ترازو کے دو پلڑے عزت بڑی یا پیسہ؟
--- روما محمود---
انسانی معاشرت کے ارتقاء میں جہاں بہت سے سوالات نے جنم لیا، وہاں ایک بحث ہمیشہ سے زیرِ بحث رہی ہے کہ زندگی کی گاڑی کو رواں دواں رکھنے کے لیے 'پیسہ' ناگزیر ہے یا وہ 'عزت' جس پر انسان کی بقا کا دارومدار ہے۔
یہ سوال جتنا سادہ ہے، اس کا جواب آج کے مادی دور میں اتنا ہی پیچیدہ ہو چکا ہے۔ ایک طرف وہ طبقہ ہے جو کہتا ہے کہ "باپ بڑا نہ بھیا، سب سے بڑا روپیہ"، اور دوسری طرف وہ لوگ ہیں جو "ان بھوکی آنکھوں سے غیرت کی روٹی بہتر ہے" پر یقین رکھتے ہیں۔
پیسہ بلاشبہ ایک ضرورت ہے۔
یہ ہمیں سہولیات فراہم کرتا ہے، بھوک مٹانے کا سامان کرتا ہے اور دنیاوی معاملات میں آسانی پیدا کرتا ہے۔ آج کے دور میں جب ہم معاشی بحرانوں، بازار کی تپش اور اداروں کی زبوں حالی کو دیکھتے ہیں، تو پیسے کی اہمیت سے انکار کرنا ناممکن لگتا ہے۔
لیکن کیا پیسہ سکونِ قلب کا ضامن بھی ہے؟
تاریخ گواہ ہے کہ جب انسان صرف مادی ہوس کے پیچھے بھاگتا ہے اور اس کی آنکھوں پر لالچ کی پٹی بندھ جاتی ہے، تو وہ ان دیکھے خوف کا شکار ہو جاتا ہے۔
وہی تنگ دستی کا خوف جو اسے اخلاقیات کی حدود پھلانگنے پر مجبور کر دیتا ہے۔
دوسری طرف 'عزت' وہ جوہر ہے جو انسان کو اشرف المخلوقات کے درجے پر فائز کرتا ہے۔ عزت محض نام و نمود کا نام نہیں، بلکہ یہ انسان کے کردار، اس کی سچائی، اس کے اصولوں اور ان روایات کی پاسداری کا ثمر ہے جو اسے اپنے بزرگوں سے ورثے میں ملتی ہیں۔
وہ شخص جس کے پاس دولت کے ڈھیر ہوں لیکن معاشرے میں اس کا کردار داغدار ہو، وہ کسی محفل میں سر اٹھا کر نہیں چل سکتا۔
اسے ہر وقت یہ دھڑکا لگا رہتا ہے کہ اس کی چمک دمک کے پیچھے چھپی کرپشن یا بے حیائی کی کوئی پرت کھل نہ جائے۔
آج کل ہم ایک ایسے معاشرتی دور سے گزر رہے ہیں جہاں ہم نے عزت کو بھی پیسے کے ترازو میں تولنا شروع کر دیا ہے۔
ہم اسے معزز سمجھتے ہیں جس کی گاڑی بڑی ہے یا جس کا بینک بیلنس بھاری ہے۔ اس رویے نے ہمیں 'ٹشو پیپر کلچر' کی طرف دھکیل دیا ہے، جہاں ہم رشتوں کو ان کے خلوص کے بجائے ان کی 'مالی قدر' سے پرکھتے ہیں۔
جب ہم کسی کی دستار اس کی دولت دیکھ کر اچھالتے یا سنبھالتے ہیں، تو دراصل ہم اپنی اجتماعی عزت کا جنازہ نکال رہے ہوتے ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ پیسہ ہاتھ کی میل ہے، آج ہے تو کل نہیں۔
لیکن جو عزت ایک بار چلی جائے، وہ دوبارہ لوٹ کر نہیں آتی۔
ایک کالم نگار کی حیثیت سے میں نے معاشرے کے ان کرداروں کو بہت قریب سے دیکھا ہے جنہوں نے چند سکوں کے عوض اپنا ضمیر بیچ دیا، مگر آج وہ محلوں میں رہ کر بھی ذہنی سکون کو ترستے ہیں۔
اس کے برعکس وہ لوگ جو تنگی اور ترشی میں بھی اپنی غیرت کا سودا نہیں کرتے، ان کے چہروں پر وہ تمکنت ہوتی ہے جو دنیا کی مہنگی ترین آرائش بھی فراہم نہیں کر سکتی۔
پیسہ زندگی گزارنے کا 'ذریعہ' تو ہو سکتا ہے، لیکن 'مقصد' ہرگز نہیں۔
عزت وہ بنیاد ہے جس پر انسانیت کی عمارت کھڑی ہوتی ہے۔
اگر بنیاد سلامت نہ رہے تو عمارت چاہے کتنی ہی سنہری کیوں نہ ہو، ایک نہ ایک دن اسے مٹی میں ملنا ہی ہوتا ہے۔
حلال کی تھوڑی کمائی اس حرام کے انبار سے ہزار گنا بہتر ہے جو انسان سے اس کی نیند اور اس کی عزت چھین لے۔
زندگی کا اصل تاوان وہ ہے جو ہم اپنی عزت بیچ کر ادا کرتے ہیں، اور یہ سودا کبھی منافع بخش نہیں ہوتا۔

Comments