڈی کنٹری ڈائریکٹری (PCD) اور گیلپ پاکستان کے مطابق، پچھلے دس سالوں (تقریباً 2015 سے 2025 تک) میں 32,640 پی ایچ ڈی کی ڈگریاں 119 یونیورسٹیوں سے جاری کی گئیں۔ مجموعی طور پر اب تک 36,500 سے زائد پاکستانیوں نے یہ اعلیٰ ترین تعلیمی سند حاصل کر لی ہے۔ 2000 سے پہلے 70 سالوں میں صرف 2,700 پی ایچ ڈی ہوئے تھے، جبکہ 2000 کے بعد 34,000 سے زیادہ ڈگریاں جاری ہوئیں۔
شعبہ جات کے لحاظ سے تقسیم (پچھلے دس سال)
کیمسٹری: 2,400 (سب سے زیادہ)
ریاضی: 1,700
تعلیم: 1,500
اسلامیات: 1,300
اردو: 1,200
فزکس: 1,000
زولوجی اور بوٹنی: 900 کے قریب ہر ایک
معاشیات اور بائیو ٹیکنالوجی: 700 کے قریب ہر ایک
یہ اعداد و شمار واضح کرتے ہیں کہ بنیادی سائنسز اور روایتی شعبوں میں توجہ زیادہ ہے، جبکہ معیشت، ٹیکنالوجی اور جدید صنعتوں سے متعلق شعبوں میں پیداوار کم ہے۔
سال وار پیداوار (حالیہ رجحان)
2021: 2,696 پی ایچ ڈی
2022: 980
2023: صرف 12
2025 (اب تک): صرف 5
2019 میں پیداوار عروج پر تھی (تقریباً 2,700+ سالانہ)، لیکن اب تیزی سے کمی آئی ہے۔
یونیورسٹیوں کی کارکردگی
چند بڑی یونیورسٹیوں نے زیادہ تر پیداوار کی ہے:
قائد اعظم یونیورسٹی اسلام آباد (لیڈر)
پنجاب یونیورسٹی لاہور
کراچی یونیورسٹی
یونیورسٹی آف ایگریکلچر فیصل آباد (زراعت کے شعبے میں اہم کردار)
پنجاب میں سب سے زیادہ پی ایچ ڈی پروڈکشن ہوئی ہے، جبکہ اسلام آباد اور کراچی بھی اہم مراکز ہیں۔
بے روزگاری کا بحران
افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ 4,000 سے 5,000 سے زائد پی ایچ ڈی ہولڈرز بے روزگار ہیں (پی ایچ ڈی ڈاکٹرز ایسوسی ایشن اور ایچ ای سی کے حوالے سے)۔ ہر سال 1,400 کے قریب نئے ڈاکٹرز بے روزگاری کی فہرست میں شامل ہو رہے ہیں۔ اعلیٰ تعلیم یافتہ خواتین میں بے روزگاری کی شرح تقریباً 23.9 فیصد ہے۔ بہت سے پی ایچ ڈی ہولڈرز غیر متعلقہ نوکریوں میں لگے ہوئے ہیں یا بیرون ملک چلے جا رہے ہیں۔
ایچ ای سی کی 2002-2008 کی اصلاحات نے یونیورسٹیوں کی تعداد بڑھائی، ریسرچ آؤٹ پٹ میں اضافہ کیا اور بین الاقوامی جریدوں میں پاکستانی مقالوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا۔ تاہم معیار کے مسائل (پلاجرزم، کمزور نگرانی، غیر اصل تھیسسز) اور مارکیٹ کی ضروریات سے عدم مطابقت بڑے چیلنجز ہیں۔
پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک کو پی ایچ ڈی ہولڈرز کی ضرورت ہے، لیکن انہیں قومی ترقی سے جوڑنا ہوگا۔ پالیسی سازوں کو چاہیے کہ۔
ریسرچ کو صنعت، زراعت، ٹیکنالوجی اور معیشت سے لنک کریں۔
فنڈنگ بڑھائیں اور معیار کی سخت نگرانی یقینی بنائیں۔
پی ایچ ڈی پروگرامز کو مارکیٹ کی ضروریات کے مطابق ڈھالیں۔
بے روزگار سکالرز کے لیے خصوصی اسکیمز اور انڈسٹری لنک پروگرام شروع کریں۔
پی ایچ ڈی صرف ایک ڈگری نہیں، بلکہ قوم کی ذہنی سرمایہ کاری ہے۔ اگر ہم مقدار کے ساتھ معیار بھی یقینی بنائیں تو یہ نوجوان نسل کی ترقی اور پاکستان کی خوشحالی کا ذریعہ بن سکتی ہے۔
پاکستان میں پی ایچ ڈی ہولڈرز کی بے روزگاری اہم وجوہات کیا ہیں۔
