دائرے کا سفر اور اشرافیہ کا طواف ،جب قومی اعزازات ’ویگ ہال‘ بن جائیں ​

 



---روما محمود---




​کہتے ہیں کہ صحرا میں بھٹک جانے والے مسافروں کی سب سے بڑی نشانی یہ ہوتی ہے کہ وہ میلوں پیدل چلنے کے بعد بھی، جب تھک کر پیچھے دیکھتے ہیں، تو انہیں اپنے ہی پیروں کے نشان ایک دائرے کی شکل میں ملتے ہیں۔ وہ سفر تو کرتے ہیں، پسینہ بھی بہاتے ہیں، پاؤں بھی لہولہان ہوتے ہیں، لیکن منزل تک نہیں پہنچ پاتے کیونکہ وہ ایک ہی دائرے کا طواف کر رہے ہوتے ہیں۔

​آج پاکستان کے سماجی، سیاسی اور سب سے بڑھ کر ’اعزازات‘ کے شعبے کو دیکھ کر بالکل یہی گبھراہٹ اور وحشت محسوس ہوتی ہے۔ جب ہر سال قومی اعزازات (صدارتی ایوارڈز، تمغۂ امتیاز، حسنِ کارکردگی) کی فہرست سامنے آتی ہے، تو عام پاکستانی کا سر چکرا جاتا ہے۔



ایسا لگتا ہے کہ ہم ایک ایسے شخصی اور طبقاتی دائرے (Vicious Cycle) میں پھنس چکے ہیں جہاں چند چہرے، چند نام اور چند خاندان ہی گھوم پھر کر دوبارہ سامنے آ جاتے ہیں۔ صبح جہاں سے سفر شروع ہوتا ہے، شام کو قوم خود کو اسی مقام پر کھڑی پاتی ہے۔

​یہ منظر دیکھ کر تاریخ کے صفحات خودبخود ذہن کے پردے پر لہرانے لگتے ہیں اور بنی اسرائیل کا وہ پینتالیس سالہ سفر یاد آ جاتا ہے، جب وہ صحرائے سینا میں سزا کے طور پر بھٹکنے پر مجبور کیے گئے تھے۔ صبح اٹھ کر پورا قبیلہ سفر شروع کرتا، دن بھر خاک چھانتا، اور شام کو جب خیمے لگانے کا وقت آتا تو معلوم ہوتا کہ وہ اسی جگہ واپس پہنچ چکے ہیں جہاں سے صبح چلے تھے۔

وادیٔ سینا اور اس میں بنی اسرائیل کے چالیس سالہ بھٹکنے کا واقعہ (جسے اسلامی تاریخ اور قرآنِ پاک میں "تِیہہ" کہا گیا ہے) انسانی نفسیات، قانونِ قدرت اور ایک قوم کے عروج و زوال کی ایک متبادل اور گہری داستان ہے۔ یہ واقعہ صرف ایک جغرافیائی سفر نہیں تھا، بلکہ ایک ذہنی اور اخلاقی قید کا قصہ تھا۔

​جب اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ذریعے بنی اسرائیل کو فرعون کی صدیوں پرانی غلامی اور ظلم سے نجات دلائی اور معجزاتی طور پر سمندر پار کروایا، تو یہ قوم مصر کی حدود سے نکل کر صحرائے سینا (سینٹ کیتھرین اور اردگرد کا پہاڑی علاقہ) میں داخل ہوئی۔
​صدامِ غلامی کے عادی ہو چکے ان لوگوں کے لیے یہ ایک بالکل نیا ماحول تھا۔ یہاں اللہ تعالیٰ نے ان پر اپنی نعمتوں کی بارش کی۔

من و سلویٰ کا نزول ہوا ۔ کھانے کے لیے آسمان سے پکے پکائے لذیذ کھانے (من و سلویٰ) اتارے گئے۔

بادلوں کا سایہ تھا ۔
صحرا کی شدید دھوپ سے بچانے کے لیے بادلوں کو ان پر سائبان بنا دیا گیا۔

پانی کے چشمے تھے۔ جب قوم نے پانی کی شکایت کی، تو حضرت موسیٰ علیہ السلام نے پتھر پر اپنا عصا مارا جس سے بارہ قبیلوں کے لیے بارہ چشمے پھوٹ پڑے۔

​اسی وادیِ سینا میں موجود کوہِ طور پر حضرت موسیٰ علیہ السلام کو چالیس راتوں کے اعتکاف کے بعد احکاماتِ الٰہی (تورات کی تختیاں) عطا کی گئیں، تاکہ یہ قوم اب ایک باقاعدہ ضابطۂ حیات اور قانون کے تحت اپنی زندگی گزار سکے۔

