ایران کا حالیہ سیز فائر، ایک عارضی سانس یا مستقل امن کی بنیاد؟

 





---روما محمود---




جنگ کے شعلوں میں جلتے مشرق وسطیٰ کے لیے 8 اپریل 2026 کا دن تاریخ کا ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتا ہے۔ امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان دو ہفتوں کا عارضی سیز فائر طے پا گیا ہے، جس میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کی شق بھی شامل ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسے "ڈبل سائیڈڈ" سیز فائر قرار دیا، جبکہ ایران اسے "امریکہ اور اسرائیل کے خلاف فتح" کے طور پر پیش کر رہا ہے۔




تہران کی سڑکوں پر لوگ جھنڈے لہرا رہے ہیں، مگر شکوک و شبہات بھی موجود ہیں۔

یہ سیز فائر فروری 2026 میں شروع ہونے والی جنگ کا نتیجہ ہے، جب امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر حملے شروع کیے۔ ایران نے جواب میں خلیج کے علاقوں میں جوابی کارروائیاں کیں، جس سے عالمی توانائی کی سپلائی متاثر ہوئی اور آبنائے ہرمز — جو عالمی تیل کی تقریباً ایک تہائی نقل و حمل کا راستہ ہے  بند ہو گیا۔ پاکستان کی ثالثی، خاص طور پر وزیر اعظم شہباز شریف کی کوششوں، مصر اور ترکی کی مدد سے یہ معاہدہ ممکن ہوا۔

ایران نے ایک 10 نکاتی منصوبہ پیش کیا تھا جسے ٹرمپ نے ابتدائی طور پر "قابل عمل" کہا، مگر بعد میں کچھ تحفظات بھی ظاہر کیے۔

پہلی بات تو یہ ہے کہ یہ عارضی ہے ۔ صرف دو ہفتے۔

اس دوران مذاکرات ہوں گے جن میں پابندیاں ہٹانا، غیر جارحانہ معاہدہ، اور علاقے سے امریکی فوجیوں کے انخلا جیسی باتیں شامل ہو سکتی ہیں۔ ایران کے لیے آبنائے ہرمز پر ٹولز وصول کرنے کا موقع بھی بن سکتا ہے، جو پہلے بین الاقوامی پانی سمجھا جاتا تھا۔

عالمی مارکیٹوں میں تیل کی قیمتیں گر گئیں، جو اس معاہدے کی فوری اقتصادی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔

دوسری طرف، اسرائیل کے لیے یہ گھریلو طور پر ایک چیلنج ہے۔ وزیر اعظم نیٹن یاہو کے لیے یہ "بڑا مسئلہ" بن سکتا ہے کیونکہ حزب اللہ کے ساتھ جنگ جاری رہے گی۔

ایران اسے اپنی "تاریخی مزاحمت" کی فتح کے طور پر پروپیگنڈا کر رہا ہے، جبکہ امریکہ اسے اپنی "فوجی کامیابی" قرار دے رہا ہے۔

ایرانی عوام میں شکوک ہیں ۔ بہت سے لوگ سوچ رہے ہیں کہ یہ صرف سانس لینے کا وقت ہے یا پھر مستقل امن کی طرف قدم؟

پاکستان کا کردار قابل ستائش ہے۔ ثالثی کی کوششیں نہ صرف علاقائی امن کے لیے اہم ہیں بلکہ پاکستان کی خارجہ پالیسی کو ایک فعال اور ذمہ دارانہ تصویر دیتی ہیں۔ تاہم، یہ سیز فائر نازک ہے۔ روس اور چین نے اقوام متحدہ میں ایران کے خلاف قرارداد کو ویٹو کیا تھا، جو ظاہر کرتا ہے کہ بڑی طاقتیں اب بھی کھیل میں ہیں۔

اگر مذاکرات ناکام ہوئے تو جنگ دوبارہ شروع ہو سکتی ہے، جس کے نتیجے میں تیل کی قیمتیں آسمان کو چھو سکتی ہیں، مہنگائی بڑھ سکتی ہے، اور انسانی جانوں کا مزید ضیاع ہو سکتا ہے۔

ایران نے پہلے عارضی سیز فائر کو مسترد کیا تھا اور مستقل حل کا مطالبہ کیا تھا۔

اب یہ دو ہفتوں کا وقفہ اعتماد سازی کا موقع فراہم کر سکتا ہے، مگر تاریخ بتاتی ہے کہ مشرق وسطیٰ کے تنازعات آسانی سے حل نہیں ہوتے۔

