آوازیں کسنا, ٹوہ، تجسس اور اخلاقی پستی کا سفر

 





---روما محمود---




معاشرہ افراد کے مجموعے کا نام ہے اور ان افراد کا باہمی ربط و ضبط ہی کسی قوم کے اخلاقی معیار کا تعین کرتا ہے۔

لیکن بدقسمتی سے ہم ایک ایسے عہد میں جی رہے ہیں جہاں مروت، حیا اور دوسروں کی رازداری کا احترام ختم ہوتا جا رہا ہے۔



کسی کی زندگی میں جھانکنا، چھپ کر باتیں سننا اور پھر سرِ راہ آوازیں کسنا (Catcalling) ایک ایسی معاشرتی بیماری بن چکی ہے جس نے ہماری گلیوں، محلوں اور اب سوشل میڈیا کے پلیٹ فارمز کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔


سب سے پہلا مرحلہ ٹوہ لینا  تجسس یا بیماری؟


کسی کے ذاتی معاملات کی کھوج لگانا، جسے اردو میں "ٹوہ لینا" کہا جاتا ہے، دراصل اس اخلاقی گراوٹ کا نقطہ آغاز ہے۔ انسانی فطرت میں تجسس رکھا گیا ہے، لیکن جب یہ تجسس دوسروں کے گھروں کے حالات، ان کی آمدنی، ان کے باہمی تعلقات اور ان کی کمزوریوں کو تلاش کرنے کی سمت مڑ جائے، تو یہ ایک ذہنی مرض بن جاتا ہے۔


آج کے دور میں ٹوہ لینے کے طریقے بدل گئے ہیں۔ پہلے دیواروں کے ساتھ کان لگا کر دیکھا جاتا تھا کہ پڑوسی کے گھر میں کیا ہو رہا ہے، اب یہ کام "ڈیجیٹل جاسوسی" کے ذریعے کیا جاتا ہے۔ کسی کا واٹس ایپ اسٹیٹس چیک کرنا، فیس بک پروفائل کی گہرائی میں جا کر پرانی تصاویر کریدنا اور یہ معلوم کرنے کی کوشش کرنا کہ فلاں شخص کہاں گیا اور کس کے ساتھ بیٹھا، یہ سب اسی "ٹوہ" کے زمرے میں آتا ہے۔


فرمانِ نبوی ﷺ ہے: "دوسروں کے عیب تلاش نہ کرو اور نہ ہی ان کی ٹوہ میں رہو۔"



جب ہم کسی کی زندگی کی ٹوہ لیتے ہیں، تو ہم دراصل اپنی زندگی کے قیمتی لمحات کو حسد اور بغض کی نذر کر رہے ہوتے ہیں۔


دوسرا مرحلہ چھپ کر باتیں سننا ۔ امانت میں خیانت

ٹوہ لینے کے بعد اگلا خطرناک قدم "چھپ کر باتیں سننا" ہے۔


یہ فعل نہ صرف غیر اخلاقی ہے بلکہ انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی بھی ہے۔


جب دو افراد تنہائی میں بات کر رہے ہوتے ہیں، تو وہ اس اطمینان میں ہوتے ہیں کہ ان کی گفتگو محفوظ ہے۔ لیکن ایک تیسرا شخص، جو تجسس کا مارا ہے، جب چوری چھپے ان کی باتیں سنتا ہے تو وہ دراصل ان کے بھروسے کا قتل کرتا ہے۔


گھروں میں خفیہ کیمروں کے ذریعے یہ کام کیا جاتا ہے ۔


چھپ کر باتیں سننے کا عمل انسان کو "غیبت" اور "چغل خوری" کے دلدل میں دھکیل دیتا ہے۔

جو باتیں ادھوری سنی جاتی ہیں، وہ اکثر غلط فہمیوں کا باعث بنتی ہیں۔ پھر ان ادھوری باتوں میں اپنی طرف سے مرچ مصالحہ لگا کر معاشرے میں پھیلایا جاتا ہے، جس سے گھر ٹوٹتے ہیں اور دوستیاں دشمنیوں میں بدل جاتی ہیں۔


