یار تم تو بولتے ہی نہیں ہو!
---روما محمود---
یہ جملہ میں نے اپنی زندگی میں ہر ایک سے سنا ہے بار بار سنا ہے ۔
تم تو بولتی ہی نہیں ہو ۔
یہ تو بات ہی نہیں کرتی ۔
اصل بات یہ ہے کہ میں نے لوگوں کو مسلسل دوسروں کی برائی کرتے پایاہے ۔
لوگوں نے تو طعنہ دینا اپنا فرض ہی بنا لیا ہے ۔
فساد کی جڑ یہ زبان ہی ہے ۔
فلاں نے یہ کہہ دیا ۔
فلاں نے وہ کہا ۔
لڑائی جھگڑا فساد جھوٹ نفرتیں اسی زبان ہی کی مرہون منت ہیں ۔
"اسی لیے جواب جاہلاں، باشد خاموشی۔"
زندگی کا سب سے بڑا معجزہ یہ ہے کہ کچھ لوگ مسلسل بولتے رہتے ہیں، بولتے رہتے ہیں، بولتے رہتے ہیں ۔
جیسے ان کے منہ میں کوئی "آف" بٹن ہی نہیں لگا۔ وہ ایک سانس میں پوری دنیا کی سیاست، محلے کی چغلی، آفس کی گپ شپ، فیملی ڈرامہ، اور اپنی لائف سٹوری سناتے چلے جاتے ہیں۔
دوسرا شخص صرف سر ہلا رہا ہوتا ہے، کبھی کبھار "ہاں" یا "واہ" کا جملہ بھی نہیں نکال پاتا۔
پھر جب وہ بولنے والا تھک جاتا ہے یا سانس لینے کے لیے رکتا ہے، تو اچانک الزام لگاتا ہے۔
"یار تم تو بولتے ہی نہیں ہو! خاموش ہی رہتے ہو۔ بات کرنا بھی نہیں آتا تمہیں!"
ارے بھائی! تم نے تو مجھے بات کرنے کا موقع ہی کب دیا تھا؟
تم نے تو مجھے صرف "سننے والا آلہ" سمجھ رکھا ہے۔
جیسے میں کوئی ریکارڈر ہوں جو صرف تمہاری آواز ریکارڈ کرتا رہے۔ اور جب ریکارڈر نے کچھ نہیں بولا تو تم ناراض ہو گئے کہ "یہ تو خراب ہو گیا ہے"!
یہ ڈرامہ ہر جگہ چلتا ہے۔
گھر میں ماں بات کر رہی ہوتی ہے۔ باپ صرف "ہمم"، "اچھا"، "ٹھیک ہے" کہہ رہا ہوتا ہے۔
بہن پورا گھنٹہ بولتی رہتی ہے ۔
محلے والی کا کیا ہوا، بچوں کی فیس، دودھ والے کا بل، اور یہ کہ "تم کبھی میری بات نہیں سنتے"۔ پھر اچانک کہتیں ہیں۔
"تم تو بولتے ہی نہیں! کیا سوچ رہے ہو؟ مجھ سے بات نہیں کرنی؟"
شو
دل ہی دل میں سوچا جاتا ہے ۔
تم نے تو مجھے بولنے کا موقع ہی نہیں دیا۔
میں تو بس زندہ بچنے کی کوشش کر رہا تھا۔"
دوستوں کی محفل میں بھی یہی کھیل ہے۔ ایک دوست آتا ہے اور شروع ہو جاتا ہے۔"یار سنو، میری کمپنی میں کیا ہوا..." پھر پندرہ منٹ تک مسلسل monologue چلتا رہا۔
جب تھوڑا سا وقفہ ہوتا ہے تو وہ کہتا ہے: "تم لوگ تو آج بالکل خاموش ہو! کوئی بات ہی نہیں کر رہے۔ بورنگ لوگ ہو تم!"
یار، ہم تو تمہاری بات کا انتظار کر رہے تھے کہ کہیں تم رک جاؤ تو ہم بھی کچھ بولیں۔
مگر تم نے تو بات کو اینڈ ٹو اینڈ کر دیا، اب ہم کیا بولیں؟
"واہ یار، تم نے تو سب کچھ بتا دیا، اب ہماری طرف سے بس تالیاں بجائیں؟"
آفس میں میٹنگ کا منظر تو کلاسک ہے۔ باس یا کوئی سینئر مسلسل بول رہا ہوتا ہے۔
جونیئرز چپ چاپ بیٹھے ہیں۔
میٹنگ ختم ہوتے ہی وہ کہتا ہے: "تم لوگ تو کچھ بولتے ہی نہیں! کوئی آئیڈیا ہی نہیں ہے تمہارے پاس؟"
ارے جناب! آپ نے تو پورا وقت اپنے آئیڈیاز سنائے، ہمارے پاس تو سانس لینے کی جگہ بھی نہیں تھی۔ اب آئیڈیا کہاں سے لائیں؟
سماجی میڈیا پر بھی یہی حال ہے۔ کوئی دوست سٹوریز، پوسٹس، ریلیز، سب کچھ مسلسل شیئر کر رہا ہوتا ہے۔
جب آپ کوئی کمنٹ نہیں کرتے تو وہ پیغام بھیجتا ہے۔ "یار تم تو بالکل غائب ہو گئے ہو، بات بھی نہیں کرتے!"
بھائی، تمہاری پوسٹس دیکھ کر تو لگتا ہے تم پورا دن خود سے ہی بات کر رہے ہو۔ اب ہم کیا کہیں؟ "واہ یار، تم نے تو آج بھی خود کو سراہ لیا، بہت اچھا کیا!"
اصل بات یہ ہے کہ کچھ لوگوں کو لگتا ہے کہ بولنا ہی زندگی ہے۔
اگر کوئی خاموش ہے تو وہ ضرور "بورنگ"، "اداس" یا "بات کرنے والا نہیں" ہے۔ انہیں یہ خیال ہی نہیں آتا کہ شاید وہ شخص سن رہا ہو۔
یا شاید وہ سوچ رہا ہو کہ جب تم رک جاؤ گے تو وہ بھی کچھ کہے گا۔ مگر تم رکتے ہی نہیں۔
تو دوستو، اگلے مرتبہ جب کوئی تم سے کہے "یار تم تو بولتے ہی نہیں!" تو مسکرا کر جواب دینا۔
"بھائی، تم نے تو بات کا مونوپولی کھیل لیا ہے۔ اب میں کیا بولوں؟ تمہاری بات کا خلاصہ سناؤں؟"
یا پھر خاموش رہ کر صرف سر ہلا دینا۔ کیونکہ آخر کار وہ خود ہی کہے گا: "دیکھا، تم پھر خاموش ہو گئے!"
جو زیادہ بولتا ہے، وہ دوسروں کو خاموش کہتا ہے۔
اور جو خاموش رہتا ہے، وہ دراصل زندہ بچنے کی حکمت عملی اپنا رہا ہوتا ہے۔
اب بتائیں، آپ کی زندگی میں کون سا "مسلسل بولنے والا" ہے جو بعد میں آپ کو خاموش قرار دیتا ہے؟

Comments