نشانِ عبرت کی ٹرافی ۔ ہمارے در و دیوار میں چھپے خاموش اسباق۔

 





---روما محمود---



میں نے یہ لفظ تمھیں نشان عبرت بنا دوں گا سب کے منہ سے سنا ہے اور پھر لوگوں کو نشان عبرت بناتے لوگوں کو ہی اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے ۔

میں اکثر سوچتی ہوں ۔
اگر عزت اور ذلت اللہ کے ہاتھ میں ہے تو انسان کو کیسے اتنا اختیار مل جاتا ہے کہ وہ دوسوں کے زندگیوں کو اپنے مفاد کے لیے تباہ کر دے اور پھر اتراتا پھرے ۔

پھر کہے دیکھا کیسا اللہ نے اسے نشان عبرت بنایا ہے ۔





لفظ "عبرت" کے لغوی معنی پار اترنے یا عبور کرنے کے ہیں، لیکن اصطلاحی معنوں میں اس سے مراد کسی واقعے، منظر یا حادثے سے نصیحت پکڑ کر اپنی حالت کو درست کرنا ہے۔

ہم اکثر "نشانِ عبرت" کا لفظ سنتے ہی فرعون کے ممی بنے ہوئے ڈھانچے، بابل و نینوا کے کھنڈرات یا کسی ظالم آمر کے لرزہ خیز انجام کے بارے میں سوچنے لگتے ہیں۔

بلاشبہ یہ تاریخ کے بڑے اسباق ہیں، لیکن نشانِ عبرت صرف تاریخ کی بوسیدہ کتابوں یا میوزیم کے سرد کمروں میں مقید نہیں ہوتے۔

لوگوں کو نشان پاکستان،  نشان حیدر ملتا ہے اور
دوسروں کو نشان عبرت ۔


یہ ہمارے اردگرد، ہماری گلیوں، ہمارے بازاروں اور خود ہمارے گھروں کی دہلیز پر بکھرے پڑے ہیں۔

روزمرہ زندگی کا ہر وہ لمحہ جو ہمیں اپنی اوقات یاد دلا دے، وہ ہمارے لیے نشانِ عبرت ہے۔

اگر ہم اپنے محلے یا شہر کی سیاست پر نظر ڈالیں، تو ہمیں ایسے کردار ملیں گے جو چند سال پہلے تک "خدا" بنے بیٹھے تھے۔

جن کے ڈر سے لوگ راستہ بدل لیتے تھے، جن کی ایک جنبشِ ابرو پر فیصلے بدل جاتے تھے۔

آج وہی لوگ عدالتوں کے چکر لگاتے، تھانوں میں بے بسی کی تصویر بنے یا گمنامی کے اندھیروں میں گم نظر آتے ہیں۔

یہ بدلتی ہوئی کرسیاں اور پروٹوکول کا ختم ہو جانا روزمرہ کا وہ نشانِ عبرت ہے جو ہمیں بتاتا ہے کہ "عزت اور ذلت دینے والی ذات صرف ایک ہے"۔

جب انسان اپنے منصب کو اپنی ذاتی جائیداد سمجھنے لگتا ہے، تو قدرت اسے وقت کے کسی موڑ پر کھڑا کر کے تماشہ بنا دیتی ہے۔

آپ نے اکثر اپنے شہر کے کسی مہنگے ترین علاقے میں ایک ایسا گھر دیکھا ہوگا جو برسوں سے بند پڑا ہے۔ جس کی دیواروں سے پلستر جھڑ رہا ہے، جہاں خاردار جھاڑیاں اگ آئی ہیں اور جس کے گیٹ پر زنگ آلود تالا لٹک رہا ہے۔

آج اس گھر کی ویرانی پکار پکار کر کہہ رہی ہے کہ وہ لوگ کہاں گئے جو اسے اپنی بقا کا ضامن سمجھتے تھے؟ وراثت کی جنگ، اولاد کی بے رخی یا اچانک موت نے اس عالیشان محل کو ایک نشانِ عبرت بنا دیا۔