تیسرا مرحلہ۔ سرِ راہ آوازیں کسنا ۔ تذلیل کا انتہا پسندانہ روپ

ان تمام برائیوں کا سب سے بھیانک اور ظاہر پہلو "آوازیں کسنا" ہے۔ جب ٹوہ لینے اور باتیں سننے والا ذہن پختہ ہو جاتا ہے، تو وہ اس قدر بے باک ہو جاتا ہے کہ اسے سرِ عام کسی کی عزت اچھالنے میں کوئی عار محسوس نہیں ہوتی۔


آوازیں کسنا صرف سڑک پر چلتی خواتین کو ہراساں کرنے کا نام نہیں، بلکہ یہ کسی کی شکل و صورت، لباس، غربت یا معذوری کا تمسخر اڑانا بھی ہے۔


خواتین کی تذلیل۔ گلی محلوں کے کونوں پر کھڑے اوباش نوجوانوں کا گزرتی خواتین پر جملے چست کرنا ایک ایسا ناسور ہے جو خواتین کو عدم تحفظ کا شکار کر دیتا ہے۔


سوشل میڈیا پر جملے بازی۔ آج کل کمنٹ سیکشن (Comment Section) وہ مقام ہے جہاں لوگ نام بدل کر دوسروں کی پوسٹس پر زہریلے جملے کستے ہیں۔ یہ "ڈیجیٹل آوازیں کسنا" اصل زندگی سے زیادہ خطرناک ثابت ہو رہا ہے۔


نفسیاتی اور معاشرتی اثرات
جو شخص ان تینوں مراحل (ٹوہ، جاسوسی، جملے بازی) سے گزرتا ہے، وہ دراصل اپنی شخصیت کو کھو رہا ہوتا ہے۔ نفسیات دان کہتے ہیں کہ دوسروں کی زندگیوں میں حد سے زیادہ دلچسپی لینے والے لوگ اپنی زندگی میں ناکام اور تنہائی کا شکار ہوتے ہیں۔ وہ اپنی محرومیوں کا بدلہ دوسروں کو ذہنی اذیت دے کر لیتے ہیں۔


معاشرتی طور پر اس کا اثر یہ ہوتا ہے کہ
  لوگ ایک دوسرے سے ڈرنے لگتے ہیں۔


خاص طور پر خواتین اور کمزور طبقات گھر سے باہر نکلنے میں ہچکچاہٹ محسوس کرتے ہیں۔


نئی نسل یہ سمجھنے لگتی ہے کہ دوسروں کا مذاق اڑانا یا ان کی نجی زندگی پر تبصرہ کرنا کوئی بہت بڑی بہادری کا کام ہے۔


اس ناسور کا علاج کیا ہے؟

کسی بھی معاشرے کو ان برائیوں سے پاک کرنے کے لیے انفرادی اور اجتماعی کوششوں کی ضرورت ہوتی ہے۔

فلیٹوں کی بالکونیوں یا بلندی سے نیچے صحن میں بیٹھے ہوئے لوگوں کی نجی زندگی پر نظر رکھنا اور پھر کسی بچے کے ذریعے آوازیں کسوانا اخلاقی، سماجی اور انسانی پستی کی بدترین شکل ہے۔


یہ عمل نہ صرف اخلاقی طور پر قبیح ہے بلکہ یہ کئی نفسیاتی اور معاشرتی جرائم کا مجموعہ ہے۔


اس صورتحال کے مختلف پہلو درج ذیل ہیں۔


کسی بچے کو اس طرح کے گھناؤنے کام کے لیے استعمال کرنا اس بچے کے مستقبل کے ساتھ دشمنی ہے۔ بچہ جو دیکھتا اور سنتا ہے، وہی سیکھتا ہے۔ جب اسے دوسروں کی جاسوسی کرنے اور آوازیں کسنے پر لگایا جاتا ہے، تو
  اس کے دل سے احترامِ آدمیت ختم ہو جاتا ہے۔


بچہ بڑا ہو کر خود ایک معاشرتی ناسور (Bully) بن سکتا ہے۔


اس کی معصومیت چھین کر اسے نفرت اور عیب جوئی کے راستے پر ڈال دیا جاتا ہے۔


اپنے گھر کے صحن میں بیٹھنا ہر انسان کا بنیادی حق ہے جہاں وہ خود کو محفوظ تصور کرتا ہے۔ فلیٹوں کی بلندی سے کسی کے نجی لمحات کی "ٹوہ" لینا اور ان کی باتوں کو سننا صریحاً رازداری (Privacy) کی خلاف ورزی ہے۔


