جہاں رزق ہو، وہاں سرِ تسلیمِ خم ہوتا ہے۔
---روما محمود---
اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ انسان جس جگہ سے اپنا رزق وابستہ دیکھتا ہے، وہاں اس کی وفاداری، محنت اور برداشت کا معیار عام حالات سے بالکل مختلف ہوتا ہے۔ رزق کا تعلق صرف پیٹ بھرنے سے نہیں، بلکہ انسان کی بقا، سماجی عزت اور اس کے اپنوں کے خوابوں سے ہوتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ جہاں سے روزگار جڑا ہو، وہاں انسان اپنی انا، اپنی تھکن اور بسا اوقات اپنے اصولوں کو بھی پیچھے چھوڑ دیتا ہے۔
کہتے ہیں کہ پاؤں وہیں ٹکتے ہیں جہاں زمین ہموار ہو، لیکن انسان وہاں برسوں کھڑا رہتا ہے جہاں سے اس کا دانہ پانی جڑا ہو۔ یہ ایک ایسی آفاقی سچائی ہے جس نے تہذیبوں کو بسایا بھی اور انسان کو سمجھوتے کرنا بھی سکھائے۔
ایک عام آدمی کی زندگی کا بڑا حصہ اس تگ و دو میں گزر جاتا ہے کہ وہ اس "شجر" کو ہرا بھرا رکھے جس کے سائے میں اس کا گھرانہ پل رہا ہے۔
کسی بھی ادارے، دفتر یا کاروبار سے جب انسان کا معاشی مفاد وابستہ ہو جاتا ہے، تو وہ مقام محض ایک کام کی جگہ نہیں رہتا، بلکہ ایک ایسی پناہ گاہ بن جاتا ہے جس کی حفاظت وہ ہر قیمت پر کرنا چاہتا ہے۔
ہم نے دیکھا ہے کہ ایک خوددار انسان، جو باہر کی دنیا میں کسی کی تلخ بات برداشت نہیں کرتا، اپنے کام کی جگہ پر افسر کی ڈانٹ یا ساتھیوں کا نامناسب رویہ خاموشی سے پی جاتا ہے۔ یہ خاموشی بزدلی نہیں، بلکہ اس ذمہ داری کا احساس ہے جو اسے ہر مہینے کی پہلی تاریخ کو اپنے بچوں کے چہروں پر دیکھنی ہوتی ہے۔
جہاں سے روزگار جڑا ہو، وہاں انسان کیا کچھ نہیں کر جاتا؟
اپنے آرام کے گھنٹے، نیند اور خاندان کے ساتھ گزارے جانے والے قیمتی لمحات کو "اوور ٹائم" کی نذر کر دینا۔
تھکن سے چور جسم کے باوجود مسکراتے ہوئے کام کی تکمیل کرنا تاکہ معاشی تسلسل برقرار رہے۔
اپنے دکھ، پریشانیاں اور غصہ دفتر کی دہلیز سے باہر چھوڑ کر اندر داخل ہونا، کیونکہ روزگار کی جگہ "پروفیشنلزم" کا تقاضا کرتی ہے۔
تاہم، اس جدوجہد میں ایک باریک لکیر ہمیشہ موجود رہتی ہے۔ رزق سے جڑے رہنے کا مطلب یہ ہرگز نہیں ہونا چاہیے کہ انسان اپنی تذلیل کروائے یا غلط کاموں میں حصہ دار بنے۔
بہترین رویہ وہی ہے جہاں محنت اور وفاداری تو ہو، مگر اپنی عزتِ نفس کا سودا نہ ہو۔
ایک مضبوط معاشرہ وہی ہوتا ہے جہاں ملازم اپنے روزگار کے لیے صرف اپنی صلاحیتیں بیچے، اپنی خودداری نہیں۔
آخر میں بات وہیں آ جاتی ہے کہ رزق انسان کو بہت کچھ سکھا دیتا ہے۔ یہ ہمیں صابر بناتا ہے، ہمیں وقت کی پابندی سکھاتا ہے اور ہمیں یہ احساس دلاتا ہے کہ زندگی صرف اپنی ذات کا نام نہیں، بلکہ ان لوگوں کا نام بھی ہے جن کا مستقبل ہماری محنت سے جڑا ہے۔