ہم روز اس کے پاس سے گزرتے ہیں، لیکن کیا ہم یہ سوچتے ہیں کہ ہم جن دیواروں کو بلند کرنے میں اپنی زندگی تیاگ رہے ہیں، ان کا انجام بھی یہی ہونا ہے؟

نشانِ عبرت کی ایک اور بڑی تصویر ہسپتال کے جنرل وارڈز ہیں۔ وہاں بستروں پر پڑے وہ لوگ جو کبھی اپنی طاقت اور صحت کے زعم میں کسی کو خاطر میں نہیں لاتے تھے، آج ایک ایک سانس کے لیے مشینوں کے محتاج ہیں۔ وہ جسم جن کی زیبائش پر ہزاروں روپے خرچ کیے جاتے تھے، آج ایک سفید چادر میں لپٹے بے بسی کی تصویر ہیں۔

ایک صحت مند انسان جب کسی بسترِ مرگ پر پڑے شخص کو دیکھتا ہے، تو یہ اس کے لیے نشانِ عبرت ہے کہ وہ اپنی توانائی کو کس کام میں صرف کر رہا ہے۔ کیا وہ دوسروں پر ظلم کر رہا ہے یا اللہ کی دی ہوئی اس نعمت کا شکر ادا کر رہا ہے؟

آج کے دور میں نشانِ عبرت ڈیجیٹل بھی ہو گئے ہیں۔ ہم دیکھتے ہیں کہ ایک شخص راتوں رات شہرت کی بلندیوں پر پہنچتا ہے، لاکھوں فالوورز اسے اپنا آئیڈیل بناتے ہیں، لیکن پھر ایک چھوٹی سی اخلاقی لغزش، ایک ویڈیو یا ایک بیان اسے زمین پر پٹخ دیتا ہے۔

وہ لوگ جو کل تک اس کی واہ واہ کرتے تھے، وہی اس پر پتھر برسانے لگتے ہیں۔


ہمارے معاشرے میں موجود "اولڈ ہومز" یا گھروں کے کونوں میں پڑے وہ بزرگ جن سے بات کرنے کا کسی کے پاس وقت نہیں، سب سے بڑا نشانِ عبرت ہیں۔ وہ والدین جنہوں نے اپنی جوانی، خون پسینہ اور خواہشات اپنی اولاد پر قربان کر دیں، آج اگر وہ بے یار و مددگار ہیں تو یہ ان جوانوں کے لیے لمحہ فکریہ ہے جو آج طاقتور ہیں۔ وقت کا پہیہ گھومتا ہے، اور جو بیج ہم آج بو رہے ہیں، کل وہی فصل ہمیں کاٹنی پڑے گی۔

نشانِ عبرت کسی جادوئی تماشے کا نام نہیں، بلکہ یہ ایک بیداری کی لہر ہے۔

جب ہم کسی جنازے کو جاتے دیکھیں تو وہ ہمارے لیے نشانِ عبرت ہے۔

جب ہم کسی امیر کو اچانک سڑک پر آتے دیکھیں تو وہ نشانِ عبرت ہے۔

جب ہم ایک پھلتے پھولتے درخت کو خزاں میں سوکھتے دیکھیں تو وہ نشانِ عبرت ہے۔

اگر ہم روزمرہ زندگی کے ان اشاروں کو سمجھ لیں، تو ہمارے اندر عاجزی پیدا ہوگی۔

ہم دوسروں کا دل دکھانا چھوڑ دیں گے اور ہماری زندگی میں وہ توازن پیدا ہوگا جو ہمیں ایک بہتر انسان بناتا ہے۔ عبرت کا تقاضا یہی ہے کہ ہم "منظر" سے گزر کر "بصیرت" تک پہنچیں،
۔

