شیخ چلی کے منصوبے اور میں اور میرے منصوبے

 




---روما محمود---

آج کل جب بھی کوئی بڑا خواب دیکھتی ہوں یا کوئی "زبردست" منصوبہ سوچتی ہوں تو فوراً شیخ چلی صاحب یاد آجاتے ہیں۔ واہ بھائی، وہ تو منصوبوں کے بادشاہ تھے۔ میں تو ان کی چھوٹی بہن لگتی ہوں۔

صبح اٹھتے ہی دل میں خیال آیا: "بھائی ایک اچھا سا آن لائن بزنس شروع کرتے ہیں۔" دس منٹ بعد شیخ چلی میرے کندھے پر ہاتھ رکھ کر بولے، "بیٹی، پہلے ایک بڑا سا گھر بنا لو آسمان میں، پھر اس میں دکان کھول لینا۔" میں ہنس پڑئ۔



لیکن سوچا تو سچ بھی تو یہی ہے۔ ہمارے منصوبے بھی تو اکثر آسمان کی طرف اڑتے ہیں اور زمین پر گر کر ٹکڑے ٹکڑے ہو جاتے ہیں۔

شیخ چلی کا مشہور منصوبہ تھا کہ وہ ستارے پکڑ کر بیچیں گے۔ میرا منصوبہ تھا کہ یوٹیوب پر وی لاگ بنا کر راتوں رات مشہور ہو جاؤں گی۔ دونوں میں فرق صرف اتنا ہے کہ شیخ چلی کم از کم کچھ کرتے تو تھے ۔

کبھی چھت پر چڑھ کر جال پھیلاتے، کبھی بادلوں سے بات کرتے۔ میں تو سوچتی ہوں، پھر فون اٹھا کر ریل دیکھنے لگ جاتی ہوں۔

گھر میں گھومتے ہوئے جب گرمی میں پسینہ بہتا ہے تو خیال آتا ہے، "ایک اچھی سی ایئر کنڈیشنڈ دکان کھول لیں۔" شیخ چلی فوراً سامنے آ کر کہتے ہیں، "ارے پاگل! پہلے سورج سے معاہدہ کر لو کہ وہ گرمی نہ دے، پھر دکان کھولنا۔"

ہمارا مسئلہ بھی یہی ہے۔ منصوبے بہت بڑے، عمل صفر۔ شیخ چلی کم از کم اپنے منصوبوں پر عمل تو کرتے تھے، چاہے نتائج کتنے بھی ہلکے پھلکے کیوں نہ ہوں۔

ہم منصوبہ بناتے ہیں، واٹس ایپ سٹیٹس لگاتے ہیں "بڑا کام شروع کر رہا ہوں"، پھر تین دن بعد بھول جاتے ہیں۔

شیخ چلی صاحب سے ایک بات ضرور سیکھنی چاہیے ۔

وہ اپنے منصوبوں کی ناکامی پر بھی اتنا زور دار قہقہہ لگاتے کہ پورا گاؤں ہنس پڑتا۔ ہم ناکامی پر افسردہ ہو جاتے ہیں، ڈپریشن میں چلے جاتے ہیں۔

اب میں نے فیصلہ کیا ہے۔ جب بھی کوئی نیا "زبردست" منصوبہ سوچوں گی تو شیخ چلی کو یاد کروں گی اور خود سے پوچھوں گی "کیا یہ شیخ چلی والا منصوبہ تو نہیں؟"

اگر ہاں، تو تھوڑا سا عمل ضرور شامل کر لوں گی۔ کیونکہ خواب دیکھنا تو سب کرتے ہیں، لیکن شیخ چلی کی طرح انہیں پورا کرنے کی کوشش کرنے والے کم ہی ہوتے ہیں۔


​بچپن میں دادی اماں سے شیخ چلی کے قصے سن کر ہم سب خوب ہنسا کرتے تھے۔ وہ فرضی کہانی تو آپ کو یاد ہی ہوگی کہ شیخ چلی سر پر انڈوں کا ٹوکرہ اٹھائے جا رہے ہیں اور خیالی پلاؤ پکاتے جا رہے ہیں۔

"انڈوں سے چوزے نکلیں گے، مرغیاں بنیں گی، انہیں بیچ کر بھینس لوں گا، دودھ بیچ کر محل بناؤں گا، شادی ہوگی، بچے ہوں گے، اور جب بچے ضد کریں گے تو میں یوں سر ہلا کر کہوں گا 'نہوں'..." اور بس، اسی 'یوں' کے چکر میں سر کا ٹوکرہ نیچے، انڈے ٹوٹ گئے اور محل بننے سے پہلے ہی زمین بوس ہو گیا۔

​ہم سب شیخ چلی کی اس نادانی پر مسکراتے تھے، مگر وقت گزرنے کے ساتھ جب زندگی کی حقیقتیں سامنے آئیں، تو احساس ہوا کہ ہم میں سے ہر انسان کے اندر ایک چھوٹا سا "شیخ چلی" چھپا ہوا ہے، جو روز ایک نیا انڈوں کا ٹوکرہ سر پر اٹھائے خیالی محل تعمیر کرتا ہے۔

