بات میں لقمہ دینا ایک میٹھی مداخلت یا کڑوی عادت؟
---روما محمود---
ہماری معاشرے میں کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جنہیں قدرت نے 'بات مکمل ہونے کا انتظار کرنے' والے صبر سے بالکل محروم رکھا ہوتا ہے۔
آپ ابھی جملہ شروع ہی کرتے ہیں، لفظ ابھی زبان سے ادا ہونے کی تگ و دو میں ہوتے ہیں کہ سامنے سے ایک "لقمہ" آکر آپ کے جملے کا رخ موڑ دیتا ہے۔ اسے اردو میں ’لقمہ دینا‘ کہتے ہیں، اور سچ تو یہ ہے کہ بعض اوقات یہ لقمہ گلے میں پھنسے اس نوالے کی طرح ہوتا ہے جو نہ نگلا جائے نہ اگلا جائے۔
ہر لقمہ ایک جیسا نہیں ہوتا۔ کچھ لوگ خلوص میں لقمہ دیتے ہیں اور کچھ محض اپنی موجودگی کا احساس دلانے کے لیے۔
اصلاحی لقمہ ، جب آپ کوئی تاریخ یا نام غلط بتائیں اور سامنے والا فوراً درست کر دے۔
تھوڑی شرمندگی، مگر مفید۔
تکمیلی لقمہ آپ لفظ بھول جائیں اور دوسرا آپ کی مدد کر دے۔ ذہنی سکون اور ہمدردی۔
جارحانہ لقمہ آپ کی بات کاٹ کر اپنی کہانی شروع کر دینا۔ شدید بیزاری اور جھنجھلاہٹ۔
مذاقیہ لقمہ، سنجیدہ بات کے بیچ میں کوئی جملہ چست کر دینا۔
لقمہ کیوں دیا جاتا ہے؟
ماہرینِ نفسیات (اور وہ بیچارے جو روزانہ لقموں کا شکار ہوتے ہیں) اس کی چند وجوہات بتاتے ہیں۔
لقمہ دینے والے کو لگتا ہے کہ اسے آپ سے زیادہ پتا ہے یا وہ آپ کی بات پہلے ہی سمجھ چکا ہے۔
کچھ لوگ محفل کے مرکز میں رہنا چاہتے ہیں۔ انہیں ڈر ہوتا ہے کہ اگر انہوں نے بات نہ کاٹی تو لوگ انہیں بھول جائیں گے۔
آج کل کی تیز رفتار زندگی میں لوگوں کے پاس جملہ پورا سننے کا وقت ہی نہیں بچا۔
کہتے ہیں کہ "بہترین گفتگو وہ ہے جس میں بولنے سے زیادہ سنا جائے"۔ جب آپ کسی کی بات کے بیچ میں لقمہ دیتے ہیں، تو دراصل آپ غیر محسوس طریقے سے اسے یہ پیغام دے رہے ہوتے ہیں کہ "تمہاری بات اہم نہیں ہے، میری سنو"۔
"بات کاٹنا دراصل دوسرے شخص کی سوچ کے تسلسل پر شب خون مارنے کے مترادف ہے۔"
مسلسل لقمہ دینے سے گفتگو کا حسن ختم ہو جاتا ہے۔ وہ مکالمہ جو ایک خوبصورت دریا کی طرح بہنا چاہیے تھا، وہ لقموں کی وجہ سے ایک ٹوٹی ہوئی سڑک بن جاتا ہے جہاں ہر دو قدم بعد ایک 'اسپیڈ بریکر' آتا ہے۔
لقمہ دینا اگر ضرورت کے تحت ہو (جیسے کوئی لفظ یاد دلانا) تو یہ نمک میں آٹے کے برابر ٹھیک ہے، لیکن اگر یہ عادت بن جائے تو انسان اپنی ساکھ کھو دیتا ہے۔ گفتگو میں "وقفہ" لینا سیکھیں۔ یاد رکھیں، سامنے والے کی بات مکمل ہونے دینا اسے دی جانے والی سب سے بڑی عزت ہے۔
اگلی بار جب آپ کا دل چاہے کہ کسی کی بات کے بیچ میں اپنا "قیمتی لقمہ" ڈالیں، تو ذرا رک کر سوچئے گا۔ کیا آپ کا یہ لقمہ بات کو ذائقہ دے گا یا بدمزہ کر دے گا؟