کسی کے گھر میں جھانکنا اور ان کی نجی باتوں کو ہتھیار بنا کر ان پر طنز کرنا اخلاقی دیوالیہ پن کی نشانی ہے۔


نفسیاتی اذیت (Psychological Harassment)
جب کسی کو معلوم ہوتا ہے کہ اسے اس کے اپنے ہی گھر میں مانیٹر کیا جا رہا ہے اور اس کی باتوں کا مذاق اڑایا جا رہا ہے، تو وہ شخص شدید ذہنی تناؤ اور عدم تحفظ کا شکار ہو جاتا ہے۔ یہ ہراسانی کی ایک ایسی قسم ہے جو انسان کو اپنے ہی گھر میں قیدی بنا دیتی ہے۔


گھر کی باتوں کو باہر اچھالنا یا ان پر آوازیں کسنا معاشرے میں فساد اور نفرت کا باعث بنتا ہے۔ یہ عمل
  پڑوسیوں کے درمیان اعتماد کو ختم کر دیتا ہے۔


لڑائی جھگڑوں اور خاندانی دشمنیوں کی بنیاد بنتا ہے۔

معاشرے میں ایک دوسرے کی ٹوہ لینے کے کلچر کو فروغ دیتا ہے جو کہ اسلامی اور اخلاقی تعلیمات کے سخت خلاف ہے۔

اسلام میں دوسروں کے عیب چھپانے اور ان کی رازداری کا احترام کرنے پر بہت زور دیا گیا ہے۔ کسی کے گھر میں جھانکنا یا ان کی نجی گفتگو کو بنیاد بنا کر انہیں رسوا کرنا گناہِ کبیرہ کے زمرے میں آتا ہے۔ کسی بچے کو اس گناہ میں شامل کرنا اس گناہ کی شدت کو مزید بڑھا دیتا ہے کیونکہ اس میں ایک معصوم ذہن کو بھی آلودہ کیا جا رہا ہوتا ہے۔


کسی کے نجی معاملات پر آوازیں کسنے کے لیے بچوں کا سہارا لینا بزدلی اور کم ظرفی کی انتہا ہے۔


یہ ایک ایسا عمل ہے جو نہ صرف مظلوم کو ذہنی اذیت دیتا ہے بلکہ کرنے والے کے اپنے خاندان اور بچوں کی تربیت کے کھوکھلے پن کو بھی ظاہر کرتا ہے۔ ایک مہذب معاشرے میں اس طرح کی حرکتوں کی کوئی گنجائش نہیں ہونی چاہیے۔


آوازیں کسنا یا کسی کی ٹوہ لینا محض ایک وقت گزاری نہیں بلکہ ایک تہذیب کا زوال ہے۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ ہر انسان کی ایک ذاتی حد (Boundary) ہوتی ہے، جس کا احترام ہم پر واجب ہے۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہماری مائیں، بہنیں اور خود ہماری اپنی عزت محفوظ رہے، تو ہمیں دوسروں کی عزتوں کا پاسبان بننا ہوگا۔

کیا  ایسا ہو سکتا ہے کہ آئندہ ہم اپنی زبان  اوراپنے عمل سے کسی کی دل آزاری نہ کریں۔

تجسس کو علم کی تلاش میں لگائیں، نہ کہ دوسروں کے عیب ڈھونڈنے میں۔

  وہ معاشرے کبھی ترقی نہیں کر سکتے جہاں لوگ راستوں پر چلنے والوں کی تذلیل کر کے خوشی محسوس کرتے ہوں۔

"احترامِ آدمیت ہی دراصل دین کی روح اور تہذیب کی معراج ہے۔"

Comments

Popular posts from this blog

کالاباغ ڈیم پر اعتراض کا جواب۔​کالا باغ ڈیم چشمِ دید گواہی اور قومی ضرورت کا پکارتا سچ ​

ایک درخت، کئی نسلوں کی یادیں

ادھا چمچ ہلدئ کے فوائد۔