اسرائیل-حماس، حزب اللہ اور ایران کے نیٹ ورک جیسے مسائل اب بھی موجود ہیں۔

یہ سیز فائر امید کی کرن تو ہے، مگر اسے مستقل امن میں تبدیل کرنے کے لیے تمام فریقوں کو سنجیدگی سے بیٹھنا ہوگا۔

ایران کی مزاحمت نے اسے طاقتور دکھایا، مگر معاشی دباؤ بھی شدید ہے۔ امریکہ اور اسرائیل کو بھی اپنے مقاصد (جو شاید رژیم چینج تک تھے) حاصل نہیں ہوئے۔ خطے کے لوگوں — ایرانی، اسرائیلی، عرب — سب کو امن چاہیے۔

اگر یہ دو ہفتے کامیاب رہے تو شاید "اسلام آباد معاہدہ" کی طرف بڑھا جا سکے۔ ورنہ، تاریخ ایک بار پھر دہرائے گی۔ امن کی راہ مشکل ہے، مگر اس کے سوا کوئی چارہ نہیں۔

پاکستان جیسے ممالک کی ثالثی اس راہ کو ہموار کر سکتی ہے۔

پاکستان نے حالیہ امریکہ-اسرائیل اور ایران کے درمیان تنازع میں ایک اہم اور فعال ثالثی کا کردار ادا کیا ہے، جس کے نتیجے میں 8 اپریل 2026 کو دو ہفتوں کا عارضی سیز فائر طے پایا۔

یہ پاکستان کی خارجہ پالیسی کی ایک بڑی کامیابی سمجھی جا رہی ہے، جسے "اسلام آباد معاہدہ" کی طرف ابتدائی قدم بھی کہا جا رہا ہے۔

پاکستان نے امریکہ اور ایران کو ایک دو مرحلہ تجویز پیش کی۔ پہلا مرحلہ فوری سیز فائر اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا، جبکہ دوسرا مرحلہ جامع مذاکرات اور مستقل معاہدے پر مشتمل ہے۔ اس فریم ورک میں ایران کی طرف سے جوہری پروگرام پر پابندیاں، پابندیوں میں نرمی، اور علاقائی استحکام کی ضمانتیں شامل ہیں۔

شہباز شریف نے براہ راست صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے رابطہ کیا اور ڈیڈ لائن میں توسیع کی درخواست کی۔ انہوں نے ایران کو بھی آبنائے ہرمز کھولنے کی اپیل کی۔
 
آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر نے رات بھر امریکی نائب صدر JD Vance، خصوصی ایلچی Steve Witkoff، اور ایرانی وزیر خارجہ Abbas Araghchi سے مسلسل رابطے کیے۔

مصر اور ترکی کے ساتھ مل کر پاکستان نے علاقائی کوششیں ہم آہنگ کیں۔ اسلام آباد میں وزرائے خارجہ کی ملاقاتیں بھی ہوئیں۔

پاکستان ایران کے مفادات کا نمائندہ ہے واشنگٹن میں، اس لیے یہ دونوں ممالک کے درمیان براہ راست رابطے کے بغیر پیغامات پہنچانے کا بہترین ذریعہ بنا۔

فوری طور پر حملے روک دیے گئے۔ ایران نے آبنائے ہرمز کو محدود وقت کے لیے کھولنے پر رضامندی ظاہر کی (تکنیکی مسائل کے ساتھ)۔ اسرائیل نے اسے حزب اللہ کے ساتھ اپنی جنگ سے الگ رکھا ہے۔

10 اپریل 2026 کو اسلام آباد میں مزید مذاکرات کا امکان۔

پاکستان نے دونوں فریقوں کو دعوت دی ہے۔

ایرانی وزیر خارجہ نے پاکستان کی قیادت (شہباز شریف اور عاصم منیر) کا خصوصی طور پر شکریہ ادا کیا۔

پاکستان کی یہ ثالثی اس لیے قابل ذکر ہے کیونکہ وہ امریکہ اور ایران دونوں کے ساتھ اچھے تعلقات رکھتا ہے، چین اور سعودی عرب کے ساتھ اسٹریٹجک شراکت بھی ہے۔

عالمی توانائی کی سپلائی (خاص طور پر تیل) متاثر ہونے سے پاکستان خود بھی متاثر تھا، اس لیے امن کی کوشش اس کے اپنے مفاد میں بھی تھی۔

تاہم، یہ سیز فائر عارضی ہے۔ اگر مذاکرات ناکام ہوئے تو تنازع دوبارہ بھڑک سکتا ہے۔ اسرائیل-حزب اللہ تنازع اب بھی الگ ہے۔

