تلاوتِ کلامِ الٰہی، ادب اور کاروباری ماحول کے درمیان ایک سوال
---روما محمود---
گرین ویلی یا کسی بھی بڑے سٹور پر چلے جائیں تو وہاں عجیب ہی منظر دیکھنے کو ملتا ہے ۔
آج کل بڑے بڑے شاپنگ مالز، ڈیپارٹمنٹل اسٹورز اور مارکیٹوں میں ایک نیا رجحان سامنے آیا ہے کہ وہاں پسِ منظر میں انتہائی خوبصورت آواز میں قرآن کریم کی تلاوت چل رہی ہوتی ہے۔
اور وہاں بغیر ڈوپٹے کے پینٹ شرٹ پہنے خواتین پھر رہی ہوتی ہیں ۔
قرآن کا مقصد سماعت یا صرف برکت؟
قرآن کریم محض تبرک کے لیے نازل نہیں ہوا، بلکہ یہ "ہدایت" کی کتاب ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے
"اور جب قرآن پڑھا جائے تو اسے توجہ سے سنو اور خاموش رہو تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔" (الاعراف: 204)
اسٹورز اور مارکیٹوں میں صورتحال یہ ہوتی ہے کہ ایک طرف تلاوت ہو رہی ہوتی ہے، تو دوسری طرف خریدار سودے بازی کر رہے ہوتے ہیں، قہقہے لگ رہے ہوتے ہیں، اور حساب کتاب کا شور ہوتا ہے۔ کیا ایسی جگہ جہاں کوئی سننے والا نہ ہو اور لوگ اپنی دنیاوی دھن میں مگن ہوں، وہاں بلند آواز میں قرآن لگانا اس عظیم کتاب کی شان کے مطابق ہے؟
ہمارے معاشرے میں یہ روایت رہی ہے کہ جب قرآن پڑھا یا سنا جائے تو سر ڈھانپا جائے، باوضو رہا جائے اور پوری توجہ دی جائے۔ اگرچہ تلاوت سننے کے لیے سر ڈھانپنا "فرض" کے درجے میں نہیں، لیکن یہ ادب کا حصہ ضرور ہے۔ جب اسٹور میں تلاوت چل رہی ہوتی ہے، تو وہاں موجود گاہک اور عملہ اپنی اپنی حالتوں میں ہوتے ہیں۔ بے توجہی کی اس فضا میں تلاوت کا چلنا اسے ایک "بیک گراؤنڈ میوزک" کی طرح بنا دیتا ہے، جو کہ قرآن کی توہین کے زمرے میں آ سکتا ہے۔
ایک اور اہم نکتہ یہ ہے کہ جن اسٹورز میں تلاوت چل رہی ہوتی ہے، وہیں بعض اوقات ناپ تول میں کمی، ملاوٹ یا دھوکہ دہی جیسے معاملات بھی دیکھنے کو ملتے ہیں۔ تلاوت کا مقصد دلوں کو جھنجھوڑنا اور معاملات کو درست کرنا ہونا چاہیے، نہ کہ اسے صرف گاہکوں کو متاثر کرنے یا "مذہبی ماحول" دکھانے کے لیے ایک آلے کے طور پر استعمال کیا جائے۔
علماءِ کرام اور دانشوروں کی رائے کے مطابق، قرآن کریم کا ادب اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ
تلاوت وہیں چلائی جائے جہاں لوگ اسے خاموشی سے سن سکیں۔
اگر دکان یا اسٹور میں برکت مقصود ہے، تو دکان کھولنے کے وقت تلاوت کی جائے اور پھر اسے بند کر دیا جائے تاکہ بعد میں آنے والا شور قرآن کی بے ادبی کا باعث نہ بنے۔
بہتر یہ ہے کہ دکاندار خود تلاوت کرے یا دھیمی آواز میں سنے، بجائے اس کے کہ پورے اسٹور میں لاؤڈ اسپیکر پر اسے چلایا جائے۔