جہاں سے پیسہ آئے، وہاں کے لیے انسان واقعی بہت کچھ کر جاتا ہے، بشرطیکہ وہ "بہت کچھ" اسے ایک بہتر انسان بنانے میں مددگار ثابت ہو۔
اس موضوع کی گہرائی میں اتریں تو یہ بات واضح ہوتی ہے کہ انسان اور اس کے روزگار کا رشتہ محض لین دین کا نہیں، بلکہ ایک جذباتی وابستگی کا بھی ہوتا ہے۔ جب ہم کہتے ہیں کہ انسان اپنے رزق کی خاطر "بہت کچھ" کر جاتا ہے، تو اس کے کچھ اور اہم پہلو بھی سامنے آتے ہیں۔
رزق کے لیے کی جانے والی تگ و دو دراصل ایک خاموش عبادت ہے، لیکن اس راستے میں انسان کو جن کٹھن مراحل سے گزرنا پڑتا ہے، وہ صرف وہی جانتا ہے جو صبح سویرے گھر سے نکلتا اور رات گئے تھکا ہارا واپس لوٹتا ہے۔
انسان فطرتاً آزاد پیدا ہوا ہے، لیکن جہاں سے اس کا پیسہ جڑا ہو، وہ وہاں کے نظم و ضبط (Discipline) میں خود کو ایسے ڈھال لیتا ہے جیسے سانچے میں موم۔ وہ اپنی پسند ناپسند کو بالائے طاق رکھ کر اس ماحول کا حصہ بن جاتا ہے جسے شاید وہ عام زندگی میں کبھی قبول نہ کرتا۔ یہ "مطابقت" (Adaptability) دراصل اس کی بقا کی جنگ کا حصہ ہے۔
رزق کی خاطر انسان کیا کچھ نہیں کر جاتا؟ وہ اپنا شہر، اپنا گھر اور اپنے بوڑھے والدین تک چھوڑ کر پردیس بسا لیتا ہے۔ وہ میلوں کا سفر طے کرتا ہے، تپتی دھوپ اور کڑکتی سردی کا سامنا کرتا ہے، صرف اس لیے کہ اس کے گھر کا چولہا جلتا رہے۔ یہ ہجرتیں اور یہ دوریاں اس بات کی گواہی ہیں کہ انسان اپنے روزگار کے مرکز کو کتنی اہمیت دیتا ہے۔
اپنے کام کی جگہ پر خود کو ناگزیر بنانے کے لیے انسان دن رات ایک کر دیتا ہے۔ وہ نیا ہنر سیکھتا ہے، اپنی صلاحیتوں کو نکھارتا ہے اور جدید تقاضوں کے مطابق خود کو اپ ڈیٹ رکھتا ہے۔ یہ محنت صرف ترقی کے لیے نہیں ہوتی، بلکہ اس خوف کے خلاف ایک ڈھال ہوتی ہے کہ کہیں اس کا رزق کسی دوسرے کے ہاتھ نہ چلا جائے۔
کئی بار کام کی جگہ پر ایسی صورتحال پیدا ہوتی ہے جہاں حق بات کہنا مشکل ہو جاتا ہے۔ وہاں انسان کی خاموشی مصلحت پسندی نہیں بلکہ اس کے اپنوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ وہ جانتا ہے کہ اس کی ایک جذباتی غلطی یا زبان کی لغزش پورے خاندان کے معاشی ڈھانچے کو ہلا کر رکھ سکتی ہے۔
جہاں سے روزگار وابستہ ہو، وہاں کی خیر خواہی انسان کے خون میں شامل ہونی چاہیے۔ لیکن اس "بہت کچھ" کرنے کی دوڑ میں یہ یاد رکھنا ضروری ہے کہ رزق اللہ کی دین ہے اور انسان کا اصل سرمایہ اس کا کردار ہے۔
اگر کام کی جگہ پر محنت کے ساتھ دیانتداری بھی شامل ہو جائے، تو وہی روزگار برکت بن جاتا ہے اور انسان کو وہ سکون فراہم کرتا ہے جو دنیا کے کسی خزانے میں نہیں۔

Comments