عزم و استقلال کا روشن مینار۔ "اگر میرے ایک ہاتھ میں چاند اور دوسرے میں سورج رکھ دیا جائے..."
---روما محمود---
انسانی تاریخ میں بعض جملے ایسے ہوتے ہیں جو صرف الفاظ کا مجموعہ نہیں ہوتے، بلکہ وہ نظریے، ایمان اور غیر متزلزل عزم کی ایسی فصیل ہوتے ہیں جن سے ٹکرا کر مصلحتوں اور ترغیبات کے بڑے بڑے طوفان پاش پاش ہو جاتے ہیں۔
جب تاریخ کے سب سے عظیم اور سچے انسان، سرورِ کائنات حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ نے اپنے شفیق چچا ابوطالب کے سامنے قریشِ مکہ کی پیشکش کے جواب میں یہ الفاظ کہے: "اے میرے چچا! خدا کی قسم، اگر یہ لوگ میرے ایک ہاتھ میں سورج اور دوسرے ہاتھ میں چاند بھی لا کر رکھ دیں کہ میں اس دعوت (حق) کو چھوڑ دوں، تو میں تب بھی اس سے پیچھے نہیں ہٹوں گا، یہاں تک کہ یا تو اللہ اس دین کو غالب کر دے یا میں اسی راہ میں جان دے دوں۔" تو گویا کائنات نے عزم و استقلال کا وہ سب سے اونچا معیار دیکھ لیا جس کی نظیر نہ پہلے کبھی ملتی تھی اور نہ قیامت تک مل سکے گی۔
یہ جملہ محض ایک تاریخی جواب نہیں ہے، بلکہ یہ رہتی دنیا تک ہر اس سچے انسان، مصلح اور داعی کے لیے ایک ایسی مشعلِ راہ ہے جو معاشرے میں کسی مثبت تبدیلی یا حق کی آواز بلند کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔
ترغیب اور لالچ کا سب سے بڑا تلاطم
مکہ کے سرداروں نے سوچا تھا کہ ہر انسان کی کوئی نہ کوئی قیمت ہوتی ہے
۔
کسی کو دولت چاہیے، کسی کو خوبصورت عورت، اور کسی کو اقتدار اور سرداری۔ انہوں نے یہ تمام چیزیں آپ ﷺ کے سامنے ڈھیر کر دیں تاکہ آپ ﷺ اپنے مقصد سے پیچھے ہٹ جائیں۔ لیکن آپ ﷺ کا جواب مادی کائنات کی وسعتوں سے بہت آگے کا تھا۔
سورج اور چاند، عربی استعارے میں کائنات کی سب سے قیمتی، روشن اور ناقابلِ پہنچ چیزیں ہیں۔ آپ ﷺ نے واضح کر دیا کہ اگر تم کائنات کی کل کائنات بھی میری مٹھی میں لا کر بند کر دو، تو بھی میرے ایمان اور مقصد کی قیمت اس سے کہیں زیادہ ہے۔
سمجھوتہ پرستی (Compromise) کے خلاف اعلانِ جنگ
آج کی جدید دنیا میں ہم دیکھتے ہیں کہ لوگ اپنے نظریات، اپنے اصول اور اپنے ضمیر کا سودا بہت چھوٹی چھوٹی چیزوں کے بدلے کر لیتے ہیں۔ پبلک لائف ہو، صحافت ہو، سیاست ہو یا عام معاشرتی زندگی—معمولی سا دباؤ یا چند مراعات انسان کو اپنے موقف سے پیچھے ہٹنے پر مجبور کر دیتی ہیں۔ مصلحت پسندی کو 'دانشمندی' کا نام دے دیا گیا ہے۔
ایسے مسموم ماحول میں یہ نبویؐ اصول ہمیں سکھاتا ہے کہ سچائی، اصول پسندی اور نظریے پر کوئی 'مجھوتہ' (Compromise) نہیں ہو سکتا۔ اگر آپ حق پر ہیں، تو پھر پوری دنیا ایک طرف اور آپ کا عزم ایک طرف ہونا چاہیے۔
مقصد سے سچی محبت اور دیوانگی
جب تک انسان اپنے مقصد کے ساتھ اس حد تک مخلص نہ ہو کہ اسے دنیا کی ہر آسائش اپنے مقصد کے سامنے ہیچ نظر آنے لگے، تب تک وہ کوئی بڑا انقلاب برپا نہیں کر سکتا۔ تاریخ گواہ ہے کہ دنیا میں جتنی بھی تحریکیں کامیاب ہوئیں اور جنہوں نے انسانیت کا رخ موڑا، ان کے پیچھے ایسے ہی مٹھی بھر لوگ تھے جن کے عزم کے سامنے چاند اور سورج کی چمک بھی ماند پڑ جاتی تھی۔ وہ نظریاتی لوگ تھے، مادی فائدے کے اسیر نہیں۔
ہمارے عہد کا المیہ اور اس نظریے کی ضرورت
آج ہم جس دور سے گزر رہے ہیں، وہاں نظریات کی قحط سالی ہے۔ حق اور سچ کی بات کرنے والوں کو دھمکیوں سے زیادہ 'ترغیبات' کے ذریعے خاموش کرایا جاتا ہے۔
کہیں عہدوں کا لالچ ہے، کہیں مالی مفادات کا جال ہے اور کہیں معاشرتی رتبے کی چمک۔ انسان کا ضمیر خریدنے کے لیے منڈیاں سجی ہوئی ہیں۔
ایسے میں اس تاریخی اور انقلابی جملے کی روح کو اپنے اندر بیدار کرنے کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔ ہمیں اپنے نوجوانوں، اپنے قلم کاروں اور اپنے قائدین میں یہ سوچ پیدا کرنی ہوگی کہ
اصول بکاؤ مال نہیں ہوتے۔
سچائی کسی عارضی فائدے کی محتاج نہیں ہوتی۔
اگر ضمیر زندہ ہو، تو کائنات کی بڑی سے بڑی طاقت بھی آپ کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور نہیں کر سکتی۔
"ایک ہاتھ میں چاند اور دوسرے میں سورج" کا استعارہ ہمیں ایک ایسے کردار کی دعوت دیتا ہے جو فولاد کی طرح مضبوط ہو اور جس کی جڑیں اس کے نظریے میں اتنی گہری ہوں کہ کوئی مادی لالچ اسے اکھاڑ نہ سکے۔ یہ جملہ سکھاتا ہے کہ زندگی صرف جینے کا نام نہیں ہے، بلکہ کسی اعلیٰ مقصد کے لیے جینے اور اسی کے لیے ڈٹ جانے کا نام ہے۔
جب انسان اس مادی دنیا کی لالچ اور خوف سے آزاد ہو جاتا ہے، تو وہ تاریخ کا وہ روشن باب بن جاتا ہے جسے وقت کی دھول کبھی دھندلا نہیں سکتی۔

Comments