عبرت کا نشان محض کوئی کھنڈر، پرانی حویلی یا تاریخ کے صفحات میں دبی ہوئی کوئی داستان نہیں ہوتی، بلکہ یہ ایک زندہ پیغام ہے جو وقت کی دیوار پر جلی حروف میں لکھا ہوتا ہے۔

انسانی تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی غرور، ناانصافی اور بے حسی نے حدیں عبور کیں، قدرت نے اسی مقام پر کوئی نہ کوئی ایسی مثال قائم کر دی جو رہتی دنیا تک آنے والوں کے لیے "نشانِ عبرت" بن گئی۔

ایک خاموش سبق
جب ہم اپنے اردگرد نظر دوڑاتے ہیں تو ہمیں کئی ایسی نشانیاں ملتی ہیں جو پکار پکار کر کہہ رہی ہوتی ہیں کہ "کچھ بھی مستقل نہیں"۔

حکمران جو کبھی اپنی طاقت کے نشے میں زمین پر پاؤں نہیں رکھتے تھے، آج ان کے محلات میں الو بولتے ہیں۔ ان کے نام لینے والا کوئی نہیں رہا، اور اگر ہے بھی تو صرف ایک سبق کے طور پر۔

انسان عمر بھر جس مال و دولت اور جائیداد کے لیے جائز و ناجائز کی تمیز بھول جاتا ہے، وہ سب یہیں دھرا رہ جاتا ہے۔ خالی ہاتھ دنیا میں آنا اور خالی ہاتھ جانا، مادیت پرستی کے لیے سب سے بڑا نشانِ عبرت ہے۔

تاریخ کا مطالعہ بتاتا ہے کہ ظلم کی ٹہنی کبھی پھل نہیں لاتی۔ ظالم کو ملنے والی عبرت ناک سزا مظلوموں کے لیے تسلی اور آنے والوں کے لیے ڈر کا باعث بنتی ہے۔

عبرت کا تقاضا کیا ہے؟
عبرت کا مطلب صرف دوسروں کی تباہی دیکھ کر افسوس کرنا نہیں، بلکہ اپنے رویوں کی اصلاح کرنا ہے۔ اگر ہم کسی گرے ہوئے شخص یا اجڑے ہوئے خاندان کو دیکھ کر بھی اپنی روش نہیں بدلتے، تو ہم خود بھی اسی راستے پر گامزن ہیں۔

یہ جان لینا کہ ہر عروج کو زوال ہے، انسان کے اندر سے تکبر ختم کر دیتا ہے۔

کسی کا حق نہ مارنا اور معاشرتی اقدار کا احترام کرنا ہمیں نشانِ عبرت بننے سے بچاتا ہے۔

جو قومیں یا افراد گزرے ہوئے وقت اور حالات سے سبق نہیں سیکھتے، وہ خود تاریخ کا ایک عبرت ناک حصہ بن جاتے ہیں۔

نشانِ عبرت دراصل قدرت کا وہ آئینہ ہے جس میں ہم اپنا مستقبل دیکھ سکتے ہیں۔ شرط صرف اتنی ہے کہ ہمارے پاس وہ آنکھ ہو جو صرف منظر کو نہ دیکھے، بلکہ اس کے پیچھے چھپے ہوئے پسِ منظر اور انجام کو بھی پہچان سکے۔

دانش مند وہ نہیں جو خود  ٹھوکر کھا کر نشان عبرت بن جائے، بلکہ وہ ہے جو دوسروں کو نشان عبرت بنتا  دیکھ کر اپنا راستہ بدل لے۔

Comments

Popular posts from this blog

کالاباغ ڈیم پر اعتراض کا جواب۔​کالا باغ ڈیم چشمِ دید گواہی اور قومی ضرورت کا پکارتا سچ ​

ایک درخت، کئی نسلوں کی یادیں

ادھا چمچ ہلدئ کے فوائد۔