جب اللہ ہر چیز سے بے نیاز کر دے۔ بے نیازی ہی بے نیازی ہے ۔
--- روما محمود---
"ہائے بے نیازی ہی بے نیازی ہے
ہر مات میں جانے کیسی بازی ہے"
جب انسان کی روح اس مقام پر پہنچ جائے جہاں اسے کائنات کی وسعتیں چھوٹی اور اللہ کی ذات سب سے بڑی نظر آنے لگے، تو اسے "بے نیازی" کہتے ہیں۔
یہ وہ حالت ہے جہاں دل دنیاوی سہاروں، لوگوں کی واہ واہ اور حالات کے جبر سے آزاد ہو جاتا ہے۔
انسانی نفسیات کا المیہ یہ ہے کہ وہ اپنی بقا کے لیے ہمیشہ کسی نہ کسی سہارے کی تلاش میں رہتا ہے۔ کبھی ہم دولت کے بل بوتے پر خود کو محفوظ سمجھتے ہیں، تو کبھی رشتوں کی بیساکھیوں پر اپنی انا کا بوجھ ٹکا دیتے ہیں۔ لیکن زندگی کے سفر میں ایک مقام ایسا آتا ہے جہاں قدرت ہمیں یہ سبق سکھاتی ہے کہ "سہارے" دراصل زنجیریں ہوتے ہیں۔
اور پھر وہ وقت آتا ہے جب اللہ تعالیٰ اپنے بندے کو چن لیتا ہے کہ اسے دنیا کے ہر خوف اور ہر لالچ سے "بے نیاز" کر دے۔
بے نیازی کا مطلب یہ نہیں کہ انسان کے پاس کچھ نہ رہے، بلکہ اس کا اصل مفہوم یہ ہے کہ انسان کے پاس سب کچھ ہو، مگر اس کا دل کسی چیز کے کھونے کے ڈر سے خالی ہو جائے۔
جب اللہ کسی کو بے نیاز کرتا ہے، تو سب سے پہلے اس کے دل سے "لوگ کیا کہیں گے" کا خوف نکال دیتا ہے۔
یہ وہ پہلی آزادی ہے جو انسان کو ایک نئی زندگی عطا کرتی ہے۔ ہم ساری عمر دوسروں کو خوش کرنے اور معاشرے کے تراشے ہوئے معیاروں پر پورا اترنے کی تگ و دو میں خود کو گنوا دیتے ہیں، لیکن جب تعلق صرف "خالق" سے جڑ جائے، تو مخلوق کی تنقید اور تعریف دونوں بے معنی ہو جاتی ہیں۔
حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا قول ہے کہ "تمہارا اصل زہد یہ ہے کہ تم دنیا سے اتنے دور ہو جاؤ کہ نہ اس کے ملنے پر خوشی ہو اور نہ چھن جانے پر غم۔" یہ وہ مقامِ بے نیازی ہے جہاں انسان کو احساس ہوتا ہے کہ رزق دینے والا، عزت دینے والا اور راستہ دکھانے والا صرف ایک ہی ہے۔ جب یہ یقین پختہ ہو جائے، تو انسان کے لہجے میں وہ ٹھراو اور طبیعت میں وہ سکون آ جاتا ہے جو کسی بادشاہ کے پاس بھی نہیں ہوتا۔
جدید دور میں، جہاں مادہ پرستی نے ہمیں برانڈز، گاڑیوں اور سوشل میڈیا کے لائیکس کا غلام بنا دیا ہے، وہاں بے نیازی ایک بہت بڑی نعمت ہے۔ ہم "کیکڑا سوچ" (Crab Mentality) کے حامل معاشرے میں رہتے ہیں جہاں ایک دوسرے کو نیچے کھینچنا رواج بن چکا ہے۔
ایسے میں وہ شخص سب سے زیادہ طاقتور ہے جسے کسی سے کوئی توقع نہ ہو۔ جس کی توقعات اللہ سے جڑ جائیں، اسے پھر زمانے کی ٹھوکریں گرا نہیں سکتیں۔
اللہ جب کسی کو بے نیاز کرتا ہے، تو اسے "کفایت" کی دولت سے نواز دیتا ہے۔ اسے تھوڑا بھی بہت لگنے لگتا ہے اور وہ دوسروں کے دسترخوان پر نظر رکھنے کے بجائے اپنے نصیب پر شاکر ہو جاتا ہے۔
یہ بے نیازی دراصل اللہ کی محبت کا وہ تحفہ ہے جو صرف ان کو ملتا ہے جنہوں نے بارہا ٹوٹ کر صرف اسی کو پکارا ہو۔
سچ تو یہ ہے کہ جب اللہ ہر چیز سے بے نیاز کر دے، تو انسان کو پہلی بار اپنی اصل قیمت کا اندازہ ہوتا ہے۔ اسے سمجھ آ جاتی ہے کہ وہ مٹی کا ایک ایسا ذرہ ہے جس کے پیچھے کائنات کے مالک کا ہاتھ ہے۔ پھر نہ اسے ماضی کے پچھتاوے ستاتے ہیں اور نہ مستقبل کے اندیشے۔
وہ حال کے لمحے میں اللہ کی رضا کے ساتھ مسکراتا ہوا چلتا رہتا ہے، کیونکہ اسے معلوم ہوتا ہے کہ جس کا کوئی نہیں، اس کا اللہ ہے، اور جس کا اللہ ہے، اسے پھر کسی اور کی ضرورت ہی کیا؟

Comments