آرٹیمس II: چاند کے گرد انسانی واپسی اور خلائی دورِ جدید کا آغاز
---روما محمود---
ناسا کا آرٹیمس II مشن 10 اپریل 2026 کو کامیابی سے مکمل ہوا۔ چار خلابازوں — ریڈ وائزمین (کمانڈر)، وکٹر گلوور (پائلٹ)، کرسٹینا کوچ (مشین اسپیشلسٹ) اور کینیڈین خلاباز جیریمی ہینسن — پر مشتمل Orion کیپسول Integrity بحرالکاہل میں سان ڈیگو کے قریب splashdown کر کے واپس زمین پر اترا۔ یہ 1972 کے اپولو 17 کے بعد پہلا manned مشن تھا جو چاند کے قریب گیا اور انسانوں کو اپولو 13 کے 56 سال پرانے فاصلے کا ریکارڈ توڑ کر سب سے دور لے گیا۔
مشن 1 اپریل 2026 کو فلوریڈا کے Kennedy Space Center سے Space Launch System (SLS) راکٹ پر روانہ ہوا۔ تقریباً 10 دن کی یہ مہم "free-return trajectory" پر مبنی تھی — یعنی اگر کوئی انجن فیل ہو جائے تو جہاز خود بخود زمین کی طرف لوٹ آئے۔ لانچ کے بعد translunar injection burn سے Orion زمین کے مدار سے نکل کر چاند کی طرف روانہ ہوا۔ 6 اپریل کو یہ چاند کے سب سے قریب (تقریباً 6,500 کلومیٹر اوپر) سے گزرا، چاند کے far side کو قریب سے دیکھا اور اس کی سطح کے نئے تصاویر حاصل کیے۔
ویڈیو اینیمیشن میں جو ٹریجیکٹری دکھائی گئی ہے، وہ بالکل درست ہے: زمین کے گرد نیلے دائرے، پھر ایک لمبا پیلا راستہ جو چاند کے گرد مڑتا ہے اور واپس آتا ہے۔ یہ figure-8 جیسی شکل والا راستہ gravity assist کا استعمال کرتا ہے۔ مشن کے دوران خلابازوں نے نئی ٹیکنالوجیز، لائف سپورٹ سسٹم، نیویگیشن اور radiation shielding کا ٹیسٹ کیا۔ کرسٹینا کوچ پہلی خاتون بنیں جو چاند کے قریب گئیں، جبکہ جیریمی ہینسن پہلے کینیڈین خلاباز ہیں جو low-Earth orbit سے باہر گئے۔
آرٹیمس II کا سب سے بڑا مقصد Artemis I (uncrewed) کے بعد manned flight کا validation تھا۔ Orion کیپسول نے re-entry کے دوران 24,000 میل فی گھنٹہ کی رفتار سے زمین کے ماحول میں داخل ہو کر 13 منٹ میں splashdown کیا۔ تمام خلاباز صحت مند ہیں اور اب Johnson Space Center واپس پہنچ رہے ہیں۔
یہ مشن صرف تکنیکی کامیابی نہیں بلکہ علامتی اہمیت کا حامل ہے۔ Artemis پروگرام کا حتمی ہدف 2028 یا اس کے قریب چاند کے جنوبی قطب پر manned landing (Artemis III) اور وہاں مستقل Lunar Gateway اور base قائم کرنا ہے۔ اس کے بعد Mars کی طرف انسانی سفر کا راستہ ہموار ہوگا۔ یہ مشن diversity کا بھی پیغام ہے — mixed gender crew، international partnership (ESA، CSA) اور نئی نسل کے لیے inspiration۔
پاکستان کے تناظر میں یہ مشن ہمیں سوچنے پر مجبور کرتا ہے۔ جب دنیا چاند اور Mars کی طرف بڑھ رہی ہے تو ہم اب بھی بنیادی سائنس اور تعلیم میں پیچھے ہیں۔ SUPARCO کو مضبوط کرنے، STEM education پر سرمایہ کاری اور international collaborations (جیسے China’s Chang’e program یا NASA کے ساتھ ممکنہ future links) کی ضرورت ہے۔ نوجوان انجینئرز اور سائنسدانوں کو خلائی ٹیکنالوجی کی طرف راغب کرنا چاہیے۔
آرٹیمس II کی کامیابی "بولڈلی گو وئیر نو ون ہیش گون بیفور" کا عملی ثبوت ہے۔ جب Orion کیپسول چاند کے far side سے گزر رہا تھا تو انسانیت نے ایک بار پھر دیکھا کہ ہماری حدود آسمان نہیں بلکہ ہماری سوچ ہے۔ اب Artemis III، IV اور اس کے بعد Mars منتظر ہیں۔
یہ نئی خلائی دوڑ نہیں، بلکہ انسانیت کا مشترکہ سفر ہے — ایک ایسا سفر جو ہمیں زمین کو بہتر بنانے اور ستاروں تک پہنچنے کی ترغیب دیتا ہے۔

Comments