یکم مئی تاریخ کے آئینے میں خون سے لکھی ایک تحریر

 



---روما محمود---




تاریخ کے اوراق جب پلٹتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ یکم مئی محض ایک تقریب کا نام نہیں، بلکہ انسانی وقار اور حقوق کی بحالی کی اس طویل جدوجہد کا استعارہ ہے جو صدیوں پر محیط استحصال کے خلاف شروع ہوئی تھی۔


اس عالمی دن کی جڑیں 1886ء کے امریکی شہر شکاگو سے جڑی ہیں۔ صنعتی انقلاب کے اس دور میں مزدوروں سے 14 سے 16 گھنٹے روزانہ کام لینا معمول کی بات تھی۔ ایک ایسی زندگی جہاں سورج نکلنے سے پہلے کام شروع ہوتا اور ڈھلنے کے بعد ختم، جس میں آرام، خاندان یا تعلیم کے لیے کوئی جگہ نہ تھی۔




یکم مئی 1886ء کو امریکہ بھر کے لاکھوں مزدوروں نے "آٹھ گھنٹے کام"کا مطالبہ کرتے ہوئے ہڑتال کی۔ شکاگو کے 'ہی مارکیٹ' (Haymarket) چوک پر ہونے والا یہ احتجاج محض ایک مطالبہ نہیں بلکہ سرمایہ دارانہ نظام کے جبر کے خلاف ایک اعلانِ جنگ تھا۔


4 مئی 1886ء کو جب پولیس نے پرامن مظاہرین کو منتشر کرنے کی کوشش کی، تو ایک نامعلوم بم دھماکے کے بعد افراتفری پھیل گئی۔ پولیس کی فائرنگ سے کئی مزدور جان بحق ہوئے اور بعد ازاں مزدور رہنماؤں کو جھوٹے مقدمات میں پھانسی دے دی گئی۔ ان رہنماؤں میں سے ایک، آگسٹ اسپائز نے تختہ دار پر چڑھنے سے پہلے کہا تھا:

 "ایک وقت آئے گا جب ہماری خاموشی ان آوازوں سے زیادہ طاقتور ہوگی جنہیں تم آج دبا رہے ہو۔"



1889ء میں پیرس میں منعقدہ بین الاقوامی سوشلسٹ کانفرنس نے شکاگو کے شہداء کی یاد میں یکم مئی کو "عالمی یومِ مزدور" کے طور پر منانے کا اعلان کیا۔ آج یہ دن دنیا کے 80 سے زائد ممالک میں سرکاری تعطیل کے طور پر منایا جاتا ہے، جو اس بات کی علامت ہے کہ ریاست تسلیم کرتی ہے کہ اس کی تعمیر میں بنیادی اینٹ مزدور کی محنت ہے۔


تاریخ ہمیں سکھاتی ہے کہ حقوق کبھی پلیٹ میں رکھ کر نہیں دیے جاتے، بلکہ ان کے لیے اجتماعی جدوجہد کرنی پڑتی ہے۔ 1886ء کا مطالبہ "آٹھ گھنٹے کام" تھا، لیکن آج کے دور میں چیلنجز بدل چکے ہیں

 

 جدید دور میں کم اجرت اور مہنگائی نے مزدور کو ایک نئی قسم کی معاشی غلامی میں جکڑ دیا ہے۔


سماجی تحفظ کا فقدان تاریخ گواہ ہے کہ جب تک مزدور کو صحت، تعلیم اور بڑھاپے کا تحفظ نہیں ملتا، معاشرہ ترقی نہیں کر سکتا۔


یکم مئی کی تاریخ ہمیں یاد دلاتی ہے کہ تہذیبوں کی چمک دمک، بلند و بالا عمارات اور معاشی ترقی کے پیچھے ان گمنام ہاتھوں کا لہو شامل ہے جنہیں تاریخ اکثر حاشیے پر رکھ دیتی ہے۔


اگر آج ہم آٹھ گھنٹے کی ڈیوٹی، ہفتہ وار تعطیل اور کام کے دوران انسانی حقوق کی بات کرتے ہیں، تو یہ ان مزدوروں کا مرہونِ منت ہے جنہوں نے شکاگو کی سڑکوں پر اپنے خون سے "انصاف" کی تعریف لکھی تھی۔ 


تاریخ کا سب سے بڑا سبق یہی ہے کہ محنت کش کی قدر نہ کرنے والی قومیں معاشی طور پر تو شاید اوپر اٹھ جائیں، لیکن اخلاقی طور پر ہمیشہ پستی کا شکار رہتی ہیں۔


Comments

Popular posts from this blog

کالاباغ ڈیم پر اعتراض کا جواب۔​کالا باغ ڈیم چشمِ دید گواہی اور قومی ضرورت کا پکارتا سچ ​

ایک درخت، کئی نسلوں کی یادیں

ادھا چمچ ہلدئ کے فوائد۔