پاکستان میں ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) کی اصلاحات کے نتیجے میں پی ایچ ڈی کی پیداوار میں نمایاں اضافہ ہوا، لیکن اس کے ساتھ ہی ہزاروں ڈاکٹرز بے روزگار یا انڈر ایمپلوئیڈ ہیں۔ ایچ ای سی اور پی ایچ ڈی ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کے مطابق 4,000 سے 5,000 سے زائد پی ایچ ڈی ہولڈرز بے روزگار ہیں، جبکہ کچھ رپورٹس اس تعداد کو 5,000+ بتاتی ہیں۔ یہ بحران صرف ذاتی مایوسی کا باعث نہیں بلکہ قومی انسانی سرمائے کا ضیاع ہے۔
پی ایچ ڈی بے روزگاری کی بنیادی وجوہات۔
تعلیم اور مارکیٹ کے درمیان mismatch (عدم مطابقت)
یونیورسٹیاں زیادہ تر روایتی شعبوں (جیسے کیمسٹری، اسلامیات، اردو، تعلیم) میں پی ایچ ڈی پروڈیوس کر رہی ہیں، جبکہ معیشت، صنعت، ٹیکنالوجی، زراعت، بائیو ٹیکنالوجی اور آئی ٹی جیسے شعبوں میں طلب کم ہے۔ نصاب outdated ہے، عملی سکلز (ٹیکنیکل، ڈیجیٹل، کمیونیکیشن) کی کمی ہے، اور انڈسٹری سے لنک نہ ہونے کی وجہ سے گریجویٹس مارکیٹ کی ضروریات پورا نہیں کر پاتے۔
جامعات میں محدود نوکریاں اور سینیارٹی سسٹم
زیادہ تر پی ایچ ڈی ہولڈرز یونیورسٹیوں میں نوکری تلاش کرتے ہیں، لیکن وہاں سینیارٹی اور بی پی ایس سسٹم کی وجہ سے نئی بھرتیاں محدود ہیں۔ سینئر فیکلٹی دہائیوں تک پوزیشنز سنبھالے رہتے ہیں۔ ٹینجر ٹریک سسٹم (TTS) میں بھی فنڈنگ کی کمی اور تنخواہوں میں فرق مسائل پیدا کر رہا ہے۔
پلاننگ کی کمی اور مقدار پر توجہ
ایچ ای سی کی 2000 کے بعد کی پالیسیاں تعداد بڑھانے پر مرکوز تھیں، معیار اور جذب کی صلاحیت پر نہیں۔ اربوں روپے خرچ کر کے سکالرز تیار کیے گئے، مگر ان کے مستقبل کا کوئی منصوبہ نہیں بنایا گیا۔ 2010 میں پلاننگ کمیشن نے بھی اسے "numbers game" قرار دیا تھا۔
انڈسٹری-اکیڈمیا لنک کا فقدان
نجی شعبہ اور صنعت ریسرچ کو فنڈ نہیں کرتی اور نہ ہی پی ایچ ڈی ہولڈرز کو ملازمت دیتی ہے۔ R&D کلچر کمزور ہے، جس کی وجہ سے گریجویٹس پرائیویٹ سیکٹر میں جگہ نہیں بنا پاتے۔
معاشی بحران اور روزگار کے مواقع کی کمی
معاشی سست روی، مہنگائی، انڈسٹریل بندش، توانائی بحران اور سرمایہ کاری کی کمی نے مجموعی روزگار کے مواقع کم کر دیے ہیں۔ حکومت کی نوکریاں محدود اور سفارش پر منحصر ہیں۔
کچھ تھیسسز میں originality کی کمی، plagiarism، اور کمزور نگرانی کی وجہ سے ڈگریاں مارکیٹ میں قابل قبول نہیں ہوتیں۔ بین الاقوامی سطح پر مقابلہ مشکل ہو جاتا ہے۔
خواتین پی ایچ ڈی ہولڈرز میں بے روزگاری کی شرح زیادہ (تقریباً 72% ایک سروے میں) ہے۔ علاوہ ازیں، بیرون ملک جانے والوں کی تعداد بھی محدود ہے۔
یہ بے روزگاری قومی ترقی کے لیے خطرہ ہے۔ حل کے لیے ایچ ای سی، یونیورسٹیاں اور حکومت کو مل کر کام کرنا ہوگا۔
نصاب کو مارکیٹ کی ضروریات کے مطابق ڈھالنا
انڈسٹری لنک پروگرامز اور انٹرن شپ
شروع کرنا
ریسرچ فنڈنگ بڑھانا اور قومی ترجیحات (زراعت، ٹیکنالوجی، معیشت) پر توجہ
بے روزگار پی ایچ ڈی ہولڈرز کے لیے خصوصی اسکیمز اور انٹرنیشنل مواقع
معیار کی سخت نگرانی اور پلاننگ کے ساتھ پیداوار
پی ایچ ڈی قوم کا ذہنی سرمایہ ہے۔ اگر اسے درست سمت دی جائے تو یہ ترقی کا انجن بن سکتا ہے، ورنہ مایوسی اور برین ڈرین جاری رہے گا۔

Comments