Out of the way جا کر کچھ کرنا ۔
---روما محمود---
ہماری زندگی میں کئی بار ایسے لمحات آتے ہیں جب ہم کسی راستے، کسی شخص یا کسی بات کو "آؤٹ آف دی وے" کرنا چاہتے ہیں۔ انگریزی کا یہ جملہ بس ایک سادہ عبارت نہیں، بلکہ ایک پوری فلسفہ ہے۔
اس کا مطلب ہے راستے سے ہٹا دو، رکاوٹ دور کرو، یا پھر دور دراز کی جگہ جہاں کوئی آتا جاتا نہیں۔
ہماری سڑکوں پر تو یہ جملہ روزانہ سنائی دیتا ہے۔ ٹریفک میں جب کوئی گاڑی آگے نہیں ہٹتی تو پیچھے والا ڈرائیور غصے سے چیختا ہے، "آؤٹ آف دی وے!"۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ صرف سڑکوں پر ہی نہیں،
زندگی کے ہر شعبے میں لوگ ایک دوسرے کے "راستے میں" کھڑے ہوتے ہیں۔
آفس میں پروموشن کے لیے، سیاست میں کرسی کے لیے، گھر میں فیصلے کرنے کے لیے ہر جگہ ایک دوسرے کو "آؤٹ آف دی وے" کرنے کی دوڑ لگی ہوئی ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ جو لوگ دوسروں کو راستے سے ہٹانے میں سب سے زیادہ ماہر ہوتے ہیں، وہ خود بھی ایک دن کسی اور کے راستے میں پڑ جاتے ہیں۔
تاریخ اس کی گواہ ہے۔ بڑے بڑے آمر، سیاستدان اور کاروباری لوگ جو دوسروں کو "آؤٹ آف دی وے" کرتے رہے، آخر کار خود تاریخ کے کوڑے دان میں پھینک دیے گئے۔
"آؤٹ آف دی وے" کا ایک اور خوبصورت پہلو بھی ہے۔ کبھی کبھی ہمیں اپنے اندرونی راستوں سے بھی رکاوٹیں ہٹانا پڑتی ہیں۔
ڈر، جھوٹ، حسد، procrastination — یہ سب ہمارے اپنے ذہن کے اندر "راستے میں" کھڑی رکاوٹیں ہیں۔ جب تک ہم انہیں آؤٹ آف دی وے نہیں کریں گے، آگے نہیں بڑھ سکتے۔
بعض اوقات "آؤٹ آف دی وے" جگہوں پر جانا بھی بہت ضروری ہوتا ہے۔ شہر کی ہلچل سے دور، پہاڑوں میں، یا کسی چھوٹے سے گاؤں میں جہاں سگنل بھی نہیں آتا۔ وہاں جا کر انسان خود کو دوبارہ ڈھونڈ لیتا ہے
۔ ہم سب کے پاس ایسے "آؤٹ آف دی وے" لمحات ہونے چاہییں جہاں کوئی واٹس ایپ نہ ہو، کوئی نوٹیفکیشن نہ ہو، صرف سکون ہو۔
لیکن سب سے خطرناک "آؤٹ آف دی وے" وہ ہے جو ہم اپنے رشتوں کے ساتھ کرتے ہیں۔
بوڑھے والدین کو، پرانے دوستوں کو، یا ان لوگوں کو جو اب "فائدے" میں نہیں رہے، ہم آہستہ آہستہ "آؤٹ آف دی وے" کر دیتے ہیں۔
زندگی کی رفتار اتنی تیز ہو گئی ہے کہ جو شخص ہمارا کام نہیں آتا، اسے ہم سائیڈ لائن کر دیتے ہیں۔
پھر ایک دن خود اسی سائیڈ لائن پر کھڑے ہو کر سوچتے ہیں کہ سب نے کیوں ہمیں چھوڑ دیا۔
تو آئیے ایک بار خود سے پوچھیں. ہم کس کو راستے سے ہٹا رہے ہیں؟
اور کیا یہ واقعی ضروری ہے؟
کبھی کبھی راستہ بنانے کے لیے دوسروں کو ہٹانے کی بجائے، اپنا راستہ بدل لینا زیادہ عقلمندی ہے۔
زندگی ایک ایک طرفہ سڑک نہیں ہے جہاں صرف ایک ہی گاڑی چل سکتی ہو۔ یہ ایک چوڑی شاہراہ ہے۔ جگہ سب کے لیے ہے، بس صبر اور برداشت کا ہونا چاہیے۔
اگلی بار جب آپ کسی کو "آؤٹ آف دی وے" کہنے لگیں، تھوڑا رک کر سوچ لیں۔ شاید وہ شخص آپ کے راستے میں نہیں، بلکہ آپ کے سبق بننے کے لیے کھڑا ہو۔
زندگی ایک سیدھا راستہ نہیں، بلکہ ایک ایسا پہاڑی راستہ ہے جہاں ہر موڑ پر رکاوٹیں کھڑی ملتی ہیں۔ کچھ رکاوٹیں نظر آتی ہیں .
