ہر موقع پر توہین، پاکستانی معاشرے کی تلخ ترین تصویر
---روما محمود---
پاکستانی معاشرے میں توہین ایک فن بن چکی ہے۔ چاہے بات چھوٹی ہو یا بڑی، اختلاف ہو یا اتفاق، ہر موقع پر کسی نہ کسی کو ذلیل کرنے، طعنے دینے یا اس کی عزت کو مجروح کرنے کا موقع ضرور نکال لیا جاتا ہے۔
یہ صرف غصے کا اظہار نہیں، بلکہ ہماری اجتماعی نفسیات، حسد، عدم برداشت اور کمزور خود اعتمادی کی عکاسی کرتا ہے۔
سوشل میڈیا ہو یا حقیقی زندگی، توہین ہمارا قومی کھیل بن گیا ہے۔ کوئی شخص کامیاب ہوتا ہے تو فوراً کمنٹس میں "یہ تو فلان کا بیٹا ہے، بیوی کا رشتہ دار ہے" یا "ارے یہ تو پہلے غریب تھا" جیسے طعنے شروع ہو جاتے ہیں۔
کامیابی کو بھی برداشت نہیں کیا جاتا۔ ناکامی پر تو پھر بات ہی کیا ہے ۔
لوگ خوشی سے شیئر کرتے ہیں کہ "دیکھ لو، اس کا انجام"۔
خاندان میں دیکھیں تو رشتہ داروں کے درمیان توہین کا بازار گرم رہتا ہے۔ شادی بیاہ ہو، بچے کی پیدائش ہو یا کوئی تقریب، کوئی نہ کوئی ایسا جملہ ضرور نکل آتا ہے جو دل کو چھلنی کر دے۔
ہوں"تمہارا بیٹا تو ابھی تک نوکری نہیں کر رہا"، "تمہاری بیٹی کا رشتہ ابھی تک کیوں نہیں ہوا"، تم نے اب تک شادی کیوں نہیں کی ؟
"تم تو پہلے بہت غریب تھے، اب پیسے والے کیسے ہو گئے ہو"۔ یہ سب "پیار بھرے مشوروں" کے نام پر ہوتا ہے۔
سیاست میں تو توہین فن کا درجہ رکھتی ہے۔ مخالف پارٹی کا لیڈر ہو یا عام کارکن، اسے ذاتی طور پر نشانہ بنایا جاتا ہے۔ ماں، بہن، بیوی، کردار، لباسکچھ بھی محفوظ نہیں۔
ٹی وی ٹاک شوز دیکھیں تو لگتا ہے جیسے بحث نہیں، بلکہ گالیاں دینے کا مقابلہ چل رہا ہو۔
اتفاق رائے کا کوئی تصور ہی نہیں۔
دفتر، بازار، ٹریفک ہر جگہ توہین کا ماحول ہے۔ ٹریفک میں ہارن بجانے والے کو "اوئے اندھے"، دکان پر قیمت پوچھنے والے کو "ارے شاپنگ کرنے آیا ہے یا ٹائم پاس"، اور کام کے جگہ غلطی پر "تم سے کچھ نہیں ہو گا" جیسے جملے عام ہیں۔ ہم دوسروں کی غلطیوں پر اتنی تیزی سے حملہ کرتے ہیں جیسے خود کوئی فرشتہ ہوں۔
یہ توہین کی ثقافت دراصل ہماری اندرونی کمزوری کو ظاہر کرتی ہے۔ جب کوئی دوسرا آگے نکل جاتا ہے تو اسے نیچا دکھا کر خود کو بڑا محسوس کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔
حسد، inferiority complex اور برداشت کی کمی نے ہمیں ایک ایسا معاشرہ بنا دیا ہے جہاں تعریف کم اور تنقید (وہ بھی ذاتی) زیادہ ہوتی ہے۔
نوجوان نسل اسی ماحول میں پل رہی ہے، اس لیے سوشل میڈیا پر ٹرولنگ، بادی باڈی شیمنگ اور سائبر بلنگ عام ہے۔
ہم مذہب کی بات کرتے ہیں، اخلاق کی نصیحت کرتے ہیں، مگر عمل بالکل الٹا ہے۔
رسول ﷺ نے فرمایا کہ مومن وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں، مگر ہماری زبان سب سے زیادہ خطرناک ہوتی ہے۔
توہین ہمارے معاشرے کو زہر آلود کر رہی ہے۔ یہ اعتماد کو تباہ کرتی ہے، رشتوں کو ختم کرتی ہے اور مجموعی طور پر قومی ترقی میں رکاوٹ بنتی ہے۔
جب تک ہم دوسروں کی کامیابی پر خوش نہ ہونا سیکھیں، غلطیوں پر رحم نہ کریں اور اختلاف کو برداشت نہ کریں، تب تک یہ زخم بھرنے والا نہیں۔
ہر موقع پر توہین کرنا ہماری سب سے بڑی کمزوری ہے۔ یہ وہ تصویر ہے جو ہم باہر دنیا کو نہیں دکھانا چاہتے، مگر اندر سے ہر روز دیکھ رہے ہیں۔
اس تصویر کو تبدیل کریں—تعریف کریں، حوصلہ افزائی کریں اور زبان کو کنٹرول میں رکھیں۔ ورنہ یہ زہر ہمیں کھا جائے گا۔
