یا حسرۃ علی العباد؛ ہائے افسوس ہے ان بندوں پر

 




---روما محمود---



میں جب بھی سورت یس` پڑھتی ہوں تو اس ایک آیت پر تھم جاتی ہوں ۔ باوجود کوشش کے آگے نہیں پڑھ سکتی ۔


سورۃ یٰسین قرآن مجید کی وہ مبارک سورۃ ہے جسے "قلبِ قرآن" کہا جاتا ہے۔ اس سورۃ کی آیت نمبر ۳۰ ایک ایسی آیت ہے جو دل کو ہلا کر رکھ دیتی ہے۔

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں۔

"یٰحَسْرَۃً عَلَی الْعِبَادِ ۚ مَا یَاْتِیْہِمْ مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا کَانُوْا بِہٖ یَسْتَہْزِءُوْنَ"

ترجمہ: "ہائے افسوس! ان بندوں پر۔ ان کے پاس کوئی رسول نہیں آیا مگر وہ اس کا مذاق اڑاتے رہے۔"

یہ "یا حسرۃ علی العباد" کا لفظ قیامت کے دن کی ایک شدید حسرت اور ندامت کی تصویر کشی کرتا ہے۔



جب کفار اور انکار کرنے والے عذاب دیکھیں گے تو ان کے دل میں ایک ایسا افسوس پیدا ہوگا جو بیان سے باہر ہے۔


وہ ہاتھ ملئیں گے، سینہ پیٹیں گے اور کہیں گے کہ کاش ہم نے رسولوں کی بات مانی ہوتی، کاش ہم نے اللہ کے پیغام کو قبول کیا ہوتا۔ مگر اس وقت حسرت کے سوا کچھ نہ ہوگا۔


یہ آیت صرف ان لوگوں کے لیے نہیں جو صریحاً کفر کرتے ہیں، بلکہ یہ ایک عالمگیر پیغام ہے۔ کتنے ہی "عباد" (بندے) ہیں جو دنیا میں اللہ کے رسولوں، انبیاء اور اللہ کی نشانیوں سے استہزاء کرتے ہیں۔

کچھ مذاق اڑاتے ہیں، کچھ نظرانداز کرتے ہیں، کچھ تو "جدیدیت" اور "سائنس" کے نام پر الزام لگاتے ہیں کہ یہ سب پرانی کہانیاں ہیں۔ مگر قرآن ہمیں بتاتا ہے کہ یہ استہزاء کرنے والوں کا انجام حسرت ہی حسرت ہوگا۔

اس آیت میں "العباد" کا لفظ بہت جامع ہے۔ بعض مفسرین نے کہا کہ یہاں مراد وہ بندے ہیں جو رسولوں کا مذاق اڑاتے رہے۔

بعض نے کہا کہ یہ حسرت ان رسولوں پر بھی ہے جن کی قوموں نے انہیں جھٹلایا۔

اور بعض نے اسے عام انسانوں پر افسوس قرار دیا جو اپنی ہی جانوں پر ظلم کرتے رہے۔

مذاق کرنے والے سمجھتے ہیں کہ وہ "آزاد خیال" اور "مہذب" ہیں، مگر وہ نہیں جانتے کہ وہ دراصل اپنے اوپر حسرت کا سامان جمع کر رہے ہیں۔ جب قیامت کا دن آئے گا تو ان کی آنکھیں کھلیں گی، مگر وقت گزر چکا ہوگا۔


حسرت کا مطلب صرف افسوس نہیں، بلکہ وہ شدید پچھتاوا ہے جسے بدلنے کی کوئی طاقت نہ رہے۔ دنیا میں تو انسان غلطی کر کے توبہ کر سکتا ہے، مگر قیامت کے دن حسرت کے سوا کچھ ہاتھ نہ آئے گا۔ اللہ تعالیٰ اس آیت میں ہمیں خبردار کر رہے ہیں کہ رسولوں کا مذاق اڑانا کوئی معمولی بات نہیں۔ یہ اللہ کے پیغام سے منہ موڑنے کی انتہا ہے۔


کیا ہم  سنت پر عمل کرتے ہیں یا صرف نام لے کر رہ جاتے ہیں؟ کیا ہم قرآن کی تلاوت کرتے ہیں مگر اس پر عمل نہیں کرتے؟ اگر ایسا ہے تو یہ بھی ایک قسم کا اجتناب ہے۔

یا حسرۃ علی العباد! 

یہ الفاظ جب بھی پڑھتے ہیں تو دل کانپ اٹھتا ہے۔ کتنی ہی قومیں گزر چکی ہیں جنہوں نے رسولوں کا مذاق اڑایا اور پھر حسرت میں ڈوب گئیں۔

نوح علیہ السلام کی قوم، ہود علیہ السلام کی قوم، صالح علیہ السلام کی قوم، لوط علیہ السلام کی قوم — سب کی مثالیں قرآن میں موجود ہیں۔

آج ہمارے پاس آخری رسول ﷺ کا پیغام ہے۔ اب کوئی بہانہ نہیں۔ نہ تو نئی رسالت آئے گی اور نہ کوئی نئی کتاب۔ اگر ہم نے اس پیغام سے منہ موڑا تو قیامت کے دن یہی آیت ہمارے خلاف گواہ بنے گی۔

اللہ ہم سب کو اس حسرت سے بچائے۔ ہمیں توفیق دے کہ ہم رسولوں کی عزت کریں، ان کی بات مانیں اور قیامت کے دن حسرت کی بجائے راحت اور سکون پائیں۔ آمین۔

"یا حسرۃ علی العباد"
یہ نہ صرف ایک آیت ہے، بلکہ ایک آئینہ ہے جو ہمیں ہماری حقیقت دکھاتا ہے۔

سوچیے، عمل کیجیے، قبل ازیں کہ حسرت کا وقت آ جائے۔

Comments

Anonymous said…
افسوس

Popular posts from this blog

کالاباغ ڈیم پر اعتراض کا جواب۔​کالا باغ ڈیم چشمِ دید گواہی اور قومی ضرورت کا پکارتا سچ ​

ایک درخت، کئی نسلوں کی یادیں

ادھا چمچ ہلدئ کے فوائد۔