زنجیریں ذہن میں ہوتی ہیں، پاؤں میں نہیں

 



---روما محمود---



بہت سے لوگ جسمانی زنجیروں سے ڈرتے ہیں، مگر اصل زنجیریں تو وہ ہیں جو دماغ کے اندر جکڑی ہوتی ہیں۔ پاؤں کی زنجیر تو کٹ سکتی ہے، تالا توڑا جا سکتا ہے، دیوار پھلانگی جا سکتی ہے۔ مگر ذہن کی زنجیر؟ وہ تو خود ہماری سوچ، ہمارا خوف، ہمارا لگاؤ اور ہماری غلط فہمیاں بنتی ہیں۔


ایک شخص جیل میں بیٹھا ہو تو جسم قید ہے، مگر ذہن آزاد ہو سکتا ہے۔ دوسرا شخص محل میں رہتا ہو، لاکھوں روپے کما رہا ہو، دنیا بھر میں گھوم رہا ہو، مگر ذہن اس کی قید خانے سے بھی زیادہ تنگ ہو۔ ایک ہی جگہ بیٹھ کر وہ لاکھوں جگہوں پر پھنسا رہتا ہے ۔



 ماضی کے افسوس میں، مستقبل کے ڈر میں، لوگوں کی رائے میں، اور "اگر ایسا ہو جائے تو" کی سوچ میں۔

زنجیرِ خواہش سب سے مضبوط ہوتی ہے۔


جتنی زیادہ خواہشیں، اتنی ہی بھاری زنجیریں۔ ایک نئی گاڑی خرید لی تو اب بڑی والے کی خواہش، ایک عہدہ مل گیا تو اب اگلے کا دھوکا، ایک رشتہ جوڑ لیا تو اب اس کی زنجیرِ توقعات۔ ہم خود کو یہ کہتے ہیں کہ "یہ تو صرف ایک چھوٹی سی چیز ہے" مگر ہر چھوٹی چیز ایک اور کڑی بن جاتی ہے۔


سب سے خطرناک زنجیر "کیا سوچیں گے لوگ" کی ہوتی ہے۔

اس زنجیر نے کتنے خواب توڑے ہیں، کتنے راستے بند کیے ہیں، کتنے لوگوں کو اندرونی طور پر ہلاک کر دیا ہے۔ ہم آزاد نہیں ہوتے کیونکہ ہم دوسروں کی نظر میں آزاد نظر آنا چاہتے ہیں۔


حقیقت یہ ہے کہ جب تک ذہن آزاد نہ ہو، پاؤں کہیں بھی جائیں، قید ساتھ ساتھ چلتی ہے۔

ایک غریب مزدور جو اپنے کام میں مطمئن ہے، وہ ایک امیر تاجر سے زیادہ آزاد ہو سکتا ہے جو راتوں کو سودوں کی فکر میں سو نہیں پاتا۔

زنجیریں کاٹنے کا واحد طریقہ یہ ہے کہ پہلے یہ تسلیم کیا جائے کہ وہ پاؤں میں نہیں، سر کے اندر ہیں۔

جب آپ یہ مان لیں کہ آپ کی اصل قید آپ کی سوچ ہے، تب ہی آپ اسے تبدیل کر سکتے ہیں۔


جو چیز آپ کو سب سے زیادہ ڈراتی ہے، اس کا سامنا کریں۔

جو چیز آپ کو سب سے زیادہ چاہیے، اس سے تھوڑا فاصلہ رکھیں۔

جو آوازیں آپ کے سر میں گونجتی ہیں ("نہیں کر سکتے، نہیں ہونا چاہیے، کیا ہوگا") انہیں خاموش کریں۔

زنجیریں ذہن میں ہوتی ہیں، پاؤں میں نہیں۔

اور ذہن وہی ہے جسے کوئی تالا نہیں لگ سکتا  سوائے خود ہمارے۔

جب ایک بار یہ بات سمجھ آ جائے تو دنیا بدل جاتی ہے۔

جیل وہی رہتی ہے، مگر قیدی آزاد ہو جاتا ہے۔


Comments

Popular posts from this blog

کالاباغ ڈیم پر اعتراض کا جواب۔​کالا باغ ڈیم چشمِ دید گواہی اور قومی ضرورت کا پکارتا سچ ​

ایک درخت، کئی نسلوں کی یادیں

ادھا چمچ ہلدئ کے فوائد۔