ناکامی، مالی مشکلات، صحت کے مسائل، رشتوں کی ٹوٹ پھوٹ۔ کچھ اندر چھپی ہوتی ہیں .
ڈر، خود شک، سستی، منفی سوچ اور وہ لامتناہی "کیا ہوگا" والا خوف۔
سب سے بڑی رکاوٹ وہ ہے جو ہم خود اپنے لیے کھڑی کر لیتے ہیں۔ بہت سے لوگ خواب دیکھتے ہیں لیکن ایک چھوٹی سی ناکامی پر رک جاتے ہیں۔
وہ سوچتے ہیں "اب نہیں ہو سکتا"، "میرا وقت گزر گیا"، "دوسرے بہتر ہیں"۔
یہ سب خود ساختہ دیواریں ہیں جو اصل میں ہماری صلاحیتوں سے زیادہ مضبوط ہوتی ہیں۔
لوگ اچھی نوکری چھوڑنے سے ڈرتے ہیں، نیا کاروبار شروع کرنے سے ڈرتے ہیں، رشتہ کرنے یا ختم کرنے سے ڈرتے ہیں۔
ڈر ہمیشہ "بدترین صورتحال" کا منظر دکھاتا ہے، جبکہ حقیقت میں بدترین صورتحال اکثر اتنی بری نہیں ہوتی جتنی ہم سوچتے ہیں۔
پرانی ناکامیوں، دھوکے اور نقصانات کا بوجھ۔ بہت سے لوگ ماضی کو آگے لے کر چلتے ہیں جیسے کوئی بھاری سامان۔ ماضی سبق دے سکتا ہے، لیکن اگر اسے رکاوٹ بنا لیا جائے تو وہ زنجیر بن جاتا ہے۔
کچھ لوگ آپ کے راستے میں کھڑے ہوتے ہیں
حسد کرنے والے، تنقید کرنے والے، یا وہ جو آپ کی کامیابی برداشت نہیں کر سکتے۔ انہیں "آؤٹ آف دی وے" کرنا پڑتا ہے، لیکن احتیاط سے۔ کبھی کبھی ان سے دور ہو جانا ہی بہترین حل ہوتا ہے۔
عمر، معاشی صورتحال، ملک کی سیاست، خاندانی ذمہ داریاں . یہ سب حقیقی رکاوٹیں ہیں۔ انہیں نظر انداز نہیں کیا جا سکتا، لیکن انہیں بہانہ بھی نہیں بنانا چاہیے۔
ہر رکاوٹ ایک پیغام ہے۔ پوچھیں: یہ مجھے کیا سکھانا چاہتی ہے؟
بڑی رکاوٹ کو ایک ہی بار عبور کرنے کی کوشش نہ کریں۔ اسے چھوٹے ٹکڑوں میں تقسیم کریں۔ آج صرف ایک فون کال، ایک صفحہ لکھنا، یا آدھا گھنٹہ ورزش۔
مراقبہ، نماز، ورزش، اچھی کتابیں، مثبت لوگوں کا ساتھ یہ سب اندرونی رکاوٹوں کو کمزور کرتے ہیں۔
کبھی کبھی رکاوٹ اتنی بڑی ہوتی ہے کہ اسے توڑنے کی بجائے اس کے اردگرد راستہ بنانا بہتر ہوتا ہے۔ جیسے ندی پتھر کے اردگرد بہتی ہے۔
کامیاب لوگوں کی زندگیاں رکاوٹوں سے خالی نہیں ہوتیں، وہ صرف ان رکاوٹوں سے زیادہ لڑتے ہیں۔
تھامس ایڈیسن نے ہزاروں ناکامیوں کے بعد بلب ایجاد کیا۔ ملاکن کے مطابق، "جو رکاوٹیں آپ کو روکتی ہیں، وہی آپ کو مضبوط بھی بناتی ہیں۔"
آج خود سے پوچھیں.
میری زندگی میں سب سے بڑی رکاوٹ کیا ہے؟
کیا میں اسے دور کرنے کے لیے واقعی کوشش کر رہا ہوں، یا صرف اس کا ماتم کر رہا ہوں؟
زندگی رکاوٹوں سے بھری ہے، لیکن انہی رکاوٹوں کے پار ہی اصل خوبصورتی، کامیابی اور سکون منتظر ہے۔ جو رکاوٹ کو چیلنج سمجھ کر آگے بڑھتا ہے، وہی آخر کار منزل تک پہنچتا ہے۔
رکاوٹیں مستقل نہیں، آپ کی ہمت مستقل رکھیں۔

Comments