​جب یہ قوم صحرا میں کچھ عرصہ قیام کر چکی، تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے حکم آیا کہ اب آگے بڑھو اور ارضِ مقدسہ (فلسطین/شام کا علاقہ) میں داخل ہو جاؤ، جو تمہارے آباؤ اجداد (حضرت ابراہیم اور حضرت یعقوب علیہما السلام) کی سرزمین ہے۔

​لیکن وہاں اس وقت ایک نہایت طاقتور، جنگجو اور جابر قوم (عمالقہ) آباد تھی۔ اللہ نے بنی اسرائیل سے وعدہ کیا تھا کہ اگر وہ ہمت دکھا کر آگے بڑھیں گے، تو فتح ان کی ہوگی۔

​حضرت موسیٰ علیہ السلام نے قوم کے بارہ قبیلوں سے بارہ نقیب (نمائندے) بھیجے تاکہ وہ آگے جا کر حالات کا جائزہ لیں۔ جب وہ واپس آئے تو انہوں نے وہاں کی قوم کی طاقت اور ڈیل ڈول کے بارے میں بتایا۔ یہ سن کر بنی اسرائیل پر خوف طاری ہو گیا اور انہوں نے آگے بڑھنے سے صاف انکار کر دیا۔

​انہوں نے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے وہ تاریخی اور گستاخانہ جملہ کہا جو قرآنِ پاک میں بھی محفوظ ہے۔

فَاذْهَبْ أَنْتَ وَرَبُّكَ فَقَاتِلَا إِنَّا هَاهُنَا قَاعِدُونَ
"پس تم اور تمہارا رب جا کر لڑو، ہم تو یہیں بیٹھے ہیں ہيں۔" (سورہ المائدہ: ۲۴)

​صرف دو مخلص بندوں (حضرت یوشع بن نون اور حضرت کالب بن یوفنا) نے قوم کو سمجھانے کی کوشش کی کہ اگر ہم شہر کے دروازے میں داخل ہو گئے تو فتح ہماری ہوگی، لیکن قوم نے ان کی ایک نہ سنی، بلکہ الٹا انہیں پتھر مارنے کی دھمکی دی۔

​اس شدید نافرمانی، بزدلی اور ناشکری پر اللہ کا غضب نازل ہوا اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کی دعا کے بعد یہ فیصلہ سنا دیا گیا کہ

​"اب یہ سرزمین (فلسطین) ان پر چالیس سال تک کے لیے حرام کر دی گئی ہے، یہ زمین میں سرگرداں (بھٹکتے) پھریں گے۔"

​اسی بھٹکنے کی حالت کو "تِیہہ" کہتے ہیں۔ اس سزا کی نوعیت انتہائی عجیب اور عبرت ناک تھی۔

وہ صبح اٹھتے، سامان باندھتے اور منزل کی طرف سفر شروع کرتے۔

وہ دن بھر سخت گرمی اور دھوپ میں میلوں کا سفر طے کرتے۔

شام کو جب تھک ہار کر خیمے لگانے بیٹھتے، تو وہ یہ دیکھ کر حیران اور خوفزدہ رہ جاتے کہ وہ بالکل اسی جگہ واپس پہنچ چکے ہیں جہاں سے انہوں نے صبح سفر شروع کیا تھا۔

​یہ ایک متبادل اور نفسیاتی دائرہ تھا جس سے نکلنے کا کوئی راستہ نہیں تھا۔ وہ چالیس سال تک اسی صحرا کے ایک مخصوص حصے میں گول دائروں میں گھومتے رہے—نہ وہ واپس مصر جا سکتے تھے اور نہ آگے فلسطین بڑھ سکتے تھے۔

​اللہ تعالیٰ نے انہیں یہ سزا کیوں دی؟

مفسرین اور تاریخ دان لکھتے ہیں کہ اس کی سب سے بڑی حکمت "غلامانہ ذہنیت کی تبدیلی" تھی۔

​بنی اسرائیل نے مصر میں صدیوں تک فرعون کی غلامی کاٹی تھی، جس کی وجہ سے ان کی غیرت، بہادری اور خودداری ختم ہو چکی تھی اور ان کے مزاج میں بزدلی اور سستی رچ بس گئی تھی۔ وہ آزادی کے تو خواہشمند تھے، لیکن اس کے لیے محنت اور قربانی دینے کو تیار نہیں تھے۔
​چالیس سال کے اس عرصے میں

غلامی کے ماحول میں پالی بڑھی وہ پرانی، بزدل نسل آہستہ آہستہ اسی صحرا میں بوڑھی ہو کر ختم ہو گئی۔

صحرا کی سخت زندگی کے سایہ میں ایک نئی نسل پروان چڑھی، جو آزاد فضا میں پیدا ہوئی تھی، جس نے غلامی کا طوق نہیں دیکھا تھا اور جو محنت اور جنگ کی سختیوں سے واقف تھی۔

