میڈیا انڈسٹری امتحان میں ۔ ٹی وی چینل سے بڑے پیمانے پر لوگ فارغ

 




---روما محمود---



پاکستان میں میڈیا انڈسٹری (خاص طور پر ٹی وی نیوز چینلز) میں حالیہ مہینوں میں بڑے پیمانے پر layoffs (لوگوں کو نکالنا) ہو رہے ہیں۔ یہ ایک جاری بحران ہے جس کی وجہ سے صحافیوں کی یونینز (جیسے RIUJ اور PUJ) احتجاج کر رہی ہیں۔

Suno News (سب سے بڑا حالیہ کیس، مئی 2026): تقریباً 160-170 ملازمین فوری طور پر نکالے گئے۔ اپریل کی تنخواہ بھی نہیں دی گئی۔ Quetta bureau بند کر دیا گیا اور وہاں 9 لوگ نکالے گئے۔ متاثرین میں رپورٹرز، کیمرامین، ایڈیٹرز، ٹیکنیکل سٹاف، ڈرائیورز اور سپورٹ سٹاف شامل ہیں۔ اسلام آباد بیورو سب سے زیادہ متاثر ہوا
Aaj TV / Aaj News:  downsizing، رپورٹرز، کیمرامین اور ٹیکنیکل ٹیموں کو نکالا گیا۔ اسلام آباد میں layoffs پر یونینز نے شدید ردعمل دیا۔




Abb Takk News: اسلام آباد بیورو سے کئی لوگ نکالے، بیورو آپریشنز کم کیے گئے۔
Such TV: تقریباً 50% ورک فورس نکالی، لاہور بیورو بند، اسلام آباد میں بھی لوگ نکالے بغیر واجبات ادا کیے۔
NewsOne: شہروں کے دفاتر میں متعدد

Samaa News: ممکنہ layoffs اور salary cuts کی افواہیں، PUJ نے وارننگ دی۔ بیوروز میں selective cuts ہو رہے ہیں۔
Dunya News: ٹیکنیکل اور انجینئرنگ پوزیشنز کم کی گئیں۔
Geo News: Quetta bureau میں 9 لوگ نکالے گئے (Suno کے ساتھ مل کر ذکر)۔
دیگر: Nukta (ڈیجیٹل)، Jang Group (اخبارات اور ٹی وی سے منسلک)، Urdu News، Independent Urdu، اور BOL News وغیرہ میں بھی cuts یا salary issues۔ PTV نے 1200+ جابز کاٹنے کا اعلان کیا (ڈیجیٹل شفٹ کی وجہ سے)۔
کیوں ہو رہا ہے؟ (اہم وجوہات)

مالی مشکلات اور ریونیو کی کمی
اشتہارات کم، گورنمنٹ ایڈز میں تاخیر یا کٹوتی، معاشی بحران۔

ڈیجیٹل شفٹ لوگ ٹی وی کم دیکھ رہے ہیں، آن لائن/سوشل میڈیا کی طرف جا رہے ہیں۔ چینلز لاگت کم کرنے کے لیے سٹاف گھٹا رہے ہیں۔

انتظامی فیصلے نئے مالکان (جیسے Suno کا real estate بیک گراؤنڈ) لاگت کنٹرول یا restructuring کر رہے ہیں۔
تنخواہوں میں تاخیر: بہت سے چینلز مہینوں کی تنخواہ روک رہے ہیں، جس سے مزید تناؤ بڑھ رہا ہے۔

ریٹنگز کم، مقابلہ زیادہ، اور آپریشنل لاگت (سیٹلائٹ، سٹوڈیو وغیرہ) زیادہ۔
یہ صورتحال صحافیوں کے لیے بہت مشکل ہے — بے روزگاری، ذہنی تناؤ اور احتجاج بڑھ رہے ہیں۔

اس بحران (ٹی وی نیوز چینلز میں layoffs) کا حل چند سطحوں پر ممکن ہے ۔

فوری، درمیانی مدت اور طویل مدتی۔ یہ کوئی ایک رات کا حل نہیں، کیونکہ مسئلہ معاشی، ڈیجیٹل شفٹ اور انتظامی ہے۔

فوری حل (متاثرین اور یونینز کے لیے)
تنخواہوں کی ادائیگی اور نوکری کی بحالی: یونینز (PUJ, RIUJ, PFUJ) احتجاج، قانونی کارروائی اور حکومت پر دباؤ ڈال رہی ہیں۔ مثال کے طور پر Suno News کے کیس میں وفاقی وزیر اطلاعات عطااللہ تارڑ نے گورنمنٹ ایڈز روک دیے ہیں۔ یونینز کا مطالبہ ہے کہ گورنمنٹ ایڈورٹائزمنٹ صرف ان چینلز کو دیے جائیں جو تنخواہ وقت پر دیں۔