نیت کی نیکی اپنی جگہ، لیکن عمل کا طریقہ کار بھی درست ہونا چاہیے۔ قرآن کریم رب ذوالجلال کا کلام ہے، اسے محض دکان کی سجاوٹ یا "برکت کے ٹوٹکے" کے طور پر استعمال کرنے کے بجائے اس کے آداب کا لحاظ رکھنا ہم سب پر لازم ہے۔
یہاں ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ عبادت اور تجارت کے آداب الگ الگ ہیں۔
جب قرآن کی تلاوت کسی ایسے مقام پر چلتی ہے جہاں خریدار قیمتوں پر تکرار کر رہے ہوں یا سیلز گرلز اور بوائز گاہکوں کو متوجہ کرنے کے لیے اونچی آوازیں لگا رہے ہوں، تو وہاں تلاوتِ کلام پاک کی حیثیت محض ایک 'پسِ منظر کی آواز' (Background Sound) بن کر رہ جاتی ہے۔ یہ عمل لاشعوری طور پر قرآن کی عظمت کو ہمارے دلوں میں کم کرنے کا باعث بنتا ہے۔
مسلسل ایسی جگہوں پر تلاوت سننے سے جہاں ہم اس کی طرف متوجہ نہ ہو سکیں، انسانی ذہن میں ایک قسم کی "سماجی بے حسی" (Desensitization) پیدا ہو جاتی ہے۔ جب ہم بار بار قرآن کو شور و غل کے درمیان سنتے ہیں، تو ہمارا دماغ اسے ایک "معمولی آواز" کے طور پر قبول کرنے لگتا ہے۔ اس کا نقصان یہ ہوتا ہے کہ جب ہم نماز یا کسی مذہبی اجتماع میں قرآن سنتے ہیں، تو وہ خشوع و خضوع پیدا نہیں ہو پاتا جو قرآن کا اصل مطالبہ ہے۔
قرآن کے لیے سر ڈھانپنا اور باوضو ہونا ادب کی علامت ہے۔
کیا یہ "کاروباری برانڈنگ" ہے؟
موجودہ دور میں بعض اوقات مذہبی علامات کو مارکیٹنگ کے لیے بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ اگر تلاوت کا مقصد صرف یہ دکھانا ہے کہ "یہ ایک اسلامی اسٹور ہے" تاکہ گاہکوں کا اعتماد جیتا جا سکے، تو یہ استحصال کی ایک بدترین شکل ہے۔ برکت قرآن کو چلانے میں نہیں، بلکہ قرآن کے اصولوں (سچائی، دیانتداری اور حلال رزق) کو اپنانے میں ہے۔
اگر ہم واقعی اپنے تجارتی مراکز میں اسلامی روح پھونکنا چاہتے ہیں تو درج ذیل طریقے اپنائے جا سکتے ہیں
دکان یا اسٹور کھلنے کے پہلے 15 منٹ تلاوت کے لیے مخصوص ہوں جب کام شروع نہ ہوا ہو اور عملہ یکسوئی سے سن سکے۔
اگر پس منظر میں کچھ چلانا ہی مقصود ہے تو دھیمی آواز میں تسبیحات یا حمد چلائی جا سکتی ہے، جس کے آداب تلاوتِ قرآن جتنے سخت نہیں ہیں۔
دکاندار اپنے کاؤنٹر پر ایسی آواز میں تلاوت سنے جو صرف اس کے کانوں تک محدود ہو، تاکہ وہ کام کے دوران بھی ذکرِ الٰہی سے جڑا رہے۔
قرآن کریم عمل کی کتاب ہے، محض کانوں کو بھلی لگنے والی موسیقی نہیں۔ اس کی حرمت کا تقاضا ہے کہ اسے وہ مقام دیا جائے جہاں اسے پورے شعور اور عزت کے ساتھ سنا جا سکے۔ ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ اللہ کا کلام خاموشی اور غور و فکر کا متقاضی ہے، نہ کہ ہجوم اور بازار کی گہما گہمی کا۔

Comments