جناں لہے تو پاپ کمائے ، کتھے نی اے گھر والے ۔
---روما محمود---
میری امی اکثر یہ شعر پڑھتی رہتی تھیں ۔
جناں لہے تو پاپ کمائے ،
کتھے نی اے گھر والے ۔
ہم سب بچے حیران ہو کر دیکھتے رہتے تھے ۔
میری شاعری بھی شاید امی کی بات بات پر شعر پڑھنے سے شروع ہوئی ہے۔
اس وقت یہ باتیں سمجھ نہیں آتی تھیں پر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ہر بات واضع ہو گئی۔
پنجابی زبان کے ایک قدیم صوفیانہ شعر نے انسانی نفسیات اور معاشرتی رویوں کی ایک ایسی تلخ سچائی کو بیان کر دیا ہے جو ہر دور میں صادق آتی ہے۔
"جناں لہے تو پاپ کمائے، کتھے نی او گھر والے"
محض ایک مصرع نہیں، بلکہ ایک پورا فلسفہ ہے جو انسان کو اس کی تگ و دو، اس کی ترجیحات اور اس کے انجام کی طرف متوجہ کرتا ہے۔
معاشرے کا بغور مشاہدہ کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ انسان اپنی زندگی کا بڑا حصہ دوسروں کی خوشی اور آسائش کی خاطر وقف کر دیتا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اہل خانہ کی کفالت اور ان کے لیے بہتر زندگی کی جستجو ایک مقدس فریضہ ہے، لیکن المیہ تب جنم لیتا ہے جب اس "بہتر زندگی" کی ہوس میں انسان جائز اور ناجائز کی تمیز کھو بیٹھتا ہے۔
اکثر دیکھنے میں آتا ہے کہ ایک شخص جب کرپشن، ناانصافی یا کسی کا حق مارنے کے راستے پر چلتا ہے، تو اس کے پاس سب سے بڑی دلیل یہ ہوتی ہے کہ "میں یہ سب اپنے بچوں کے لیے کر رہا ہوں"۔ وہ سمجھتا ہے کہ شاید یہ گناہ اس کی محبت کا حصہ ہیں، لیکن وہ اس حقیقت کو فراموش کر دیتا ہے کہ اعمال کی جوابدہی مکمل طور پر انفرادی ہے۔
تاریخ کے جھروکوں میں جھانکیں یا اپنے اردگرد کے بڑے بڑے ایوانوں کو دیکھیں، جو کبھی رعب و دبدبے کی علامت تھے، آج وہاں کے مکین کہاں ہیں؟
جن جائیدادوں اور بینک بیلنس کے لیے کسی نے ضمیر کا سودا کیا، آج وہ وراثت کی شکل میں تقسیم ہو چکے ہیں۔
وارثین ان آسائشوں سے تو لطف اندوز ہوتے ہیں، لیکن اس "پاپ" یا گناہ میں کوئی حصہ دار نہیں بنتا جو ان کو حاصل کرنے کے لیے کیا گیا تھا۔
یہ ایک نفسیاتی دھوکا ہے جس میں ہم سب مبتلا ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ شاید ہماری قربانیاں (خواہ وہ غلط راستے سے ہوں) ہمیں اپنوں کی نظر میں امر کر دیں گی۔
مگر حقیقت یہ ہے کہ وقت کی گرد ہر رشتے پر پڑ جاتی ہے۔
قبر کے اندھیرے میں نہ تو وہ اولاد ساتھ جاتی ہے جس کے لیے قانون توڑا گیا، اور نہ وہ دوست احباب جن کی محفلوں کی خاطر فرائض سے غفلت برتی گئی۔
جس دن سانس کی ڈور ٹوٹتی ہے، وہ گھر والے جن کے آرام کی خاطر انسان نے اپنا سکون اور اپنی آخرت داؤ پر لگائی ہوتی ہے، وہی سب سے پہلے میت کو گھر سے رخصت کرنے کی فکر میں ہوتے ہیں۔"
اس کلام کا مقصد یہ نہیں کہ انسان دنیا سے کنارہ کش ہو جائے یا اپنے گھر والوں کی ذمہ داریوں سے منہ موڑ لے، بلکہ یہ ہمیں میانہ روی کا سبق دیتا ہے۔ یہ یاد دلاتا ہے کہ
محبت میں اتنے اندھے نہ ہوں کہ خالق کو ناراض کر دیں۔
حلال رزق، خواہ کم ہی کیوں نہ ہو، اس حرام سے بہتر ہے جو نسلوں کے لیے وبال بن جائے۔
انسان کو اپنی شخصیت کا مرکز اپنی ذات اور اپنے اعمال کو بنانا چاہیے، کیونکہ آخرکار ہر مسافر کو اپنا بوجھ خود ہی اٹھانا ہے۔
آج کے نفسا نفسی کے دور میں اس صوفیانہ پیغام کی اہمیت اور بڑھ گئی ہے۔ ہم ڈیجیٹل دنیا اور مادی ترقی میں اس قدر مگن ہیں کہ یہ بھول گئے ہیں کہ ہماری ہر کمائی ہوئی چیز یہیں رہ جانی ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنی تگ و دو کا رخ مادی ہوس سے ہٹا کر اخلاقی اور روحانی بلندی کی طرف موڑیں، تاکہ جب وقت رخصت آئے تو ہم پر "پاپ" یعنی گناہ کا بوجھ نہ ہو، بلکہ سکونِ قلب کی دولت ہو۔

Comments