توہین کرنا صرف ایک بری عادت نہیں، بلکہ ایک گہری نفسیاتی ضرورت کا اظہار ہے جو انسان کی اندرونی کمزوریوں، غیر محفوظ احساسات اور سیکھی ہوئی طرزِ عمل سے جنم لیتی ہے۔
نفسیات کے مطابق توہین (insulting/humiliating others) کے پیچھے کئی اہم اسباب کارفرما ہوتے ہیں۔
کمتری کا احساس (Inferiority Complex)
سب سے بڑا سبب۔ جو شخص خود کو کمتر سمجھتا ہے، وہ دوسروں کو ذلیل کر کے عارضی طور پر برتر محسوس کرتا ہے۔
Alfred Adler کی تھیوری کے مطابق، inferiority feelings کو compensate کرنے کے لیے superiority کا جھوٹا احساس پیدا کیا جاتا ہے۔ پاکستان میں یہ بہت عام ہے—غریب خاندان کا شخص امیر رشتہ دار کو طعنے دیتا ہے، یا ناکام شخص کامیاب دوست کی کامیابی پر "وہ تو قسمت والا ہے" کہہ کر خود کو تسلی دیتا ہے۔
حسد اور حسرت (Envy & Jealousy)
دوسرے کی کامیابی، خوبصورتی، دولت یا خوشی دیکھ کر پیدا ہونے والا درد توہین کی شکل میں نکلتا ہے۔
نفسیات میں اسے "Tall Poppy Syndrome" کہتے ہیں۔
جو شخص دوسروں سے آگے نکل جائے، اسے کاٹ کر برابر کر دیا جائے۔ سوشل میڈیا نے اسے مزید ہوا دی ہے۔
غصے کا انحراف (Displacement of Anger)
کام کی جگہ باس سے ڈانٹ کھائی، گھر آ کر بیوی بچوں پر توہین۔ ٹریفک میں ہارن والے پر غصہ اتارا جاتا ہے۔
Freud کے مطابق، جب اصل وجہ پر حملہ نہ کیا جا سکے تو "displacement" ہوتا ہے۔
ہمدردی کی کمی (Lack of Empathy)
کچھ لوگوں میں دماغ کا وہ حصہ (Prefrontal Cortex) جو دوسروں کے احساسات سمجھتا ہے، کم فعال ہوتا ہے۔ یا پھر بچپن میں ہمدردی سکھائی ہی نہیں گئی۔
دوسرے کا درد نظر نہیں آتا، صرف اپنا غصہ یا فائدہ نظر آتا ہے۔
اختیار اور کنٹرول کی بھوک (Need for Power & Dominance)
توہین ایک طریقہ ہے دوسرے کو "نیچا" دکھا کر اپنی پوزیشن مضبوط کرنے کا۔ آفس میں باس ملازم کو ذلیل کرتا ہے تو اسے لگتا ہے کہ اس کی گرفت مضبوط ہے۔
خاندان میں بڑے بچوں کو ذلیل کر کے "اتھارٹی" قائم رکھتے ہیں۔
سیکھا ہوا رویہ (Learned Behavior)
بچپن میں اگر والدین ایک دوسرے کو، رشتہ داروں کو یا بچوں کو طعنے دیتے رہے ہوں تو بچہ اسے نارمل سمجھ کر بڑا ہوتا ہے۔ معاشرتی طور پر بھی "طنز" کو ذہانت سمجھا جاتا ہے۔
غیر محفوظ خود اعتمادی (Fragile Self-Esteem)
جو لوگ "Narcissistic" یا "Defensive Self-Esteem" رکھتے ہیں، وہ معمولی تنقید یا اختلاف کو بھی ذاتی حملہ سمجھتے ہیں اور جواب میں شدید توہین کرتے ہیں۔
پاکستانی معاشرے میں "Honor Culture" غالب ہے۔ عزت کا مسئلہ بن جائے تو توہین (یا اس سے آگے) کو جائز سمجھا جاتا ہے۔ "لوگوں کیا کہیں گے" کا دباؤ بھی لوگوں کو دوسروں کو کنٹرول کرنے پر مجبور کرتا ہے۔
Anonymity (گمنامی) اور فوری لائکس ملنے سے ڈوپامین ملتا ہے۔ ٹرولنگ اسی نفسیاتی لت کا نتیجہ ہے۔
توہین کرنے والا شخص دراصل خود زخمی ہوتا ہے۔ وہ دوسروں کو زخمی کر کے اپنا درد کم کرنے کی ناکام کوشش کرتا ہے۔ یہ عارضی ریلیف دیتا ہے مگر طویل مدتی طور پر خود اعتمادی کو مزید کمزور کرتا ہے اور رشتوں کو تباہ کر دیتا ہے۔
اسے روکنے کے لیے سب سے اہم چیز خود آگاہی ہے۔
اپنے اندرونی درد کو پہچانیں، ہمدردی کی مشق کریں، اور کامیابی پر دوسروں کے ساتھ خوش ہونا سیکھیں۔
اگر معاشرے کو اس زہر سے نجات چاہیے تو والدین کو بچوں میں ہمدردی سکھانی ہوگی، تعلیم میں جذباتی ذہانت (Emotional Intelligence) شامل کرنی ہوگی، اور ہمیں خود سے یہ سوال پوچھنا ہوگا
میں دوسروں کو ذلیل کر کے آخر کیا ثابت کرنا چاہتا ہوں؟"

Comments