پاکستان کی خارجہ پالیسی نے ایک بار پھر ثابت کیا کہ وہ خطے میں "امن کا معمار" بن سکتا ہے۔ شہباز شریف نے اسے "خیر سگالی اور امن کی کوشش" قرار دیا ہے۔

یہ تفصیلات حالیہ رپورٹس (الجزیرہ، رائٹرز، ڈان، بی بی سی وغیرہ) پر مبنی ہیں۔ صورتحال تیزی سے تبدیل ہو سکتی ہے، مزید اپ ڈیٹس کے لیے خبریں فالو کریں۔

اسرائیل نے امریکہ اور ایران کے درمیان طے پانے والے دو ہفتوں کے عارضی سیز فائر کی حمایت کا اعلان کیا ہے، لیکن اسے جزوی اور مشروط قرار دیا۔

وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کے دفتر نے کہا کہ اسرائیل صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے فیصلے کی حمایت کرتا ہے کہ ایران پر حملے دو ہفتوں کے لیے معطل کیے جائیں، مگر یہ معاہدہ حزب اللہ کے ساتھ لبنان میں جاری جنگ پر لاگو نہیں ہوتا۔

نیتن یاہو نے سیز فائر کو قبول کر لیا اور IDF (اسرائیلی فوج) نے ایران پر حملے روک دیے ہیں۔ اسرائیل نے واضح کیا کہ ایران کے خلاف کارروائیاں عارضی طور پر بند ہیں، لیکن دفاعی طور پر وہ ہائی الرٹ پر ہے اور کسی بھی خلاف ورزی کا فوری جواب دے گا۔

سب سے اہم بات یہ ہے کہ اسرائیل نے سیز فائر کو صرف ایران فرنٹ تک محدود رکھا۔

حزب اللہ کے خلاف لبنان میں آپریشنز جاری رہیں گے۔ اسرائیلی میڈیا کے مطابق نیتن یاہو نے یہ واضح کر دیا کہ لبنان کی جنگ اس معاہدے کا حصہ نہیں۔


  - تل ابیب اور دیگر شہروں کے لوگ احتیاط سے دیکھ رہے ہیں۔ ایک رہائشی نے AP کو بتایا کہ "بہت کچھ غیر واضح ہے، احساس تلخ ہے، مگر امید ہے کہ کچھ اچھا نکلے گا"۔
 
حزب مخالف لیڈر نے اسے "سیاسی تباہی" قرار دیا ہے۔

سیز فائر سے پہلے نیتن یاہو نے ٹرمپ سے درخواست کی تھی کہ اس مرحلے پر ایران کے ساتھ سیز فائر نہ کیا جائے، کیونکہ اس سے اسرائیل کے اسٹریٹجک اہداف (جوہری پروگرام کو مکمل طور پر روکنا اور رژیم کو کمزور کرنا) متاثر ہو سکتے ہیں۔ تاہم، اب ٹرمپ کے فیصلے کے بعد انہوں نے حمایت کر دی۔

اسرائیل کا خدشہ ہے کہ یہ عارضی وقفہ ایران کو دوبارہ منظم ہونے کا موقع دے گا۔ وہ چاہتا ہے کہ ایران کا جوہری پروگرام، بیلسٹک میزائل اور علاقائی پراکسی نیٹ ورک (حزب اللہ، حماس وغیرہ) مکمل طور پر کمزور ہو جائے۔

اس لیے لبنان میں کارروائی جاری رکھ کر وہ ایران کے اثر و رسوخ کو توڑنے کی کوشش کر رہا ہے۔

اسرائیل نے سیز فائر کو "ٹرمپ کی قیادت میں ایک قدم" قرار دیا ہے مگر اسے مکمل فتح نہیں سمجھتا۔

وہ اسے سفارتی عمل کا حصہ مانتا ہے، لیکن اپنے بنیادی اہداف (خاص طور پر حزب اللہ کو غیر مسلح کرنا) سے دستبردار نہیں ہوا۔

پاکستان کی ثالثی میں اسلام آباد میں ہونے والے آئندہ مذاکرات میں اسرائیل کا موقف سخت رہے گا۔

صورتحال نازک ہے ۔ اگر ایران نے Hormuz Strait کھول دیا اور حملے رک گئے تو دو ہفتوں میں مستقل معاہدے کی طرف پیش رفت ہو سکتی ہے، ورنہ تنازع دوبارہ بھڑک سکتا ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

کالاباغ ڈیم پر اعتراض کا جواب۔​کالا باغ ڈیم چشمِ دید گواہی اور قومی ضرورت کا پکارتا سچ ​

ایک درخت، کئی نسلوں کی یادیں

ادھا چمچ ہلدئ کے فوائد۔