دنیا میں آج کل ہر کوئی انتقام پر کیوں تلے ہوا ہے؟

 


---روما محمود---



ایک کیس اسٹڈی

انسانی انتقام کی جڑیں بہت پرانی ہیں۔ یہ چھوٹے گروہوں میں نقصان سے بچاؤ اور سماجی اصول نافذ کرنے کا طریقہ تھا۔ دماغی سائنس بتاتی ہے کہ انتقام کا خیال دماغ کے انعامی مراکز کو فعال کرتا ہے (ڈوپامین خارج ہوتا ہے)، جبکہ شکایت درد کے مراکز کو جگاتی ہے۔ تاہم، انتقام کرنے سے اکثر سوچ بچار بڑھتی ہے اور خوشی کم ہوتی ہے۔


آج کل انتقامی رویے کیوں زیادہ نظر آ رہے ہیں؟


سوشل میڈیا اور الگورتھم: پلیٹ فارمز غصے اور جارحانہ مواد کو پروموٹ کرتے ہیں۔ کینسل کلچر، پبلک شرمندگی اور پولرائزیشن اس کی بڑی وجوہات ہیں۔


نفسیاتی عوامل، نرگسیت (نارسیزم) اور جذباتی عدم استحکام انتقام کو بڑھاتا ہے۔ معاشی تناؤ، تنہائی اور موازنہ لوگوں کو حساس بناتا ہے۔


ثقافتی تبدیلیاں؛ روایتی اداروں (مذہب، کمیونٹی) کا کمزور ہونا اور انفرادیت نے ذاتی انتقام کو جائز سمجھا دیا ہے۔



چکر (Cycle): شکایت → درد → انتقام کی خواہش → عارضی سکون → مزید غصہ۔

حقیقی مثالیں

سوشل میڈیا پر وائرل فیودز، سابقہ ساتھیوں یا اجنبیوں سے ڈیجیٹل انتقام (ڈاکسنگ، ذاتی حملے)۔

سیاست اور ثقافت میں ہر بات پر "دوسرے کو سبق سکھانا"۔

نتائج (عموماً منفی)

مطالعات بتاتے ہیں کہ انتقام کرنے والے زیادہ پریشان رہتے ہیں۔ معافی یا ذہنی سکون (مائنڈفلنس) بہتر راستہ ہے۔)

کیوں لگتا ہے کہ "سب" انتقامی ہیں؟

سوشل میڈیا پر بلند آواز والے لوگ زیادہ نظر آتے ہیں۔ حقیقت میں زیادہ تر لوگ آگے بڑھ جاتے ہیں، مگر انتہا پسند آوازیں غالب رہتی ہیں۔

حل کے طریقے

صرف یہ سوچ لیں کہ آپ مظلوم ہیں ظلم کرنے والے نہیں ۔

یہ سب عارضی ہے سب کچھ ختم ہو جائے گا قبر میں کوئی نہیں میرے ساتھ ہو گا ۔

اگر میں آج ظلم کروں گا تو کل ایک طویل پچھتاوا میرا دامن پکڑ لےگا۔

مجھے بھی اکثر شدید غصہ چڑھتا ہے مگر صرف ایک سوچ سارے شکوے شکایت ختم کر دیتی ہے ۔

وہ ساری تقدیروں کا بھید ہے میں خود کو اس وقت اتنا بےبس محسوس کرتی۔ ہوں کہ کیا بتاوں ۔

انتقام فطری لگتا ہے مگر یہ اکثر الٹا پڑتا ہے۔ آگاہی سے ہم اس چکر سے نکل سکتے ہیں اور بہتر معاشرہ بنا سکتے ہیں۔

 

Comments

Popular posts from this blog

کالاباغ ڈیم پر اعتراض کا جواب۔​کالا باغ ڈیم چشمِ دید گواہی اور قومی ضرورت کا پکارتا سچ ​

ایک درخت، کئی نسلوں کی یادیں

ادھا چمچ ہلدئ کے فوائد۔