​اسی چالیس سالہ سفرِ تِیہہ کے دوران حضرت ہارون علیہ السلام اور پھر حضرت موسیٰ علیہ السلام کا انتقال ہو گیا اور انہیں اسی صحرا میں دفن کیا گیا۔
​جب چالیس سال پورے ہوئے اور وہ پرانی نسل ختم ہو گئی، تو حضرت موسیٰ علیہ السلام کے خلیفہ اور جانشین حضرت یوشع بن نون علیہ السلام کی قیادت میں اس نئی، پرعزم اور بہادر نسل نے آگے بڑھ کر ارضِ مقدسہ (فلسطین) پر حملہ کیا اور اسے فتح کر کے دائرے کے اس عذاب سے ہمیشہ کے لیے نجات پائی۔

کیا ہم بھی کسی پوشیدہ ملامت یا نفسیاتی سزا کا شکار ہیں کہ ہمارا تخلیقی، علمی اور سماجی سفر آگے بڑھنے کے بجائے اپنی ہی دُم کو کاٹنے والے کتے کی طرح گول دائرے میں مقید ہو چکا ہے؟

دائرے کا سحر چند چہرے اور قومی اعتراف کا قحط

​کسی بھی زندہ معاشرے میں قومی اعزازات اس بات کا ثبوت ہوتے ہیں کہ ریاست اپنے گمنام ہیروز کو پہچانتی ہے۔ یہ اس بات کا اعتراف ہوتا ہے کہ کسی دور افتادہ گاؤں میں بیٹھ کر بچوں کو پڑھانے والا استاد، یا  کسی لیب میں گمنام تحقیق کرنے والا سائنسدان، ملک کا اصل سرمایہ ہے۔

​لیکن ہمارے ہاں یہ عمل ایک مخصوص اشرافیہ یا ’ان-گروپ‘ (In-group) کا ویگ ہال بن چکا ہے۔ ایوارڈز کی فہرست اٹھا کر دیکھ لیجیے۔ آپ کو وہی چہرے نظر آئیں گے جو

مقتدر حلقوں کے ڈرائنگ رومز تک رسائی رکھتے ہیں۔

ٹی وی اسکرینوں پر روزانہ نمودار ہوتے ہیں۔

یا پھر بیوروکریسی اور مقتدرہ کے من پسند افراد کی فہرست میں شامل ہیں۔

​جب ایک ہی اداکار، ایک ہی اینکر، ایک ہی بیوروکریٹ یا ایک ہی لکھاری ایک ہی سیاستدان  کو چند سال کے وقفے سے بار بار مختلف ناموں کے تمغے دیے جاتے ہیں، تو عام آدمی کے دل میں یہ سوال اٹھنا فطری ہے کہ: کیا ۲۴ کروڑ کے اس ملک میں صرف یہی دس بیس لوگ ہی بقیدِ حیات ہیں جو کارنامے انجام دے رہے ہیں؟

​یہ تکرار صرف ایک ایوارڈ کی تکرار نہیں ہے، یہ دراصل اس ذہنیت کی عکاس ہے جو ملک کی باقی آبادی کو بانجھ اور بنجر سمجھتی ہے۔ جب آپ ایک ہی دائرے میں بار بار سفر کرتے ہیں، تو میرٹ کا قتل عام ہوتا ہے اور صدارتی تمغے اپنی توقیر کھو کر سیاسی رشوت یا وفاداریوں کے صلے کا روپ دھار لیتے ہیں۔

​آج پاکستان کا ہر  شہری اسی گبھراہٹ کا شکار ہے۔ وہ دیکھتا ہے کہ حکومتیں بدلتی ہیں، چہرے بدلتے ہیں، نعرے بدلتے ہیں، لیکن نظام کا ڈھانچہ وہی رہتا ہے۔

جب تمغوں اور اعزازات کی باری آتی ہے، تو پھر وہی چند لوگ لائن میں سب سے آگے کھڑے ہوتے ہیں جنہیں پچھلی حکومت نے بھی نوازا تھا اور اس سے پچھلی نے بھی۔

​"یہ سزائے تِیہہ نہیں تو اور کیا ہے کہ ہم بدلتے ہوئے وقت کے باوجود، نئے ٹیلنٹ کو سامنے لانے کے بجائے، پرانے بتوں کی پوجا اور ان کی تکرار پر مجبور ہیں؟"

​جب معاشرے میں یہ احساس جڑ پکڑ جائے کہ آپ چاہے جتنی بھی محنت کر لیں، جتنی بھی بڑی دریافت کر لیں، جب تک آپ اس ’مخصوص دائرے‘ کا حصہ نہیں بنیں گے، آپ کو تسلیم نہیں کیا جائے گا—تو پھر معاشرے میں مایوسی، برین ڈرین (Brain Drain) اور ذہنی فرسٹریشن کا جنم لینا ناگزیر ہو جاتا ہے۔