متاثرین کے لیے سپورٹ حکومت (وزارت اطلاعات، PEMRA) سے مطالبہ کہ متاثرہ صحافیوں/سٹاف کو الٹرنیٹ جابز یا امداد دی جائے (جیسے Nukta layoffs میں کچھ کو گورنمنٹ جابز آفر کی گئیں)۔

بیوروز کی بحالی بلوچستان CM سمیت لوگ بیوروز بند نہ کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

چینلز/مالکان کے لیے عملی حل
لاگت کم کرکے ڈیجیٹل شفٹ ٹی وی پر منحصر رہنے کی بجائے YouTube, TikTok, Instagram, Website پر فوکس کریں۔ ویڈیو کنٹنٹ، AI ٹولز (ایڈیٹنگ، سکرپٹنگ) استعمال کرکے سٹاف کم کرکے بھی پروڈکشن بڑھائیں۔

ریونیو کے نئے ذرائع سبسکرپشنز، پیڈ کنٹنٹ، اسپانسرشپس، ای کامرس ٹائی اپ۔ پرنٹ/ٹی وی ماڈل جو گورنمنٹ ایڈز پر منحصر ہے، وہ ناکام ہو رہا ہے۔

سٹاف ٹریننگ موجودہ ملازمین کو ڈیجیٹل سکلز (موبائل جرنلزم، ڈیٹا اینالیسس، سوشل میڈیا) سکھائیں تاکہ کم لوگوں سے زیادہ کام ہو۔

ایفیشینٹ آپریشنز غیر ضروری اخراجات (بڑے سٹوڈیوز، زیادہ بیوروز) کم کریں، ملٹی ٹاسکنگ بڑھائیں۔

طویل مدتی اور حکومتی سطح کے حل
PEMRA اور لیبر قوانین کی سختی: چینلز کو مجبور کیا جائے کہ layoffs سے پہلے نوٹس، کمپنسیشن اور واجبات ادا کریں۔ گورنمنٹ ایڈز کو تنخواہ ادائیگی سے لنک کریں۔

ڈیجیٹل پاکستان کی طرف شفٹ حکومت میڈیا انڈسٹری کو ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن میں سبسڈی/ٹریننگ دے (انٹرنیٹ انفراسٹرکچر بہتر کرکے)۔

مارکیٹ ڈائیورسٹی زیادہ تر چینلز سیاسی/بریکنگ نیوز پر منحصر ہیں۔ انٹرٹینمنٹ، ایجوکیشن، ڈاکیومنٹری جیسے نیچز بڑھائیں۔
صنعتی سطح پر تعاون: چینلز مل کر لابنگ کریں، مشترکہ ڈیجیٹل پلیٹ فارم بنائیں تاکہ بڑی ٹیک کمپنیوں (Google, Meta) سے بہتر ریونیو شیئر ملے۔
حقیقت یہ ہے کہ دنیا بھر میں ٹی وی نیوز والے چینلز downsizing کر رہے ہیں کیونکہ لوگ سوشل میڈیا اور آن لائن دیکھ رہے ہیں۔ پاکستان میں معاشی بحران نے اسے مزید شدید کر دیا ہے۔
صحافیوں/سٹاف کے لیے ذاتی مشورہ:
ڈیجیٹل سکلز سیکھیں (فری لانسنگ، یوٹیوب، نیوزلیٹر)۔
الٹرنیٹ کیریئر (ڈیجیٹل میڈیا، PR، کنٹنٹ کریئیشن) تیار رکھیں۔
یونینز سے جڑے رہیں۔
اگر آپ متاثرہ شخص ہیں، مخصوص چینل سے تعلق رکھتے ہیں، یا کوئی خاص پہلو (جیسے ڈیجیٹل کیسے شروع کریں) جاننا چاہتے ہیں تو مزید تفصیل بتائیں — targeted مشورہ دے سکتا ہوں۔ یہ بحران حل ہو سکتا ہے اگر فوری ایکشن لیا جائے، ورنہ مزید چینلز متاثر ہوں گے۔

Comments

Popular posts from this blog

کالاباغ ڈیم پر اعتراض کا جواب۔​کالا باغ ڈیم چشمِ دید گواہی اور قومی ضرورت کا پکارتا سچ ​

ایک درخت، کئی نسلوں کی یادیں

ادھا چمچ ہلدئ کے فوائد۔