​دیوارِ آہنی کے پیچھے کالج پرنسپل کا ’جیل نما‘ تعلیمی نظام

 

---روما محمود---



آج بیٹھے بیٹھے کالج کازمانہ یاد آ گیا ۔

وہ زمانہ بھی کسی سخت آزمائش سے کم نہیں  تھا۔

​تعلیمی ادارے کسی بھی معاشرے میں وہ نرسریاں ہوتے ہیں جہاں پودوں کو کھلی فضا، اعتماد اور محبت سے سینچا جاتا ہے، لیکن بعض اوقات ان اداروں کی سربراہی ایسی شخصیات کے ہاتھ آ جاتی ہے جو نظم و ضبط اور ’دہشت‘ کے فرق کو مٹا دیتی ہیں۔

ہمارے کالج کی پرنسپل صاحبہ کی شخصیت بھی کچھ ایسی ہی تھی، جن کے کمرے کی کھڑکی محض ہوا کے لیے نہیں بلکہ ایک ’پینوراپٹیکون‘ (Panopticon) کی طرح استعمال ہوتی تھی۔


ان کی میز کا رخ ہمیشہ اس کھڑکی کی جانب رہتا تھا جہاں سے وہ عقابی نظروں کے ساتھ چند مخصوص طلبہ کا تعاقب کرتی تھیں۔ ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے کالج کا نظم و ضبط صرف ان چند چہروں کو گھورنے سے ہی برقرار رہ سکتا ہے۔ وہ کھڑکی سے باہر جھانکتے ہوئے شاید تعلیم کا مستقبل نہیں، بلکہ یہ دیکھتی تھیں کہ کس طالب علم کے قدموں کی چاپ ان کے معیارِ سخت گیری پر پوری نہیں اتر رہی۔

​نوٹس بورڈ، جو کبھی معلوماتی خبروں کا مرکز ہوا کرتا تھا، اب ان کے ’فرامینِ شاہی‘ کی آماجگاہ بن چکا ہتھا۔ کبھی وہاں لکھا ہوتا تھا "اپنا لنچ گھر سے لائیں" (گویا کینٹین کوئی ممنوعہ علاقہ ہو)، تو کبھی ہدایت نامہ جاری ہوتا تھا کہ "گیٹ سے دور رہیں"۔ حد تو یہ ہے کہ "گراؤنڈ کا چکر نہ لگائیں" جیسی پابندیاں دیکھ کر گمان ہوتا تھا کہ یہ کالج کا تعلیمی میدان نہیں بلکہ کسی حساس عمارت کا ریڈ زون ہے جہاں چہل قدمی بھی جرمِ عظیم قرار پاتی ہے۔

ان کے رویے کا سب سے تکلیف دہ پہلو وہ ہے جب کوئی طالب علم کسی جرات یا مجبوری کے تحت ان سے ملنے کی ٹھان لے۔ پرنسپل کے دفتر کے باہر آدھا گھنٹہ تپتی دھوپ یا سردی میں کھڑا رہنا ایک غیر اعلانیہ سزا کا حصہ ہوتا تھا۔ انتظار کی اس طویل کوفت کے بعد جب بالآخر باری آتی تھی، تو خیر مقدم مسکراہٹ سے نہیں بلکہ تند و تیز لہجے اور ڈانٹ سے کیا جاتا تھا۔

بات سننے سے پہلے ہی فیصلہ صادر کر دیا جاتا تھا اور پھر غصے میں دروازہ منہ پر دے مارنا ان کی اس ’بد مزاجی‘ کی مہرِ تصدیق بن جاتا تھا۔

​جب ادارے کے سربراہ اپنے اور طلبہ کے درمیان دیواریں کھڑی کر لیں اور مکالمے کے بجائے ملامت کو اپنا شیوہ بنا لیں، تو وہاں تعلیم تو شاید منتقل ہو جائے، مگر تربیت دم توڑ دیتی ہے۔ پرنسپل کا عہدہ صرف انتظامی نہیں ہوتا، یہ ایک سائے کی مانند ہونا چاہیے جس تلے طالب علم خود کو محفوظ تصور کریں، نہ کہ خوفزدہ۔

کاش ہماری درسگاہوں کے یہ ’اہلِ اختیار‘ سمجھ سکیں کہ ڈر سے خاموشی تو پیدا کی جا سکتی ہے، مگر احترام نہیں۔

Comments

Popular posts from this blog

کالاباغ ڈیم پر اعتراض کا جواب۔​کالا باغ ڈیم چشمِ دید گواہی اور قومی ضرورت کا پکارتا سچ ​

ایک درخت، کئی نسلوں کی یادیں

ادھا چمچ ہلدئ کے فوائد۔