​اگر ہم اس دائرے سے باہر نکل کر دیکھیں، تو پاکستان کے چپے چپے میں ایسے ہیرے بکھرے پڑے ہیں جن کی چمک سے دنیا واقف ہے، لیکن اسلام آباد کے ایوانوں کو ان کی خوشبو نہیں آتی۔

​ان گمنام ہیروز کو ایوارڈ نہ ملنے سے ان کا تو کوئی نقصان نہیں ہوتا، کیونکہ سچا کام خود اپنا صلہ ہوتا ہے۔ لیکن نقصان ریاست کا ہوتا ہے۔ جب ریاست بار بار صرف چند اثر و رسوخ رکھنے والے لوگوں کو نوازتی ہے، تو وہ عام عوام کو یہ پیغام دے رہی ہوتی ہے کہ "تم ہمارے لیے مٹی کا مادھو ہو، تمہاری محنت کا ہمارے ہاں کوئی وزن نہیں۔"

​نفسیات دان کہتے ہیں کہ انسان کے لیے سب سے بڑی اذیت یہ نہیں ہے کہ وہ مشکل میں ہے، بلکہ سب سے بڑی اذیت یہ ہے کہ اسے اس مشکل سے نکلنے کا کوئی راستہ نظر نہ آئے۔

جب میں دیکھتی ہوں  کہ ہر سال ۲۳ مارچ یا ۱۴ اگست کو وہی ڈرامہ، وہی چہرے اور وہی اسکرپٹ دہرایا جا رہا ہے، تو میرے اندر کی گبھراہٹ لاوے کی طرح ابلنے لگتی ہے۔

​ہم صبح اٹھ کر اخبار کھولتے ہیں، ٹی وی آن کرتے ہیں، یہ سوچ کر کہ آج کچھ نیا دیکھنے کو ملے گا، کوئی نئی امید جاگے گی۔ لیکن شام تک اڑتی ہوئی دھول جب بیٹھتی ہے، تو ہم خود کو اسی پرانے چوراہے پر کھڑا پاتے ہیں۔ یہ دائرے کا سفر ہماری تخلیقی صلاحیتوں کو چاٹ رہا ہے۔

یہ ہمیں ایک ایسی قوم بنا رہا ہے جو صرف ماضی کے قصے سناتی ہے یا حال کے چند بااثر لوگوں کے گن گاتی ہے۔

​اگر ہم واقعی حضرت موسیٰ علیہ السلام کی قوم جیسی اس نفسیاتی سزا اور ’ویگ سائیکل‘ سے نکلنا چاہتے ہیں، تو ہمیں اپنے معیار بدلنے ہوں گے۔ ہمیں اس بند دائرے کو توڑ کر ایک سیدھی، ترقی پسند لکیر بنانی ہوگی۔

ایک بار کا اصول (One-Time Rule): ایک شخصیت کو زندگی میں ایک ہی بار بڑا قومی اعزاز ملنا چاہیے (سوائے کسی غیر معمولی بین الاقوامی کارنامے کے)۔ یہ کیا مذاق ہے کہ ایک ہی شخص تمغۂ امتیاز بھی لے رہا ہے، ستارۂ امتیاز بھی اور ہلالِ امتیاز بھی؟ کیا باقی قوم بانجھ ہے؟

​دائروں کا سفر روح کو تھکا دیتا ہے۔ یہ انسان سے اس کا یقین چھین لیتا ہے۔ پاکستان کو اس وقت مقتدرہ کے من پسند افراد کی تکرار کی نہیں، بلکہ نئے خون، نئی سوچ اور نئے ہیروز کی ضرورت ہے۔

​ہمیں بنی اسرائیل کی طرح اسی ایک وادی میں بھٹکتے رہنے کے بجائے، اپنے اندر کے خوف اور جمود کو توڑنا ہوگا اور اس عزم کے ساتھ آگے بڑھنا ہوگا کہ یہ ملک صرف چند سو خاندانوں یا چہروں کا نہیں، بلکہ اس میں بسنے والے ۲۴ کروڑ انسانوں کا ہے۔  اس 'ویگ سائیکل' کے بت  کو ہمیشہ کے لیے توڑ دیا جائے، ورنہ صبح اور شام کا یہ تکراری سفر ہمیں کہیں کا نہیں چھوڑے گا۔


Comments

Popular posts from this blog

کالاباغ ڈیم پر اعتراض کا جواب۔​کالا باغ ڈیم چشمِ دید گواہی اور قومی ضرورت کا پکارتا سچ ​

ایک درخت، کئی نسلوں کی یادیں

ادھا چمچ ہلدئ کے فوائد۔