​اگر میں اپنے گریبان میں جھانک کر دیکھوں، تو میری زندگی بھی ان ادھورے منصوبوں اور خیالی عمارتوں سے الگ نہیں۔ نئے سال کا آغاز ہو، کوئی نیا مہینہ یا محض ایک نئی صبح، ہمارے منصوبوں کی فہرست کسی عالمی ادارے کے چارٹر سے کم نہیں ہوتی۔

"کل سے روزانہ پانچ کلومیٹر واک ہوگی، مطالعے کے لیے دو گھنٹے مخصوص ہوں گے، تحریر و قلم کی دنیا میں ایک نیا شاہکار تخلیق پائے گا، اور رات کو وقت پر سویا جائے گا۔"

​یہ سوچتے ہوئے ذہن میں کامیابی کا ایک پورا خاکہ تیار ہو جاتا ہے۔ ہم خود کو ایک کامیاب، متوازن اور مثالی انسان کے روپ میں دیکھ کر دلی طور پر اتنے خوش ہو جاتے ہیں جیسے یہ سب سچ مچ ہو چکا ہو۔

لیکن پھر کیا ہوتا ہے؟ صبح آنکھ کھلتی ہے تو الماری سے جاگنگ شوز نکالنے کے بجائے ہم موبائل فون اٹھا لیتے ہیں، اور سکرولنگ کی دنیا میں گم ہو کر وہ پورا منصوبہ "انڈوں کے ٹوکرے" کی طرح سڑک پر جا گرتا ہے۔

​جدید نفسیات میں شیخ چلی کے اس رویے کو Maladaptive Daydreaming (منفی حد تک خیالی دنیا میں رہنا) یا محض سستی اور ٹال مٹول (Procrastination) کا نام دیا جاتا ہے۔ انسان کا دماغ بہت عیار ہے۔ یہ حقیقت میں محنت کرنے کے بجائے، صرف کامیابی کے تصور سے ہی وہ "ڈوپامائن" (خوشی کا ہارمون) حاصل کر لیتا ہے جو اصل کامیابی کے بعد ملنا چاہیے تھا۔

نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ہم سوچتے بہت کچھ ہیں، مگر عمل کے میدان میں صفر رہ جاتے ہیں۔

​مگر کیا شیخ چلی ہونا سراسر نقصان دہ ہے؟ شاید نہیں۔ خواب دیکھنا، منصوبے بنانا اور مستقبل کے محل تعمیر کرنا انسانی فطرت کا حسن ہے۔ اگر انسان کے اندر کا شیخ چلی مر جائے، تو امید کا دامن ہاتھ سے چھوٹ جائے۔ بڑی بڑی ایجادات، لازوال تحریریں اور عظیم منصوبے سب سے پہلے کسی نہ کسی کے ذہن میں ایک "خیالی پلاؤ" کی صورت میں ہی پکتے ہیں۔

خرابی وہاں پیدا ہوتی ہے جہاں ہم پاؤں زمین پر رکھنے کے بجائے صرف ہوا میں ہی محل بنانے کو زندگی کا مقصد سمجھ لیں۔

​آج کی تیز رفتار اور ڈیجیٹل دنیا میں، جہاں ہر طرف کامیابی کی چمک دمک دکھائی دیتی ہے، ہمارے اندر کا شیخ چلی مزید متحرک ہو گیا ہے۔ ہم دوسروں کو دیکھ کر راتوں رات امیر ہونے، یوٹیوب چینل ہٹ کرنے یا ایک ہی دن میں کوئی بڑا معرکہ مارنے کے منصوبے تو بناتے ہیں، لیکن اس کے پیچھے چھپی کڑی محنت سے نظریں چرا جاتے ہیں۔

​دادی اماں کی کہانی کا سبق یہی تھا کہ سر پر ٹوکرہ ہو تو نظریں راستے کے پتھروں پر ہونی چاہئیں، نہ کہ آنے والی بھینس اور محل پر۔

​میں نے بھی اب اپنے اندر کے شیخ چلی
سے ایک معاہدہ کر لیا ہے: "منصوبے ضرور بناؤ، خوابوں کے محل بھی تعمیر کرو، لیکن شرط یہ ہے کہ اینٹیں لگانے کے لیے ہاتھ پاؤں کو بھی زحمت دینا ہوگی۔"

کیونکہ تاریخ گواہ ہے کہ دنیا صرف ان منصوبوں کو یاد رکھتی ہے جنہیں عمل کی زبان نصیب ہو، ورنہ خیالی انڈے ٹوٹنے کی آواز کبھی اخبارات کی سرخیاں نہیں بن پاتی۔

Comments

Popular posts from this blog

کالاباغ ڈیم پر اعتراض کا جواب۔​کالا باغ ڈیم چشمِ دید گواہی اور قومی ضرورت کا پکارتا سچ ​

ایک درخت، کئی نسلوں کی یادیں

ادھا چمچ ہلدئ کے فوائد۔