محفل کے خود ساختہ "ایڈیٹر"
کچھ لوگ تو لقمہ دینے میں اتنے ماہر ہوتے ہیں کہ آپ ابھی صرف "السلام علیکم" کہتے ہیں اور وہ جواب دینے کے بجائے آپ کے لہجے، ٹوپی کے زاویے یا موسم کی خرابی پر لقمہ دے مارتے ہیں۔
یہ وہ لوگ ہیں جو سمجھتے ہیں کہ دنیا کی ہر گفتگو ایک کچا مسودہ (Draft) ہے اور اسے "فائنل" کرنا ان کا منصبی فریضہ ہے۔
پیشگی لقمہ (Pre-emptive Strike): یہ وہ لقمہ ہے جو آپ کے بات شروع کرنے سے پہلے ہی دے دیا جاتا ہے۔ آپ نے ابھی منہ کھولا ہی ہوتا ہے کہ سامنے سے آواز آتی ہے،
"ہاں ہاں، مجھے پتا ہے تم کیا کہو گے!" بندہ پوچھے، بھائی اگر آپ کو سب پتا ہے تو میں استخارہ کرنے آیا ہوں؟
جذباتی اسپیڈ بریکر، آپ کسی دکھ بھری داستان سنا رہے ہوں کہ "یار کل میرا ایکسیڈنٹ ہوتے ہوتے بچا... اور سامنے سے لقمہ آئے گا، "ارے یہ تو کچھ بھی نہیں، پچھلے سال میرا جو ایکسیڈنٹ ہوا تھا ناں..."۔
لیجئے! آپ کا حادثہ تو چھوٹا پڑ گیا، اب ان کی 'میگا ہٹ' فلم شروع ہوگئی۔
لفظی لقمہ خور، کچھ لوگ لغت (Dictionary) بن کر بیٹھے ہوتے ہیں۔ آپ جوشِ خطابت میں کوئی لفظ ذرا سا ادھر ادھر کر دیں، پوری بات گئی تیل لینے، وہ لقمہ دیں گے۔
"بھائی! اسے 'موقوف' نہیں 'موقوف' کہتے ہیں، ذرا مخرج درست کریں"۔ اب بندہ بات جاری رکھے یا پہلے اردو کی ٹیوشن لے؟
لقمہ دینے کے "سائیڈ ایفیکٹس"
بلڈ پریشر کا ٹیسٹ، لقمہ کھانے والا اکثر اپنے غصے کو پی کر رہ جاتا ہے، جس سے اس کا بی پی 140 تک جا سکتا ہے۔
بات کا رخ بدلنا اکثر لقمہ دینے والا ایسی پٹڑی پر چڑھا دیتا ہے کہ اصل بات کہیں کوسوں دور پیچھے رہ جاتی ہے۔
محفل کا اختتام جب ہر جملے پر لقمہ ملنے لگے، تو مقرر خاموشی میں ہی عافیت سمجھتا ہے، اور یوں ایک اچھی محفل دم توڑ دیتی ہے۔
سیاسی تڑکا ہمارے ملک میں تو لقمہ دینا ایک قومی کھیل بن چکا ہے۔ ٹاک شوز دیکھ لیں، وہاں لقمہ نہیں دیا جاتا بلکہ پورا "نوالہ" چھینا جاتا ہے۔ میزبان ابھی سوال مکمل نہیں کر پاتا کہ مہمان صاحب دوسرے کا لقمہ کاٹ کر اپنی ہی ہانڈی پکانے لگتے ہیں۔
لقمہ دینا دراصل ایک "اعصابی بیماری" ہے جس کا علاج صرف خاموشی کی گولی میں چھپا ہے۔ اگر آپ کو بھی لقمہ دینے کی عادت ہے، تو یاد رکھیں کہ ہر بات میں ٹانگ (یا زبان) اڑانا ضروری نہیں ہوتا۔
کبھی کبھی دوسرے کو اپنی "جہالت" یا "دانشوری" مکمل کرنے کا موقع دینا بھی صدقہ جاریہ ہے۔
آپ کا لقمہ اگر کسی کی بات کا ذائقہ خراب کر رہا ہے، تو بہتر ہے کہ آپ اپنا منہ صرف اصلی لقمہ (کھانا) کھانے کے لیے ہی استعمال کریں!

Comments